🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. باب فِي الْخُلَفَاءِ
باب: خلفاء کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4642
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ. ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خَالِدٍ الضَّبِّيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَخْطُبُ، فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ:" رَسُولُ أَحَدِكُمْ فِي حَاجَتِهِ أَكْرَمُ عَلَيْهِ أَمْ خَلِيفَتُهُ فِي أَهْلِهِ؟ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي لِلَّهِ: عَلَيَّ أَلَّا أُصَلِّيَ خَلْفَكَ صَلَاةً أَبَدًا، وَإِنْ وَجَدْتُ قَوْمًا يُجَاهِدُونَكَ لَأُجَاهِدَنَّكَ مَعَهُمْ، زَادَ إِسْحَاق فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: فَقَاتَلَ فِي الْجَمَاجِمِ حَتَّى قُتِلَ".
ربیع بن خالد ضبی کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو خطبہ دیتے سنا، اس نے اپنے خطبے میں کہا: تم میں سے کسی کا پیغام بر جو اس کی ضرورت سے (پیغام لے جا رہا) ہو زیادہ درجے والا ہے، یا وہ جو اس کے گھربار میں اس کا قائم مقام اور خلیفہ ہو؟ تو میں نے اپنے دل میں کہا: اللہ کا میرے اوپر حق ہے کہ میں تیرے پیچھے کبھی نماز نہ پڑھوں، اور اگر مجھے ایسے لوگ ملے جو تجھ سے جہاد کریں تو میں ضرور ان کے ساتھ تجھ سے جہاد کروں گا۔ اسحاق نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: چنانچہ انہوں نے جماجم میں جنگ کی یہاں تک کہ مارے گئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4642]
ربیع بن خالد ضبی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے حجاج (حجاج بن یوسف) کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، اس نے اپنے خطبے میں کہا: ہم میں سے کسی کا قاصد جو اس کے کسی کام میں مشغول ہو، وہ اس کے لیے زیادہ محترم ہوتا ہے یا اس کا وہ نائب جو اس کے اہل میں ٹھہرا ہوا ہو؟ پس میں نے اپنے دل میں کہا: مجھ پر اللہ کے لیے یہ نذر ہے کہ اب تیرے پیچھے کبھی نماز نہیں پڑھوں گا، اور اگر مجھے کچھ لوگ مل گئے جو تیرے خلاف جہاد کرتے ہوں تو میں ان کے ساتھ مل کر بالضرور جہاد کروں گا۔ اسحاق رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں مزید کہا: چنانچہ اس نے (ربیع بن خالد نے حجاج کے خلاف دیر) جماجم کے قتال میں حصہ لیا حتیٰ کہ قتل ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4642]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18632) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مغيرة بن مقسم الضبي عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4643
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ:" اتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ لَيْسَ فِيهَا مَثْنَوِيَّةٌ، وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لَيْسَ فِيهَا مَثْنَوِيَّةٌ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَاللَّهِ لَوْ أَمَرْتُ النَّاسَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنْ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَخَرَجُوا مِنْ بَابٍ آخَرَ لَحَلَّتْ لِي دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ، وَاللَّهِ لَوْ أَخَذْتُ رَبِيعَةَ بِمُضَرَ لَكَانَ ذَلِكَ لِي مِنَ اللَّهِ حَلَالًا، وَيَا عَذِيرِي مِنْ عَبْدِ هُذَيْلٍ يَزْعُمُ أَنَّ قِرَاءَتَهُ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا هِيَ إِلَّا رَجَزٌ مِنْ رَجَزِ الْأَعْرَابِ مَا أَنْزَلَهَا اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ عَلَيْهِ السَّلَام، وَعَذِيرِي مِنْ هَذِهِ الْحَمْرَاءِ يَزْعُمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَرْمِي بِالْحَجَرِ، فَيَقُولُ إِلَى أَنْ يَقَعَ الْحَجَرُ: قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ، فَوَاللَّهِ لَأَدَعَنَّهُمْ كَالْأَمْسِ الدَّابِرِ"، قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لِلْأَعْمَشِ، فَقَالَ: أَنَا وَاللَّهِ سَمِعْتُهُ مِنْهُ.
عاصم کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو منبر پر کہتے سنا: جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرو، اس میں کوئی شرط یا استثناء نہیں ہے، امیر المؤمنین عبدالملک کی بات سنو اور مانو، اس میں بھی کوئی شرط اور استثناء نہیں ہے، اللہ کی قسم، اگر میں نے لوگوں کو مسجد کے ایک دروازے سے نکلنے کا حکم دیا پھر وہ لوگ کسی دوسرے دروازے سے نکلے تو ان کے خون اور ان کے مال میرے لیے حلال ہو جائیں گے، اللہ کی قسم! اگر مضر کے قصور پر میں ربیعہ کو پکڑ لوں، تو یہ میرے لیے اللہ کی جانب سے حلال ہے، اور کون مجھے عبدہذیل (عبداللہ بن مسعود ہذلی) کے سلسلہ میں معذور سمجھے گا جو کہتے ہیں کہ ان کی قرآت اللہ کی طرف سے ہے قسم اللہ کی، وہ سوائے اعرابیوں کے رجز کے کچھ نہیں، اللہ نے اس قرآت کو اپنے نبی علیہ السلام پر نہیں نازل فرمایا، اور کون ان عجمیوں کے سلسلہ میں مجھے معذور سمجھے گا جن میں سے کوئی کہتا ہے کہ وہ پتھر پھینک رہا ہے، پھر کہتا ہے، دیکھو پتھر کہاں گرتا ہے؟ (فساد کی بات کہہ کر دیکھتا ہے کہ دیکھوں اس کا کہاں اثر ہوتا ہے) اور کچھ نئی بات پیش آئی ہے، اللہ کی قسم، میں انہیں اسی طرح نیست و نابود کر دوں گا، جیسے گزشتہ کل ختم ہو گیا (جو اب کبھی نہیں آنے والا)۔ عاصم کہتے ہیں: میں نے اس کا تذکرہ اعمش سے کیا تو وہ بولے: اللہ کی قسم میں نے بھی اسے، اس سے سنا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4643]
عاصم سے مروی ہے کہ میں نے حجاج سے سنا، وہ برسرِ منبر کہہ رہا تھا: ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ [سورة التغابن: 16] اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جہاں تک ہمت پاؤ، اس میں کوئی استثنا نہیں۔ امیر المؤمنین عبدالملک (عبدالملک بن مروان) کی بات سنو اور اطاعت کرو، اس میں کوئی استثنا نہیں۔ اللہ کی قسم! اگر میں لوگوں کو حکم دوں کہ مسجد کے فلاں دروازے سے باہر جاؤ اور وہ دوسرے کسی دروازے سے باہر نکلیں تو میرے لیے ان کے خون اور مال حلال ہوں گے۔ اللہ کی قسم! اگر میں مضر کے بدلے قبیلہ ربیعہ کی گرفت کروں تو یہ میرے لیے اللہ کی طرف سے حلال ہے۔ اور کون ہے جو مجھے ہذیل کے غلام (اشارہ ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کی طرف سے معذور جانے، اس کا خیال ہے کہ اس کی قرآت اللہ کی طرف سے ہے۔ اللہ کی قسم! یہ (اس کی قراءت) تو بدویوں کے رجز (چھوٹے چھوٹے شعروں) کی مانند ہے۔ اللہ نے اسے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل نہیں کیا ہے۔ اور کون ہے جو مجھے ان عجمیوں سے معذور جانے، ان میں سے کوئی پتھر پھینک دیتا ہے (فتنے کی بات کر دیتا ہے) پھر کہتا ہے دیکھو یہ کہاں تک جاتا ہے۔ اللہ کی قسم! میں انہیں کلِ ماضی کی مانند کر کے رکھ دوں گا (نیست و نابود کر دوں گا)۔ راوی نے کہا کہ میں نے یہ واقعہ اعمش کو بیان کیا تو اس نے کہا: میں نے بھی اللہ کی قسم! اسے اس سے سنا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4643]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18851) (صحیح)» ‏‏‏‏ (یہ حجاج بن یوسف کا کلام ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4644
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ:" هَذِهِ الْحَمْرَاءُ هَبْرٌ هَبْرٌ، أَمَا وَاللَّهِ لَوْ قَدْ قَرَعْتُ عَصًا بِعَصًا لَأَذَرَنَّهُمْ كَالْأَمْسِ الذَّاهِبِ، يَعْنِي الْمَوَالِيَ".
اعمش کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو منبر پر کہتے سنا: یہ گورے (عجمی) قیمہ بنائے جانے کے قابل ہیں قیمہ، موالی (غلامو) سنو، اللہ کی قسم، اگر میں لکڑی پر لکڑی ماروں تو انہیں اسی طرح برباد کر کے رکھ دوں جس طرح گزرا ہوا کل ختم ہو گیا، یعنی عجمیوں کو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4644]
میں نے حجاج سے سنا وہ منبر پر کھڑا کہہ رہا تھا: یہ عجمی کاٹ ڈالے جانے کے لائق ہیں۔ اللہ کی قسم! میں نے اگر لاٹھی کو لاٹھی پر مارا تو ان لوگوں کو ماضی کی مانند کر چھوڑوں گا (نیست و نابود کر دوں گا)۔ اس کا اشارہ غیر عرب لوگوں کی طرف تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4644]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18784) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4645
حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، قَالَ: جَمَّعْتُ مَعَ الْحَجَّاجِ فَخَطَبَ، فَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، قَالَ فِيهَا:" فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لِخَلِيفَةِ اللَّهِ، وَصَفِيِّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ"، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَلَوْ أَخَذْتُ رَبِيعَةَ بِمُضَرَ، وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْحَمْرَاءِ.
سلیمان الاعمش کہتے ہیں میں نے حجاج کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی، اس نے خطبہ دیا، پھر راوی ابوبکر بن عیاش والی روایت (۴۶۴۳) ذکر کی، اس میں ہے کہ اس نے کہا: سنو اور اللہ کے خلیفہ اور اس کے منتخب عبدالملک بن مروان کی اطاعت کرو، اس کے بعد آگے کی حدیث بیان کی اور کہا: اگر میں مضر کے جرم میں ربیعہ کو پکڑوں (تو یہ غلط نہ ہو گا) اور عجمیوں والی بات کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4645]
شریک نے سلیمان اعمش سے روایت کیا، انہوں نے کہا: میں نے حجاج کے ساتھ جمعہ پڑھا تو اس نے خطبہ دیا، اور ابوبکر بن عیاش والی (مذکورہ بالا) حدیث (4643) بیان کی۔ اس نے کہا: اللہ کے خلیفہ اور اس کے منتخب عبدالملک بن مروان کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ اور حدیث بیان کی۔ مزید کہا: اور اگر میں مضر کے بدلے ربیعہ کی گرفت کروں۔ اور عجمیوں کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4645]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر رقم: (4643)، (تحفة الأشراف: 18851) (صحیح إلی الحجاج)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح إلى الحجاج الظالم
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شريك القاضي مدلس وعنعن
والحديث السابق (الأصل : 4643) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4646
حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ ثَلَاثُونَ سَنَةً، ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ أَوْ مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ"، قَالَ سَعِيدٌ: قَالَ لِي سَفِينَةُ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ أَبَا بَكْرٍ سَنَتَيْنِ، وَعُمَرُ عَشْرًا،وَعُثْمَانُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ وَعَلِيٌّ كَذَا، قَالَ سَعِيدٌ: قُلْتُ لِسَفِينَةَ: إِنَّ هَؤُلَاءِ يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام لَمْ يَكُنْ بِخَلِيفَةٍ، قَالَ: كَذَبَتْ أَسْتَاهُ بَنِي الزَّرْقَاءِ، يَعْنِي بَنِي مَرْوَانَ.
سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خلافت علی منہاج النبوۃ (نبوت کی خلافت) تیس سال رہے گی ۱؎، پھر اللہ تعالیٰ سلطنت یا اپنی سلطنت جسے چاہے گا دے گا سعید کہتے ہیں: سفینہ نے مجھ سے کہا: اب تم شمار کر لو: ابوبکر رضی اللہ عنہ دو سال، عمر رضی اللہ عنہ دس سال، عثمان رضی اللہ عنہ بارہ سال، اور علی رضی اللہ عنہ اتنے سال۔ سعید کہتے ہیں: میں نے سفینہ رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ لوگ (مروانی) کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ خلیفہ نہیں تھے، انہوں نے کہا: بنی زرقاء یعنی بنی مروان کے ۲؎ چوتڑ جھوٹ بولتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4646]
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام) سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبوت کی خلافت تیس سال رہے گی، پھر اللہ تعالیٰ اپنا ملک جسے چاہے گا عنایت کرے گا۔ سعید بن جمہان نے کہا کہ سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: حساب لگا لو، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دو سال، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دس سال اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارہ سال اور اسی طرح کچھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ۔ سعید کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ یہ بنو مروان سمجھتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ نہ تھے تو انہوں نے کہا: بنی زرقاء کے پچھلے حصوں نے جھوٹ بولا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الفتن 48 (2226)، (تحفة الأشراف: 4480)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/221) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت: دو سال، تین ماہ، دس دن، عمر رضی اللہ عنہ کی: دس سال، چھ ماہ، آٹھ دن، عثمان رضی اللہ عنہ کی: گیارہ سال، گیارہ ماہ، نو دن، علی رضی اللہ عنہ کی: چار سال، نو ماہ، سات دن، حسن رضی اللہ عنہ کی: سات ماہ، کل مجموعہ: تیس سال ایک ماہ۔
۲؎: زرقاء بنی امیہ کی امّہات میں سے ایک خاتون کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5395)
أخرجه الترمذي (2226 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4647
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ ثَلَاثُونَ سَنَةً، ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ أَوْ مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ".
سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خلافت علی منہاج النبوۃ (نبوت کی خلافت) تیس سال ہے، پھر اللہ تعالیٰ سلطنت جسے چاہے گا یا اپنی سلطنت جسے چاہے گا، دے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4647]
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبوت کی خلافت تیس سال تک رہے گی، پھر اللہ تعالیٰ اپنا ملک جسے چاہے گا دے دے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4647]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 4480) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (4646)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4648
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ، وَسُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ رَجُلًا فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ فُلَانٌ الْكُوفَةِ أَقَامَ فُلَانٌ خَطِيبًا، فَأَخَذَ بِيَدِي سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ: أَلَا تَرَى إِلَى هَذَا الظَّالِمِ، فَأَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ إِنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ، وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَمْ إِيثَمْ، قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: وَالْعَرَبُ تَقُولُ: آثَمُ، قُلْتُ: وَمَنِ التِّسْعَةُ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حِرَاءٍ:" اثْبُتْ حِرَاءُ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ، قُلْتُ: وَمَنِ التِّسْعَةُ؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ،وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي، وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، قُلْتُ: وَمَنِ الْعَاشِرُ؟ فَتَلَكَّأَ هُنَيَّةً، ثُمَّ قَالَ: أَنَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنِ ابْنِ حَيَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
عبداللہ بن ظالم مازنی کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: جب فلاں شخص کوفہ میں آیا تو فلاں شخص خطبہ کے لیے کھڑا ہوا ۱؎، سعید بن زید نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: ۲؎ کیا تم اس ظالم ۳؎ کو نہیں دیکھتے ۴؎ پھر انہوں نے نو آدمیوں کے بارے میں گواہی دی کہ وہ جنت میں ہیں، اور کہا: اگر میں دسویں شخص (کے جنت میں داخل ہونے) کی گواہی دوں تو گنہگار نہ ہوں گا، (ابن ادریس کہتے ہیں: عرب لوگ ( «إیثم» کے بجائے) «آثم» کہتے ہیں)، میں نے پوچھا: اور وہ نو کون ہیں؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس وقت آپ حراء (پہاڑی) پر تھے: حراء ٹھہر جا (مت ہل) اس لیے کہ تیرے اوپر نبی ہے یا صدیق ہے یا پھر شہید میں نے عرض کیا: اور نو کون ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم، میں نے عرض کیا: اور دسواں آدمی کون ہے؟ تو تھوڑا ہچکچائے پھر کہا: میں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اشجعی نے سفیان سے، سفیان نے منصور سے، منصور نے ہلال بن یساف سے، ہلال نے ابن حیان سے اور ابن حیان نے عبداللہ بن ظالم سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4648]
جناب عبداللہ بن ظالم مازنی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: جب فلاں کوفے میں آیا اور اس نے فلاں کو خطبے میں کھڑا کیا (عبداللہ نے کہا) تو سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے میرے ہاتھ دبائے اور کہا: کیا تم اس ظالم (خطیب) کو نہیں دیکھتے ہو؟ (غالباً وہ خطیب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ کہہ رہا تھا۔) میں نو افراد کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنتی ہیں، اگر دسویں کے بارے میں کہوں تو گناہ گار نہیں ہوں گا۔ابن ادریس نے کہا: عرب لوگ «آثِمٌ» کا لفظ بولتے ہیں (جبکہ سیدنا سعید نے «لَمْ آثَمْ» کہا)۔ عبداللہ کہتے ہیں، میں نے پوچھا: وہ نو افراد کون سے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حراء پر کھڑے ہوئے تھے: اے حراء ٹھہر جا! تجھ پر سوائے نبی کے یا صدیق کے یا شہید کے اور کوئی نہیں ہے۔ میں نے کہا: اور وہ نو کون کون ہیں؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، (مالک) اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم۔ میں نے پوچھا: اور دسواں کون ہے؟ تو وہ لمحے بھر کے لیے ٹھٹھکے پھر کہا: میں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو اشجعی نے سفیان سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ہلال بن یساف سے، انہوں نے ابن حیان سے، انہوں نے عبداللہ بن ظالم سے اسی کی سند سے مذکورہ بالا کی مانند روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/المناقب 28 (3757)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (134)، (تحفة الأشراف: 4458)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/188، 189) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: فلاں شخص کوفہ میں آیا اس سے کنایہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف ہے، اور فلاں شخص خطبہ کے لئے کھڑا ہوا اس سے کنایہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف ہے، اس جیسے مقام کے لئے کنایہ ہی بہتر تھا تاکہ شرف صحابیت مجروح نہ ہو۔
۲؎: یہ عبداللہ بن ظالم مازنی کا قول ہے۔
۳؎: اس سے مراد خطیب ہے۔
۴؎: جو علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہہ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه الترمذي (3757 وسنده صحيح) وله شاھد انظر الحديث الآتي (4650)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4649
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَخْنَسِ أَنَّهُ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ فَذَكَرَ رَجُلٌ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَامَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي سَمِعْتُهُ، وَهُوَ يَقُولُ:" عَشْرَةٌ فِي الْجَنَّةِ: النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ وَأَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ، فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ شِئْتَ لَسَمَّيْتُ الْعَاشِرَ، قَالَ: فَقَالُوا: مَنْ هُوَ؟ فَسَكَتَ، قَالَ: فَقَالُوا: مَنْ هُوَ؟ فَقَالَ: هُوَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ".
عبدالرحمٰن بن اخنس سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں تھے، ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ کا (برائی کے ساتھ) تذکرہ کیا، تو سعید بن زید رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ میں نے آپ کو فرماتے سنا: دس لوگ جنتی ہیں: ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر بن عوام جنتی ہیں، سعد بن مالک جنتی ہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں اور اگر میں چاہتا تو دسویں کا نام لیتا، وہ کہتے ہیں: لوگوں نے عرض کیا: وہ کون ہیں؟ تو وہ خاموش رہے، لوگوں نے پھر پوچھا: وہ کون ہیں؟ تو کہا: وہ سعید بن زید ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4649]
جناب عبدالرحمن بن الاخنس سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے جب ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: دس اشخاص جنت میں ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت میں ہیں، ابوبکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر بن عوام جنت میں ہیں، سعد بن مالک جنت میں ہیں اور عبدالرحمن بن عوف جنت میں ہیں۔ اگر میں چاہوں تو دسویں کا نام بھی لے سکتا ہوں۔ لوگوں نے پوچھا: وہ کون ہے؟ تو وہ خاموش ہو رہے۔ لوگوں نے پوچھا: وہ کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: وہ سعید بن زید ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4649]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4459) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (3757 وسنده صحيح) وله شاھد انظر الحديث الآتي (4650)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4650
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ فُلَانٍ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ وَعِنْدَهُ أَهْلُ الْكُوفَةِ، فَجَاءَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ فَرَحَّبَ بِهِ وَحَيَّاهُ وَأَقْعَدَهُ عِنْدَ رِجْلِهِ عَلَى السَّرِيرِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ يُقَالُ لَهُ قَيْسُ بْنُ عَلْقَمَةَ فَاسْتَقْبَلَهُ فَسَبَّ وَسَبَّ، فَقَالَ سَعِيدٌ: مَنْ يَسُبُّ هَذَا الرَّجُلُ؟ قَالَ: يَسُبُّ عَلِيًّا، قَالَ: أَلَا أَرَى أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبُّونَ عِنْدَكَ ثُمَّ لَا تُنْكِرُ وَلَا تُغَيِّرُ، أَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، وَإِنِّي لَغَنِيٌّ أَنْ أَقُولَ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَقُلْ فَيَسْأَلَنِي عَنْهُ غَدًا إِذَا لَقِيتُهُ:أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَسَاقَ مَعْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ: لَمَشْهَدُ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْبَرُّ فِيهِ وَجْهُهُ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَهُ وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ.
ریاح بن حارث کہتے ہیں میں کوفہ کی مسجد میں فلاں شخص ۱؎ کے پاس بیٹھا تھا، ان کے پاس کوفہ کے لوگ جمع تھے، اتنے میں سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ آئے، تو انہوں نے انہیں خوش آمدید کہا، اور دعا دی، اور اپنے پاؤں کے پاس انہیں تخت پر بٹھایا، پھر اہل کوفہ میں سے قیس بن علقمہ نامی ایک شخص آیا، تو انہوں نے اس کا استقبال کیا، لیکن اس نے برا بھلا کہا اور سب وشتم کیا، سعید بولے: یہ شخص کسے برا بھلا کہہ رہا ہے؟ انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کو کہہ رہا ہے، وہ بولے: کیا میں دیکھ نہیں رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو تمہارے پاس برا بھلا کہا جا رہا ہے لیکن تم نہ منع کرتے ہو نہ اس سے روکتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے اور مجھے کیا پڑی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایسی بات کہوں جو آپ نے نہ فرمائی ہو کہ کل جب میں آپ سے ملوں تو آپ مجھ سے اس کے بارے میں سوال کریں: ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں پھر اوپر جیسی حدیث بیان فرمایا، پھر ان (صحابہ) میں سے کسی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جنگ میں شرکت جس میں اس چہرہ غبار آلود ہو جائے یہ زیادہ بہتر ہے اس سے کہ تم میں کا کوئی شخص اپنی عمر بھر عمل کرے اگرچہ اس کی عمر نوح کی عمر ہو ۲؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4650]
ریاح بن حارث کا بیان ہے کہ میں کوفہ کی مسجد میں فلاں کے پاس بیٹھا ہوا تھا (اشارہ ہے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف) اور ان کے پاس اہل کوفہ کے کچھ لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ تو سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ پس انہوں (مغیرہ رضی اللہ عنہ) نے ان کو «مَرْحَبًا» مرحبا کہا اور خوش آمدید کہا اور پھر انہیں اپنی چارپائی کی پائنتی کی طرف بٹھا لیا۔ پھر اہل کوفہ میں سے ایک شخص آیا جس کا نام قیس بن علقمہ تھا۔ انہوں نے اس کا بھی استقبال کیا۔ پھر اس نے بدگوئی کی اور بدگوئی کی۔ سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کسے گالیاں دے رہا ہے؟ کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو۔ تو سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: (تعجب ہے!) میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے سامنے اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے اور آپ ہیں کہ اسے ٹوکتے ہی نہیں اور نہ سمجھاتے ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے، اور مجھے کوئی ایسی نہیں پڑی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایسی بات کہہ دوں جو آپ نے نہ کہی ہو، پھر کل جب آپ سے میری ملاقات ہو اور وہ مجھ سے پوچھ لیں: ابوبکر (رضی اللہ عنہ) جنت میں ہیں، عمر (رضی اللہ عنہ) جنت میں ہیں۔ اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا۔ پھر کہا: ان میں سے کسی ایک کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (جہاد میں) حاضر رہنا اور اس کے چہرے کا غبار آلود ہو جانا تمہاری ساری زندگی کے اعمال سے کہیں بہتر ہے، خواہ تمہیں سیدنا نوح علیہ السلام کی زندگی ہی کیوں نہ مل جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4650]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/ المقدمة 11 (133)، (تحفة الأشراف: 4455)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/187) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
۲؎: ایک شخص کا ایمان کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک ہونا اور اس کاگرد و غبار برداشت کرنا غیر صحابی کی ساری زندگی کے عمل سے بہتر ہے چاہے اس کی زندگی کتنی ہی طویل اور نوح علیہ السلام کی زندگی کے برابر ہو جن کی صرف دعوتی زندگی ساڑھے نو سو سال تھی، اس سے صحابہ کرام کا احترام اور ان کی فضیلت واضح ہوتی ہے اسی لئے امت کا عقیدہ ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا ولی کسی ادنیٰ صحابی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا، رضی اللہ عنہم اجمعین۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (133 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4651
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ،" أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا فَتَبِعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، فَضَرَبَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: اثْبُتْ أُحُدُ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے پھر آپ کے پیچھے ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم بھی چڑھے، تو وہ ان کے ساتھ ہلنے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاؤں سے مارا اور فرمایا: ٹھہر جا اے احد! (تیرے اوپر) ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4651]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلے گئے، پس پہاڑ نے حرکت کی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا پاؤں مارا اور فرمایا: «اُثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ» احد! ٹھہر جا! (تیرے اوپر) ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المناقب 5 (3675)، 6 (3686)، 7 (3697)، سنن الترمذی/المناقب 19 (3697)، (تحفة الأشراف: 1172) وقد أخرجہ: مسند احمد (3/112) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تیرے اوپر ایک نبی یعنی خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک صدیق یعنی ابوبکر، اور دو شہید یعنی عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم ہیں، یہ تیرے لئے باعث فخر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3697)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں