🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. باب فِي قِتَالِ الْخَوَارِجِ
باب: خوارج سے قتال کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4758
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، أخبرنا زُهَيْرٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَمَنْدَلٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي جَهْمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وَهْبَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا، فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جماعت ۲؎ سے ایک بالشت بھی علیحدگی اختیار کی تو اس نے اسلام کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4758]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جماعت سے بالشت بھر بھی علیحدگی اختیار کی، اس نے اسلام کی رسی کو اپنے گلے سے اتار پھینکا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4758]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ، أبوداود، (تحفة الأشراف: 11908)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/180) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: خوارج جمع ہے خارجی کی، یہ ایک گمراہ فرقہ ہے، یہ لوگ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے پھر ان کے لشکر سے نکل کر فاسد عقیدے اختیار کئے اور آپ کے خلاف قتال کیا، ان کا عقیدہ ہے: کبیرہ گناہ کا مرتکب کافر ہے، یہ لوگ علی،عثمان، معاویہ اور عائشہ رضی اللہ عنہم وغیرہم کی تکفیر کرتے ہیں، علی اور معاویہ نے ان لوگوں سے قتال کیا اور ان کے فتنہ کا سد باب کیا۔
۲؎: امام جماعت سے یا مسلمانوں کے اجتماعی معاملہ سے علیحدگی اختیار کی وہ گمراہی و ہلاکت کا شکار ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (185)
خالد بن وھبان حسن الحديث ورواه ابن أبي عاصم في السنة (1053 وسنده صحيح) ولفظه: ’’من فارق الجماعة والإسلام فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه‘‘

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4759
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، أخبرنا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وَهْبَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَنْتُمْ وَأَئِمَّةٌ مِنْ بَعْدِي يَسْتَأْثِرُونَ بِهَذَا الْفَيْءِ؟ , قُلْتُ: إِذَنْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي، ثُمَّ أَضْرِبُ بِهِ، حَتَّى أَلْقَاكَ، أَوْ أَلْحَقَكَ، قَالَ: أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ، تَصْبِرُ حَتَّى تَلْقَانِي".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا حال ہو گا ۱؎ جب میرے بعد حکمراں اس مال فے کو اپنے لیے مخصوص کر لیں گے میں نے عرض کیا: تب تو اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھوں گا، پھر اس سے ان کے ساتھ لڑوں گا یہاں تک کہ میں آپ سے ملاقات کروں یا آ ملوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ تم صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4759]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد تمہارا کیا حال ہو گا جبکہ امام (خلیفہ) اس مالِ فے اور غنیمت کو ذاتی مال سمجھیں گے۔ (یعنی شرعی تقاضوں کے مطابق خرچ اور تقسیم نہیں کریں گے)۔ میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ (سچا پیغمبر بنا کے) بھیجا، تب تو میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا اور اس سے ماروں گا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتا دوں؟ صبر کرنا حتیٰ کہ مجھ سے آ ملو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4759]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11908)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/179، 180) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی خالد بن وھبان مجہول ہیں)
وضاحت: ۱؎: تم کیا کرو گے؟ صبر کرو گے یا قتال۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3710)
خالد بن وھبان حسن الحديث

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4760
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، الْمَعْنَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ، تَعْرِفُونَ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ , قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ هِشَامٌ بِلِسَانِهِ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ، فَقَدْ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَقْتُلُهُمْ؟ , قَالَ ابْنُ دَاوُدَ: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ , قَالَ: لَا، مَا صَلَّوْا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم پر ایسے حاکم ہوں گے جن سے تم معروف (نیک اعمال) ہوتے بھی دیکھو گے اور منکر (خلاف شرع امور) بھی دیکھو گے، تو جس نے منکر کا انکار کیا، (ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام کی روایت میں «بلسانہ» کا لفظ بھی ہے (جس نے منکر کا) اپنی زبان سے انکار کیا) تو وہ بری ہو گیا اور جس نے دل سے برا جانا وہ بھی بچ گیا، البتہ جس نے اس کام کو پسند کیا اور اس کی پیروی کی تو وہ بچ نہ سکے گا عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم انہیں قتل نہ کر دیں؟ (سلیمان ابن داود طیالسی) کی روایت میں ہے: کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4760]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر ایسے امام (امیر) مقرر ہوں گے جن کی کچھ باتیں تمہیں بھلی لگیں گی اور کچھ بری بھی جانو گے۔ تو جس نے انکار کیا - بالفاظِ ہشام: اپنی زبان سے انکار کیا - تو وہ بری ہوا، اور جس نے دل سے انکار کیا وہ محفوظ رہا، لیکن جو راضی رہا اور ان کا متبع بنا۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! تو کیا ہم ان کو قتل نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: «أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟» کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4760]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الإمارة 16 (1854)، سنن الترمذی/الفتن 78 (2265)، (تحفة الأشراف: 18166)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/295، 302، 305، 321) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: منکر اور خلاف شرع کام کا انکار کرنا زبان سے نفاق سے براءت دلاتا ہے، اور جو شخص دل سے برا جانتا اور اس میں شریک نہیں ہوتا وہ گناہ سے بچ جاتا ہے، لیکن جو پسند کرے اور اس میں شریک ہو تو وہ انہی جیسا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1854)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4761
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، أخبرنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، أخبرنا الْحَسَنُ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ: فَمَنْ كَرِهَ، فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ، فَقَدْ سَلِمَ" قَالَ قَتَادَةُ: يَعْنِي مَنْ أَنْكَرَ بِقَلْبِهِ، وَمَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ.
اس سند سے بھی ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، البتہ اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ناپسند کیا تو وہ بری ہو گیا اور جس نے کھل کر انکار کر دیا تو وہ محفوظ ہو گیا قتادہ کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ جس نے دل سے اس کا انکار کیا اور جس نے دل سے اسے ناپسند کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4761]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا، انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دل سے ناپسند جانا اور مکروہ سمجھا وہ بری ہوا اور جس نے انکار کیا وہ محفوظ رہا۔ سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مقصد یہ ہے کہ دل سے انکار کیا اور دل سے برا جانا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18166) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4760)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4762
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أخبرنا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:سَتَكُونُ فِي أُمَّتِي هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ وَهَنَاتٌ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ وَهُمْ جَمِيعٌ، فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ".
عرفجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: میری امت میں کئی بار شر و فساد ہوں گے، تو متحد مسلمانوں کے شرازہ کو منتشر کرنے والے کی گردن تلوار سے اڑا دو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4762]
سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت میں فتنے ہوں گے، فتنے اور فتنے۔ چنانچہ جس نے چاہا کہ مسلمانوں کے معاملے میں تفرقہ ڈال دے جبکہ وہ متحد و متفق ہوں تو ایسے کو تلوار سے قتل کر دینا، خواہ کوئی بھی ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4762]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الإمارة 14 (1852)، سنن النسائی/المحاربة 6 (4025)، (تحفة الأشراف: 9896)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/24) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1852)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں