🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. باب فِي الْخُلَفَاءِ
باب: خلفاء کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4652
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ مَوْلَى آلِ جَعْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَرَانِي بَابَ الْجَنَّةِ الَّذِي تَدْخُلُ مِنْهُ أُمَّتِي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ مَعَكَ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا إِنَّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا، اور مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری امت داخل ہو گی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میری خواہش ہے کہ آپ کے ساتھ میں بھی ہوتا تاکہ میں اسے دیکھتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اے ابوبکر! میری امت میں سے تم ہی سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4652]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے، میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھلایا جس میں سے میری امت داخل ہو گی۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں پسند کرتا ہوں کاش میں بھی آپ کے ساتھ ہوتا حتیٰ کہ اسے دیکھ لیتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اے ابوبکر! یقیناً میری امت کے وہ فرد ہو جو سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4652]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14880) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ابوخالد مولی آل جعدہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو خالد،مولي آل جعدة : مجهول (تق : 8074)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4653
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں ان لوگوں میں سے کوئی بھی داخل نہیں ہو گا، جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی (یعنی صلح حدیبیہ کے وقت بیعت رضوان میں شریک رہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4653]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی ہے ان میں سے کوئی بھی آگ میں داخل نہیں ہو گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4653]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/المناقب 58 (3860)، (تحفة الأشراف: 2918)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/350) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (3860 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4654
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مُوسَى: فَلَعَلَّ اللَّهَ، وَقَالَ ابْنُ سِنَانٍ:" اطَّلَعَ اللَّهُ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (موسیٰ کی روایت میں «فلعل الله» کا لفظ ہے، اور ابن سنان کی روایت میں «اطلع الله» ہے) اللہ تعالیٰ بدر والوں کی طرف متوجہ ہوا اور انہیں نظر رحمت و مغفرت سے دیکھا تو فرمایا: جو عمل چاہو کرو میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4654]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر نظر فرمائی ہے اور کہا ہے کہ جو چاہے عمل کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4654]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: 2650، (تحفة الأشراف: 12809)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/295) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان اصحاب بدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کے بعد کوئی عمل اللہ کی منشاء کے خلاف بھی ہو جائے تو وہ ان سے باز پرس نہ فرمائے گا کیونکہ ان کو معاف کر چکا ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ان کو بداعمالیوں کی اجازت دی جا رہی ہے یا یہ کہ ان سے دنیا میں بھی باز پرس نہ ہو گی بلکہ اگر خدانخواستہ وہ دنیا میں کوئی عمل قابل حد کر بیٹھے تو حد جاری کی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4655
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَوْرٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَأَتَاهُ يَعْنِي عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُلَّمَا كَلَّمَهُ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ، وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ السَّيْفُ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ فَضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ، وَقَالَ: أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَتِهِ، فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ".
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے زمانے میں نکلے، پھر راوی نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ آپ کے پاس وہ یعنی عروہ بن مسعود آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا، جب وہ آپ سے بات کرتا، تو آپ کی ڈاڑھی پر ہاتھ لگاتا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے، ان کے پاس تلوار تھی اور سر پر خود، انہوں نے تلوار کے پر تلے کے نچلے حصہ سے اس کے ہاتھ پر مارا اور کہا: اپنا ہاتھ ان کی ڈاڑھی سے دور رکھ، عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور بولا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: مغیرہ بن شعبہ ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4655]
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے دنوں میں روانہ ہوئے، اور حدیث بیان کی، کہا کہ پھر (مشرکین کی طرف سے) عروہ بن مسعود آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے لگا اور اس اثنا میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی مبارک کو بھی ہاتھ لگاتا تھا۔ جبکہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر کھڑے ہوئے تھے، ان کے ہاتھ میں تلوار اور سر پر خود تھی۔ تو انہوں نے اپنی تلوار کے دستے سے عروہ کے ہاتھ کو ٹھوکا دیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی مبارک سے اپنا ہاتھ دور رکھ۔ عروہ نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور پوچھا: یہ کون ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4655]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (2765)، (تحفة الأشراف: 11270) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديثين السابقين (2765، 2766)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4656
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيَّ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ،عَنِ الْأَقْرَعِ مُؤَذِّنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ:" بَعَثَنِي عُمَرُ إِلَى الْأُسْقُفِّ فَدَعَوْتُهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: وَهَلْ تَجِدُنِي فِي الْكِتَابِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: كَيْفَ تَجِدُنِي؟ قَالَ: أَجِدُكَ قَرْنًا فَرَفَعَ عَلَيْهِ الدِّرَّةَ، فَقَالَ: قَرْنٌ مَهْ؟ فَقَالَ: قَرْنٌ حَدِيدٌ أَمِينٌ شَدِيدٌ، قَالَ: كَيْفَ تَجِدُ الَّذِي يَجِيءُ مِنْ بَعْدِي؟ فَقَالَ: أَجِدُهُ خَلِيفَةً صَالِحًا غَيْرَ أَنَّهُ يُؤْثِرُ قَرَابَتَهُ، قَالَ عُمَرُ: يَرْحَمُ اللَّهُ عُثْمَانَ ثَلَاثًا، فَقَالَ: كَيْفَ تَجِدُ الَّذِي بَعْدَهُ؟ قَالَ: أَجِدُهُ صَدَأَ حَدِيدٍ، فَوَضَعَ عُمَرُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ: يَا دَفْرَاهُ يَا دَفْرَاهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهُ خَلِيفَةٌ صَالِحٌ، وَلَكِنَّهُ يُسْتَخْلَفُ حِينَ يُسْتَخْلَفُ وَالسَّيْفُ مَسْلُولٌ وَالدَّمُ مُهْرَاقٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الدَّفْرُ النَّتْنُ.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مؤذن اقرع کہتے ہیں مجھے عمر نے ایک پادری کے پاس بلانے کے لیے بھیجا، میں اسے بلا لایا، تو عمر نے اس سے کہا: کیا تم کتاب میں مجھے (میرا حال) پاتے ہو؟ وہ بولا: ہاں، انہوں نے کہا: کیسا پاتے ہو؟ وہ بولا: میں آپ کو قرن پاتا ہوں، تو انہوں نے اس پر درہ اٹھایا اور کہا: قرن کیا ہے؟ وہ بولا: لوہے کی طرح مضبوط اور سخت امانت دار، انہوں نے کہا: جو میرے بعد آئے گا تم اسے کیسے پاتے ہو؟ وہ بولا: میں اسے نیک خلیفہ پاتا ہوں، سوائے اس کے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو ترجیح دے گا، عمر نے کہا: اللہ عثمان پر رحم کرے، (تین مرتبہ) پھر کہا: ان کے بعد والے کو تم کیسے پاتے ہو؟ وہ بولا: وہ تو لوہے کا میل ہے (یعنی برابر تلوار سے کام رہنے کی وجہ سے ان کا بدن اور ہاتھ گویا دونوں ہی زنگ آلود ہو جائیں گے) عمر نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا، اور فرمایا: اے گندے! بدبودار (تو یہ کیا کہتا ہے) اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! وہ ایک نیک خلیفہ ہو گا لیکن جب وہ خلیفہ بنایا جائے گا تو حال یہ ہو گا کہ تلوار بے نیام ہو گی، خون بہہ رہا ہو گا، (یعنی اس کی خلافت فتنہ کے وقت ہو گی)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «الدفر» کے معنی «نتن» یعنی بدبو کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4656]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مؤذن جناب اقرع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے عیسائیوں کے مذہبی سردار کے پاس بھیجا، میں اسے بلا لایا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: کیا تم اپنی کتاب میں میرا ذکر پاتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ پوچھا: کیسے؟ اس نے کہا: میں پاتا ہوں کہ آپ ایک «قَرْنٌ» ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا درہ اس پر بلند کیا اور پوچھا: «قَرْن» سے کیا مراد ہے؟ اس نے کہا: بہت سخت فولادی قلعہ، انتہائی امین۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: جو میرے بعد آئے گا اس کے بارے میں کیا پاتے ہو؟ اس نے کہا: وہ ایک صالح خلیفہ ہو گا، صرف اتنا ہو گا کہ وہ اپنے قرابت داروں کو ترجیح دے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے، تین بار کہا۔ پھر پوچھا: ان کے بعد جو آئے گا اس کے بارے میں کیا پاتے ہو؟ اس نے کہا: میں اسے پاتا ہوں کہ وہ لوہے کا زنگ ہو گا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا اور کہا: اے بدبودار! اے بدبودار! (کیا کہہ رہے ہو؟) تو اس نے کہا: امیر المؤمنین! یہ صالح خلیفہ ہو گا مگر جب اسے یہ منصب ملے گا تو تلواریں نکلی ہوئی ہوں گی اور خون بہائے جا رہے ہوں گے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ «الدَّفْرُ» کے معنی بدبو کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4656]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10408) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (عیسائی پادری کے قول کا کیا اعتبار؟)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الأقرع مؤذن عمر بن الخطاب: ثقة، وحماد بن سلمة سمع من الجريري قبل اختلاطه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں