سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب ترك السلام على أهل الأهواء
باب: اہل بدعت کو سلام نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4602
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ سُمَيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" أَنَّهُ اعْتَلَّ بَعِيرٌ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ وَعِنْدَ زَيْنَبَ فَضْلُ ظَهْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْنَبَ: أَعْطِيهَا بَعِيرًا، فَقَالَتْ: أَنَا أُعْطِي تِلْكَ الْيَهُودِيَّةَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَجَرَهَا ذَا الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمَ وَبَعْضَ صَفَرٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا ایک اونٹ بیمار ہو گیا اور ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ایک فاضل سواری تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب سے فرمایا: ”تم اسے ایک اونٹ دے دو“ وہ بولیں: میں اس یہودن کو دے دوں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور ذی الحجہ، محرم اور صفر کے چند دنوں تک ان سے بات چیت ترک رکھی۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4602]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 17845)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/132، 261، 338) (ضعیف)» (اس کی راویہ سمیہ لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5049)
مشكوة المصابيح (5049)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥سمية البصرية سمية البصرية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | مقبول | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← سمية البصرية | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة موسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4602
| أعطيها بعيرا فقالت أنا أعطي تلك اليهودية فغضب رسول الله فهجرها ذا الحجة والمحرم وبعض صفر |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4602 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4602
فوائد ومسائل:
1۔
آپ کا یہ مقاطعہ اس وجہ سے تھا کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہ نے اسلامی آداب کو ملحوظ نہ رکھاتھا۔
2۔
کسی مسلمان کو اس کے گزشتہ دین کی بنیاد پر یہودی یا کافر کہنا حرام ہے۔
3۔
بلاوجہ عار دلانا بھی بہت بڑاعیب اور گناہ ہے۔
4۔
بلا عذر ضرورت کی چیز اپنے مسلمان بھائی کو نہ دینا بد اخلاقی ہے سورۃالماعون میں یہ مسئلہ خصوصیت سے بیان ہوا ہے۔
5۔
شرعی بنیاد پر مقاطعہ کیا جائے تو تین دن سے زائد عرصہ کے لیے بھی جائز ہے۔
1۔
آپ کا یہ مقاطعہ اس وجہ سے تھا کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہ نے اسلامی آداب کو ملحوظ نہ رکھاتھا۔
2۔
کسی مسلمان کو اس کے گزشتہ دین کی بنیاد پر یہودی یا کافر کہنا حرام ہے۔
3۔
بلاوجہ عار دلانا بھی بہت بڑاعیب اور گناہ ہے۔
4۔
بلا عذر ضرورت کی چیز اپنے مسلمان بھائی کو نہ دینا بد اخلاقی ہے سورۃالماعون میں یہ مسئلہ خصوصیت سے بیان ہوا ہے۔
5۔
شرعی بنیاد پر مقاطعہ کیا جائے تو تین دن سے زائد عرصہ کے لیے بھی جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4602]
سمية البصرية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق