سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب فِي ذِكْرِ الْمِيزَانِ
باب: ترازو کا بیان۔
حدیث نمبر: 4750
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، أخبرنا شُعْبَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا سُئِلَ فِي الْقَبْرِ، فَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ:يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ سورة إبراهيم آية 27".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان سے جب قبر میں سوال ہوتا ہے اور وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں“۔ تو یہی مراد ہے اللہ کے قول «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت» ”اللہ ایمان والوں کو پکی بات کے ساتھ مضبوط کرتا ہے“ (سورۃ ابراہیم: ۲۷) سے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4750]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان سے جب قبر میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ شہادت دیتا ہے کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اور یہی مصداق ہے اللہ عزوجل کے اس فرمان کا ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ﴾ [سورة إبراهيم: 27] ”اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو پختہ بات کے ساتھ دنیا میں ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں بھی ثابت قدم رکھے گا۔“” [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4750]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 86 (3120)، وتفسیر سورة إبراہیم 2 (4699)، صحیح مسلم/الجنة 17 (2871)، سنن الترمذی/تفسیر سورة إبراہیم 15 (3120)، سنن النسائی/الجنائز 114 (2059)، سنن ابن ماجہ/الزھد 32 (4269)، (تحفة الأشراف: 1762)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/282، 291) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4699) صحيح مسلم (2871)
حدیث نمبر: 4751
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، أخبرنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْخَفَّافُ أَبُو نَصْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ نَخْلًا لِبَنِي النَّجَّارِ، فَسَمِعَ صَوْتًا، فَفَزِعَ، فَقَالَ: مَنْ أَصْحَابُ هَذِهِ الْقُبُورِ؟ , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَاسٌ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ: تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، قَالُوا: وَمِمَّ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، أَتَاهُ مَلَكٌ، فَيَقُولُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَعْبُدُ؟ فَإِنِ اللَّهُ هَدَاهُ، قَالَ: كُنْتُ أَعْبُدُ اللَّهَ، فَيُقَالُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: هُوَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَمَا يُسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ غَيْرِهَا فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى بَيْتٍ كَانَ لَهُ فِي النَّارِ، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا بَيْتُكَ كَانَ لَكَ فِي النَّارِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَصَمَكَ، وَرَحِمَكَ، فَأَبْدَلَكَ بِهِ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: دَعُونِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأُبَشِّرَ أَهْلِي، فَيُقَالُ لَهُ: اسْكُنْ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، أَتَاهُ مَلَكٌ، فَيَنْتَهِرُهُ، فَيَقُولُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَعْبُدُ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، فَيُقَالُ لَهُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ، فَيُقَالُ لَهُ: فَمَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَيَضْرِبُهُ بِمِطْرَاقٍ مِنْ حَدِيدٍ بَيْنَ أُذُنَيْهِ، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا الْخَلْقُ غَيْرُ الثَّقَلَيْنِ" ,
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنی نجار کے کھجور کے ایک باغ میں داخل ہوئے، تو ایک آواز سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا اٹھے، فرمایا: ”یہ قبریں کس کی ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: زمانہ جاہلیت میں مرنے والوں کی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ جہنم کے عذاب سے اور دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو“ لوگوں نے عرض کیا: ایسا کیوں؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے، اور اس سے کہتا ہے: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ تو اگر اللہ اسے ہدایت دیئے ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: میں اللہ کی عبادت کرتا تھا؟ پھر اس سے کہا جاتا ہے، تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے تھے؟ ۱؎ تو وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر اس کے علاوہ اور کچھ نہیں پوچھا جاتا، پھر اسے ایک گھر کی طرف لے جایا جاتا ہے، جو اس کے لیے جہنم میں تھا اور اس سے کہا جاتا ہے: یہ تمہارا گھر ہے جو تمہارے لیے جہنم میں تھا، لیکن اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا، تم پر رحم کیا اور اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں ایک گھر دیا، تو وہ کہتا ہے: مجھے چھوڑ دو کہ میں جا کر اپنے گھر والوں کو بشارت دے دوں، لیکن اس سے کہا جاتا ہے، ٹھہرا رہ، اور جب کافر قبر میں رکھا جاتا ہے، تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس سے ڈانٹ کر کہتا ہے: تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا، تو اس سے کہا جاتا ہے: نہ تو نے جانا اور نہ کتاب پڑھی (یعنی قرآن)، پھر اس سے کہا جاتا ہے: تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، تو وہ اسے لوہے کے ایک گرز سے اس کے دونوں کانوں کے درمیان مارتا ہے، تو وہ اس طرح چلاتا ہے کہ اس کی آواز آدمی اور جن کے علاوہ ساری مخلوق سنتی ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4751]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کے ایک نخلستان میں داخل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آواز سنی اور گھبرا گئے اور پوچھا: ”یہ قبروں والے کون ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کچھ لوگ تھے جو دور جاہلیت میں مر گئے تھے،“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے آگ کے عذاب اور دجال کے فتنے سے امان مانگو۔“ انہوں نے کہا: ”اور یہ کیسے ہے اے اللہ کے رسول؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ مومن آدمی کو جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس فرشتہ آتا ہے، وہ اس سے پوچھتا ہے: ”تو کس کی عبادت کرتا تھا؟“ تو اگر اللہ تعالیٰ اسے توفیق دے، تو وہ کہتا ہے: ”میں اللہ کی عبادت کیا کرتا تھا۔“ پھر اس سے پوچھا جاتا ہے: ”تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہا کرتا تھا؟“ تو وہ کہتا ہے: ”یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ تو اس سے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں پوچھا جاتا۔ چنانچہ اسے ایک گھر کی طرف لے جایا جاتا ہے جو اس کے لیے دوزخ میں مقرر تھا اور اس سے کہا جاتا ہے: ”(دیکھ) دوزخ میں یہ تیرا گھر تھا، لیکن اللہ نے تجھ کو بچا لیا ہے اور تجھ پر رحم کیا ہے اور اس کے بدلے تجھے جنت میں گھر دے دیا ہے۔“ تو وہ کہتا ہے: ”مجھے چھوڑو کہ جاؤں اور اپنے گھر والوں کو خوشخبری دے آؤں،“ تو اسے کہا جاتا ہے: ”آرام کرو۔“ اور کافر آدمی کو جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس فرشتہ آتا ہے اور اس کو جھڑکتا ہے اور پوچھتا ہے: ”تو کس کی عبادت کیا کرتا تھا؟“ وہ کہتا ہے: ”مجھے نہیں معلوم۔“ پھر اس سے کہا جاتا ہے: ”نہ تو نے جانا اور نہ پڑھا۔“ پھر اس سے پوچھا جاتا ہے: ”تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہا کرتا تھا؟“ وہ جواب دیتا ہے: ”میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔“ تو وہ فرشتہ لوہے کے ایک بھاری بھر کم ہتھوڑے (گرز) کے ساتھ اس کے کانوں کے درمیان مارتا ہے تو وہ اس سے اس قدر چیختا چلاتا ہے کہ جنوں اور انسانوں کے علاوہ ساری مخلوق اس کی آواز سنتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4751]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (3231)، (تحفة الأشراف: 1214) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بعض لوگوں نے «في هذا الرجل» سے یہ خیال کیا ہے کہ میت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شبیہ دکھائی جاتی ہے، یا پردہ ہٹا دیا جاتا ہے، مگر یہ محض خیال ہے، اس کی کوئی دلیل قرآن وسنت میں وارد نہیں، مردہ نور ایمانی سے ان سوالوں کے جواب دے گا نا کہ دیکھنے اور جاننے کی بنیاد پر، ابوجہل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا منکر نکیر کے سوال پر وہ آپ کو نہیں پہچان سکتا،اور آج کا مومن موحد باوجود یہ کہ اس نے آپ کو دیکھا نہیں مگر جواب درست دے گا کیونکہ اس کا نور ایمان اس کو جواب سمجھائے گا، اگرچہ لفظ «هذا» محسوس قریب کے لئے آتا ہے مگر «ذلك» جو بعید کے لئے وضع کیا گیا ہے، اس کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے وبالعکس، «وقد ذكره البخاري عن معمر بن المثنى عن أبي عبيدة» پھر جواب میں «هو» کا لفظ موجود ہے جو ضمیر غائب ہے جو اس کے حقیقی معنی مراد لینے سے مانع ہے، «فافهم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1338) صحيح مسلم (2870)
وانظر الحديث السابق (3231)
وانظر الحديث السابق (3231)
حدیث نمبر: 4752
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أخبرنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بِمِثْلِ هَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ، قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ، فَيَقُولَانِ لَهُ: فَذَكَرَ قَرِيبًا مِنْ حَدِيثِ الْأَوَّلِ، قَالَ فِيهِ: وَأَمَّا الْكَافِرُ، وَالْمُنَافِقُ، فَيَقُولانِ لَهُ: زَادَ الْمُنَافِقَ، وَقَالَ: يَسْمَعُهَا مَنْ وَلِيَهُ غَيْرُ الثَّقَلَيْنِ.
