🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب في ذكر الميزان
باب: ترازو کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4753
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ. ح وَحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَهَذَا لَفْظُ هَنَّادٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمِنْهَالِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، وَلَمَّا يُلْحَدْ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ، كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ فِي الْأَرْضِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا , زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ هَاهُنَا، وَقَالَ: وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ، حِينَ يُقَالُ لَهُ: يَا هَذَا، مَنْ رَبُّكَ؟ وَمَا دِينُكَ؟ وَمَنْ نَبِيُّكَ؟ قَالَ هَنَّادٌ: قَالَ: وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ، فَيُجْلِسَانِهِ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولَانِ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ، فَآمَنْتُ بِهِ، وَصَدَّقْتُ، زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27، ثُمَّ اتَّفَقَا، قَالَ: فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ قَدْ صَدَقَ عَبْدِي، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ: فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا، قَالَ: وَيُفْتَحُ لَهُ فِيهَا مَدَّ بَصَرِهِ، قَالَ: وَإِنَّ الْكَافِرَ، فَذَكَرَ مَوْتَهُ، قَالَ: وَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ، وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي، فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ كَذَبَ، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ، قَالَ: فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا، وَسَمُومِهَا، قَالَ: وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ" زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، قَالَ: ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى، أَبْكَمُ مَعَهُ مِرْزَبَّةٌ مِنْ حَدِيدٍ، لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ لَصَارَ تُرَابًا، قَالَ: فَيَضْرِبُهُ بِهَا ضَرْبَةً يَسْمَعُهَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ، فَيَصِيرُ تُرَابًا، قَالَ: ثُمَّ تُعَادُ فِيهِ الرُّوحُ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصار کے ایک شخص کے جنازے میں نکلے، ہم قبر کے پاس پہنچے، وہ ابھی تک تیار نہ تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، جس سے آپ زمین کرید رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا: قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو اسے دو بار یا تین بار فرمایا، یہاں جریر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: اور فرمایا: اور وہ ان کے جوتوں کی چاپ سن رہا ہوتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹتے ہیں، اسی وقت اس سے پوچھا جاتا ہے، اے جی! تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ اور تمہارا نبی کون ہے؟ ہناد کی روایت کے الفاظ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا رب (معبود) کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے، میرا رب (معبود) اللہ ہے، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے، پھر پوچھتے ہیں: یہ کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پھر وہ دونوں اس سے کہتے ہیں: تمہیں یہ کہاں سے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اور اس پر ایمان لایا اور اس کو سچ سمجھا جریر کی روایت میں یہاں پر یہ اضافہ ہے: اللہ تعالیٰ کے قول «يثبت الله الذين آمنوا» سے یہی مراد ہے (پھر دونوں کی روایتوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ایک پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا لہٰذا تم اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھا دو، اور اس کے لیے جنت کی طرف کا ایک دروازہ کھول دو، اور اسے جنت کا لباس پہنا دو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر جنت کی ہوا اور اس کی خوشبو آنے لگتی ہے، اور تا حد نگاہ اس کے لیے قبر کشادہ کر دی جاتی ہے۔ اور رہا کافر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی موت کا ذکر کیا اور فرمایا: اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے اٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: تمہارا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: یہ آدمی کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، تو پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: اس نے جھوٹ کہا، اس کے لیے جہنم کا بچھونا بچھا دو اور جہنم کا لباس پہنا دو، اور اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو، تو اس کی تپش اور اس کی زہریلی ہوا (لو) آنے لگتی ہے اور اس کی قبر تنگ کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر سے ادھر ہو جاتی ہیں جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے: پھر اس پر ایک اندھا گونگا (فرشتہ) مقرر کر دیا جاتا ہے، اس کے ساتھ لوہے کا ایک گرز ہوتا ہے اگر وہ اسے کسی پہاڑ پر بھی مارے تو وہ بھی خاک ہو جائے، چنانچہ وہ اسے اس کی ایک ضرب لگاتا ہے جس کو مشرق و مغرب کے درمیان کی ساری مخلوق سوائے آدمی و جن کے سنتی ہے اور وہ مٹی ہو جاتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر اس میں روح لوٹا دی جاتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4753]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری کے جنازے میں گئے۔ ہم قبر کے پاس پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے۔ گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے ہوں (نہایت پر سکون اور خاموشی سے بیٹھے تھے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چھڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زمین کرید رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: اللہ سے قبر کے عذاب کی امان مانگو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو یا تین بار فرمایا۔ جریر کی روایت میں یہاں یہ اضافہ ہے: جب لوگ واپس جاتے ہیں تو میت ان کے قدموں کی آہٹ سنتی ہے، جبکہ اس سے یہ پوچھا جا رہا ہوتا ہے: اے فلاں! تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ اور تیرا نبی کون ہے؟ ہناد نے کہا: فرمایا: اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھاتے ہیں اور اسے کہتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے۔ پھر وہ پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ تو وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ پھر وہ پوچھتے ہیں: یہ آدمی کون ہے جو تم میں مبعوث کیا گیا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں: تجھے کیسے علم ہوا؟ وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، میں اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی۔ جریر کی روایت میں مزید ہے: یہی (سوال جواب ہی) مصداق ہے اللہ عزوجل کے اس فرمان کا ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا﴾ [سورة إبراهيم: 27] ۔ پھر وہ دونوں روایت کرنے میں متفق ہیں۔ فرمایا: پھر آسمان سے منادی کرنے والا اعلان کرتا ہے: تحقیق میرے بندے نے سچ کہا ہے، اسے جنت کا بستر بچھا دو، اور اس کو جنت کا لباس پہنا دو، اور اس کے لیے جنت کی طرف سے دروازہ کھول دو۔ فرمایا: جنت کی طرف سے وہاں کی ہوائیں، راحتیں اور خوشبو آنے لگتی ہیں اور اس کی قبر کو انتہائے نظر تک وسیع کر دیا جاتا ہے۔ پھر کافر اور اس کی موت کا ذکر کیا اور فرمایا: اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے اور وہ اس کے پاس آتے ہیں اور اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے: ہاہ! ہاہ! مجھے خبر نہیں۔ پھر وہ اس سے پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ تو وہ کہتا ہے: ہاہ! ہاہ! مجھے خبر نہیں۔ پھر وہ اس سے پوچھتے ہیں: یہ آدمی کون ہے جو تم میں مبعوث کیا گیا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: ہاہ! ہاہ! مجھے خبر نہیں۔ تو منادی آسمان سے ندا دیتا ہے کہ اس نے جھوٹ کہا، اسے آگ کا بستر بچھا دو، اسے آگ کا لباس پہنا دو اور اس کے لیے دوزخ کی طرف سے دروازہ کھول دو۔ فرمایا کہ: پھر اس جہنم کی طرف سے اس کی تپش اور سخت گرم ہوا آنے لگتی ہے اور اس پر قبر کو تنگ کر دیا جاتا ہے حتیٰ کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں گھس جاتی ہیں۔ جریر کی روایت میں مزید ہے: پھر اس پر ایک اندھا گونگا فرشتہ مقرر کر دیا جاتا ہے، جس کے پاس بھاری گرز ہوتا ہے۔ اگر اسے پہاڑ پر مارا جائے تو وہ (پہاڑ) مٹی مٹی ہو جائے۔ پھر وہ اسے اس کے ساتھ ایسی چوٹ مارتا ہے جس کی آواز جنوں اور انسانوں کے علاوہ مشرق و مغرب کے درمیان ساری مخلوق سنتی ہے اور پھر وہ مٹی (ریزہ ریزہ) ہو جاتا ہے۔ فرمایا: پھر اس میں روح لوٹائی جاتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (3212)، (تحفة الأشراف: 1758) (صحیح)» ‏‏‏‏ حدیث کا پہلا ٹکڑا گزر چکا ہے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (3212)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (131، 1630)
الاعمش صرح بالسماع عند الحاكم (1/ 37 ح 107) والطبراني في حديث الطوال (25) وسندهما حسن، قال معاذ علي زئي: وھما يغنيان عن الحديث ابي داود (4753) ولفظه ’’وكأنما علي رءوسنا الطير‘‘ قد ثبت في حديث غيره، انظر شرح مشكل الآثار للطحاوي (10/ 239 ح 4061 وسنده صحيح)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمروصحابي
👤←👥زاذان الكندي، أبو عبد الله، أبو عمر
Newزاذان الكندي ← البراء بن عازب الأنصاري
ثقة
👤←👥المنهال بن عمرو الأسدي
Newالمنهال بن عمرو الأسدي ← زاذان الكندي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← المنهال بن عمرو الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← هناد بن السري التميمي
ثقة
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2003
خرجنا مع رسول الله في جنازة فلما انتهينا إلى القبر ولم يلحد فجلس وجلسنا حوله كأن على رءوسنا الطير
سنن ابن ماجه
1549
جلس وجلسنا كأن على رءوسنا الطير
سنن أبي داود
3212
جلس النبي مستقبل القبلة وجلسنا معه
سنن ابن ماجه
1548
خرجنا مع رسول الله في جنازة فقعد حيال القبلة
سنن أبي داود
4754
عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: فذكر نحوه
سنن أبي داود
4753
استعيذوا بالله من عذاب القبر ليسمع خفق نعالهم إذا ولوا مدبرين حين يقال له يا هذا من ربك وما دينك ومن نبيك قال هناد قال ويأتيه ملكان فيجلسانه فيقولان له من ربك فيقول ربي الله فيقولان له ما دينك فيقول ديني الإسلام فيقولان له ما هذا الرجل الذي بعث فيكم
مشكوة المصابيح
131
وياتيه ملكان فيجلسانه فيقولان له من ربك فيقول ربي الله فيقولان له ما دينك فيقول ديني الإسلام فيقولان له ما هذا الرجل
المعجم الصغير للطبراني
347
يقال للكافر : من ربك ؟ ، فيقول : لا أدري ، فهو تلك الساعة أصم أعمى أبكم ، فيضربه بمرزبة ، لو ضرب بها جبل صار ترابا ، فيسمعها كل الثقلين ، قال : وسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قرأ : يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت فى الحياة الدنيا وفي الآخرة ويضل الله الظالمين سورة إبراهيم آية 27
Sunan Abi Dawud Hadith 4753 in Urdu