عبدالوہاب سے اسی جیسی سند سے اس طرح کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ”جب بندہ قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور اس کے رشتہ دار واپس لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے، اتنے میں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اور اس سے کہتے ہیں پھر انہوں نے پہلی حدیث کے قریب قریب بیان کیا، اور اس میں اس طرح ہے: رہے کافر اور منافق تو وہ دونوں اس سے کہتے ہیں“ راوی نے ”منافق“ کا اضافہ کیا ہے اور اس میں ہے: ”اسے ہر وہ شخص سنتا ہے جو اس کے قریب ہوتا ہے، سوائے آدمی اور جن کے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4752]
محمد بن سلیمان نے عبدالوہاب سے اسی اسناد سے اس حدیث کی مانند روایت کیا، کہا کہ ”جب بندے کو اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس آنے لگتے ہیں تو وہ ان کے قدموں کی آہٹ سنتا ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں۔“ اور پہلی حدیث کے قریب قریب بیان کیا۔ اس میں کہا: ”کافر اور منافق کہتے ہیں“ اس میں ”منافق“ کا لفظ زیادہ ہے۔ نیز یہ کہا: ”اس کی چیخ کو جنوں اور انسانوں کے علاوہ قریب قریب کی سب مخلوق سنتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4752]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (3231)، (تحفة الأشراف: 1170) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مردہ واپس لوٹنے والوں کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے کیونکہ وہ نیچے زمین میں ہے اور چلنے والے اوپر چل رہے ہوتے ہیں، ان کی بات چیت نہیں سنتا کیونکہ قبر پر آواز جانے کا کوئی ذریعہ نہیں، اس سے سماع موتیٰ پر استدلال کرنا محض غلط ہے، کیونکہ لوٹنے والوں کی بات سننے کا ذکر اس حدیث میں نہیں ہے، لہذا جوتیوں کی دھمک سننے سے بات چیت کے سننے کا اثبات غلط ہے، نیز حدیث میں اس خاص موقع پر مردوں کے سننے کی یہ بات آئی ہے، جیسے غزوہ بدر میں قریش کے مقتولین جو بدر کے کنویں میں ڈال دئیے گئے تھے، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مخاطب کیا تھا یہ بھی مخصوص صورت حال تھی، اس طرح کے واقعات سے مردوں کے عمومی طور پر سننے پر استدلال صحیح نہیں ہے، دلائل کی روشنی میں صحیح بات یہی ہے کہ مردے سنتے نہیں ہیں، (ملاحظہ ہو علامہ آلوسی کی کتاب: ” کیا مردے سنتے ہیں؟ “ نیز مولانا عبداللہ بھاولپوری کا رسالہ ” سماع موتی “)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1338) صحيح مسلم (2870)
وانظر الحديث السابق (3231)
وانظر الحديث السابق (3231)
حدیث نمبر: 4753
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ. ح وَحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَهَذَا لَفْظُ هَنَّادٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمِنْهَالِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، وَلَمَّا يُلْحَدْ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ، كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ فِي الْأَرْضِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا , زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ هَاهُنَا، وَقَالَ: وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ، حِينَ يُقَالُ لَهُ: يَا هَذَا، مَنْ رَبُّكَ؟ وَمَا دِينُكَ؟ وَمَنْ نَبِيُّكَ؟ قَالَ هَنَّادٌ: قَالَ: وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ، فَيُجْلِسَانِهِ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولَانِ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ، فَآمَنْتُ بِهِ، وَصَدَّقْتُ، زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27، ثُمَّ اتَّفَقَا، قَالَ: فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ قَدْ صَدَقَ عَبْدِي، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ: فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا، قَالَ: وَيُفْتَحُ لَهُ فِيهَا مَدَّ بَصَرِهِ، قَالَ: وَإِنَّ الْكَافِرَ، فَذَكَرَ مَوْتَهُ، قَالَ: وَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ، وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي، فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ كَذَبَ، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ، قَالَ: فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا، وَسَمُومِهَا، قَالَ: وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ" زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، قَالَ: ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى، أَبْكَمُ مَعَهُ مِرْزَبَّةٌ مِنْ حَدِيدٍ، لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ لَصَارَ تُرَابًا، قَالَ: فَيَضْرِبُهُ بِهَا ضَرْبَةً يَسْمَعُهَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ، فَيَصِيرُ تُرَابًا، قَالَ: ثُمَّ تُعَادُ فِيهِ الرُّوحُ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصار کے ایک شخص کے جنازے میں نکلے، ہم قبر کے پاس پہنچے، وہ ابھی تک تیار نہ تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، جس سے آپ زمین کرید رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا: ”قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو“ اسے دو بار یا تین بار فرمایا، یہاں جریر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: اور فرمایا: ”اور وہ ان کے جوتوں کی چاپ سن رہا ہوتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹتے ہیں، اسی وقت اس سے پوچھا جاتا ہے، اے جی! تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ اور تمہارا نبی کون ہے؟“ ہناد کی روایت کے الفاظ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا رب (معبود) کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے، میرا رب (معبود) اللہ ہے، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے، پھر پوچھتے ہیں: یہ کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پھر وہ دونوں اس سے کہتے ہیں: تمہیں یہ کہاں سے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اور اس پر ایمان لایا اور اس کو سچ سمجھا“ جریر کی روایت میں یہاں پر یہ اضافہ ہے: ”اللہ تعالیٰ کے قول «يثبت الله الذين آمنوا» سے یہی مراد ہے“ (پھر دونوں کی روایتوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ایک پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا لہٰذا تم اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھا دو، اور اس کے لیے جنت کی طرف کا ایک دروازہ کھول دو، اور اسے جنت کا لباس پہنا دو“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر جنت کی ہوا اور اس کی خوشبو آنے لگتی ہے، اور تا حد نگاہ اس کے لیے قبر کشادہ کر دی جاتی ہے“۔ اور رہا کافر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی موت کا ذکر کیا اور فرمایا: ”اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے اٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: تمہارا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: یہ آدمی کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، تو پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: اس نے جھوٹ کہا، اس کے لیے جہنم کا بچھونا بچھا دو اور جہنم کا لباس پہنا دو، اور اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو، تو اس کی تپش اور اس کی زہریلی ہوا (لو) آنے لگتی ہے اور اس کی قبر تنگ کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر سے ادھر ہو جاتی ہیں“ جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”پھر اس پر ایک اندھا گونگا (فرشتہ) مقرر کر دیا جاتا ہے، اس کے ساتھ لوہے کا ایک گرز ہوتا ہے اگر وہ اسے کسی پہاڑ پر بھی مارے تو وہ بھی خاک ہو جائے، چنانچہ وہ اسے اس کی ایک ضرب لگاتا ہے جس کو مشرق و مغرب کے درمیان کی ساری مخلوق سوائے آدمی و جن کے سنتی ہے اور وہ مٹی ہو جاتا ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر اس میں روح لوٹا دی جاتی ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4753]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری کے جنازے میں گئے۔ ہم قبر کے پاس پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے۔ گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے ہوں (نہایت پر سکون اور خاموشی سے بیٹھے تھے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چھڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زمین کرید رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”اللہ سے قبر کے عذاب کی امان مانگو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو یا تین بار فرمایا۔ جریر کی روایت میں یہاں یہ اضافہ ہے: ”جب لوگ واپس جاتے ہیں تو میت ان کے قدموں کی آہٹ سنتی ہے، جبکہ اس سے یہ پوچھا جا رہا ہوتا ہے: اے فلاں! تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ اور تیرا نبی کون ہے؟“ ہناد نے کہا: فرمایا: ”اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھاتے ہیں اور اسے کہتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے۔ پھر وہ پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ تو وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ پھر وہ پوچھتے ہیں: یہ آدمی کون ہے جو تم میں مبعوث کیا گیا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں: تجھے کیسے علم ہوا؟ وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، میں اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی۔“ جریر کی روایت میں مزید ہے: ”یہی (سوال جواب ہی) مصداق ہے اللہ عزوجل کے اس فرمان کا ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا﴾ [سورة إبراهيم: 27] ۔“ پھر وہ دونوں روایت کرنے میں متفق ہیں۔ فرمایا: ”پھر آسمان سے منادی کرنے والا اعلان کرتا ہے: تحقیق میرے بندے نے سچ کہا ہے، اسے جنت کا بستر بچھا دو، اور اس کو جنت کا لباس پہنا دو، اور اس کے لیے جنت کی طرف سے دروازہ کھول دو۔“ فرمایا: ”جنت کی طرف سے وہاں کی ہوائیں، راحتیں اور خوشبو آنے لگتی ہیں اور اس کی قبر کو انتہائے نظر تک وسیع کر دیا جاتا ہے۔“ پھر کافر اور اس کی موت کا ذکر کیا اور فرمایا: ”اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے اور وہ اس کے پاس آتے ہیں اور اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے: ہاہ! ہاہ! مجھے خبر نہیں۔ پھر وہ اس سے پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ تو وہ کہتا ہے: ہاہ! ہاہ! مجھے خبر نہیں۔ پھر وہ اس سے پوچھتے ہیں: یہ آدمی کون ہے جو تم میں مبعوث کیا گیا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: ہاہ! ہاہ! مجھے خبر نہیں۔ تو منادی آسمان سے ندا دیتا ہے کہ اس نے جھوٹ کہا، اسے آگ کا بستر بچھا دو، اسے آگ کا لباس پہنا دو اور اس کے لیے دوزخ کی طرف سے دروازہ کھول دو۔“ فرمایا کہ: ”پھر اس جہنم کی طرف سے اس کی تپش اور سخت گرم ہوا آنے لگتی ہے اور اس پر قبر کو تنگ کر دیا جاتا ہے حتیٰ کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں گھس جاتی ہیں۔“ جریر کی روایت میں مزید ہے: ”پھر اس پر ایک اندھا گونگا فرشتہ مقرر کر دیا جاتا ہے، جس کے پاس بھاری گرز ہوتا ہے۔ اگر اسے پہاڑ پر مارا جائے تو وہ (پہاڑ) مٹی مٹی ہو جائے۔ پھر وہ اسے اس کے ساتھ ایسی چوٹ مارتا ہے جس کی آواز جنوں اور انسانوں کے علاوہ مشرق و مغرب کے درمیان ساری مخلوق سنتی ہے اور پھر وہ مٹی (ریزہ ریزہ) ہو جاتا ہے۔“ فرمایا: ”پھر اس میں روح لوٹائی جاتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (3212)، (تحفة الأشراف: 1758) (صحیح)» حدیث کا پہلا ٹکڑا گزر چکا ہے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (3212)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (131، 1630)
الاعمش صرح بالسماع عند الحاكم (1/ 37 ح 107) والطبراني في حديث الطوال (25) وسندهما حسن، قال معاذ علي زئي: وھما يغنيان عن الحديث ابي داود (4753) ولفظه ’’وكأنما علي رءوسنا الطير‘‘ قد ثبت في حديث غيره، انظر شرح مشكل الآثار للطحاوي (10/ 239 ح 4061 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (131، 1630)
الاعمش صرح بالسماع عند الحاكم (1/ 37 ح 107) والطبراني في حديث الطوال (25) وسندهما حسن، قال معاذ علي زئي: وھما يغنيان عن الحديث ابي داود (4753) ولفظه ’’وكأنما علي رءوسنا الطير‘‘ قد ثبت في حديث غيره، انظر شرح مشكل الآثار للطحاوي (10/ 239 ح 4061 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 4754
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، أخبرنا الْأَعْمَشُ، أخبرنا الْمِنْهَالُ، عَنْ أَبِي عُمَرَ زَاذَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ابوعمر زاذان کہتے ہیں کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4754]
ابوعمر زاذان نے کہا کہ ”میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا۔“ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ”اس کی مانند“ روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1758) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (3212، 4753)
انظر الحديث السابق (3212، 4753)