🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

32. باب فِي قِتَالِ اللُّصُوصِ
باب: چوروں سے مقابلہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4763
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْمَعْنَى، قَالَا: أخبرنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، أَنَّ عَلِيًّا ذَكَرَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ، فَقَالَ:" فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا، لَنَبَّأْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ , عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْهُ؟ قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ".
عبیدہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہروان ۱؎ کا ذکر کیا اور کہا: ان میں چھوٹے ہاتھ کا ایک آدمی ہے، اگر مجھے تمہارے اترانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہیں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کس چیز کا وعدہ کیا ہے ان لوگوں کے لیے جو ان سے جنگ کریں گے، راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: کیا آپ نے اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں رب کعبہ کی قسم۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4763]
جناب عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ نے روایت کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہروان کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ ان میں ایک آدمی ہو گا جس کا ایک ہاتھ چھوٹا ہو گا یا اس میں نقص ہو گا یا ایسے ہو گا جیسے عورت کا پستان، اگر مجھے اندیشہ نہ ہو کہ تم لوگ خوشی میں آ کر بہت آگے بڑھ جاؤ گے تو میں تمہیں وہ ضرور بتا دیتا جو اللہ عزوجل نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان سے قتال کرنے والے کے بارے میں وعدہ فرمایا ہے۔ عبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا یہ فرمان آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا؟ فرمایا: ہاں، رب کعبہ کی قسم! [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4763]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الزکاة 48 (1066)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 12 (167)، (تحفة الأشراف: 10233)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/83، 95، 144، 155، 113، 121، 122) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بغداد اور واسط کے درمیان تین گاؤں ہیں جن میں ایک اونچائی پر ہے دوسرا درمیان میں اور تیسرا نشیب میں، اسی جگہ امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کے ساتھ جنگ کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1066)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4764
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" بَعَثَ عَلِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا، فَقَسَّمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةٍ: بَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ، ثُمَّ الْمُجَاشِعِيِّ، وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ، وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْلِ الطَّائِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ، وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ، قَالَ: فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ، وَالْأَنْصَارُ، وَقَالَتْ: يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا، فَقَالَ: إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ، قَالَ: فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، نَاتِئُ الْجَبِينِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، مَحْلُوقٌ، قَالَ: اتَّقِ اللَّهَ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ:مَنْ يُطِيعُ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُهُ، أَيَأْمَنُنِي اللَّهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي؟ قَالَ: فَسَأَلَ رَجُلٌ قَتْلَهُ، أَحْسِبُهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، قَالَ: فَمَنَعَهُ، قَالَ: فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ: إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا، أَوْ فِي عَقِبِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ، لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ قَتَلْتُهُمْ قَتْلَ عَادٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مٹی سے آلودہ سونے کا ایک ٹکڑا بھیجا ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار لوگوں: اقرع بن حابس حنظلی مجاشعی، عیینہ بن بدر فزاری، زید الخیل طائی جو بنی نبہان کے ایک فرد ہیں اور علقمہ بن علاثہ عامری جو بنی کلاب سے ہیں کے درمیان تقسیم کر دیا، اس پر قریش اور انصار کے لوگ ناراض ہو گئے اور کہنے لگے: آپ اہل نجد کے رئیسوں کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان کی تالیف قلب کرتا ہوں اتنے میں ایک شخص آیا (جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، رخسار ابھرے ہوئے اور پیشانی بلند، داڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا) اور کہنے لگا: اے محمد! اللہ سے ڈرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میں ہی اس کی نافرمانی کرنے لگوں گا تو کون اس کی فرمانبرداری کرے گا، اللہ تو زمین والوں میں مجھے امانت دار سمجھتا ہے اور تم مجھے امانت دار نہیں سمجھتے؟ تو ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت چاہی، میرا خیال ہے وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، اور جب وہ لوٹ گیا تو آپ نے فرمایا: اس کی نسل میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے، وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے تیر اس شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے جسے تیر مارا جاتا ہے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پوجنے والوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میں نے انہیں پایا تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا ۲؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4764]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ سونا بھیجا جو ابھی صاف نہیں کیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اقرع بن حابس حنظلی مجاشعی، عیینہ بن بدر فزاری، بنو نبھان کے زید الخیل الطائی اور بنو کلاب کے علقمہ بن علاثہ مری چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا۔ تو قریشیوں اور انصاریوں کو اس پر غصہ آیا اور انہوں نے کہا: اہل نجد کے بڑوں کو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو ان کی تالیفِ قلب کرنا چاہتا ہوں (تاکہ اسلام میں ان کا دل جم جائے۔) تو اس اثنا میں ایک آدمی آیا جس کی آنکھیں گہری (اندر کو دھنسی ہوئی) تھیں، رخسار ابھرے ہوئے، پیشانی اوپر کو اٹھی ہوئی، داڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا، کہنے لگا: اے محمد! اللہ سے ڈرو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہی اللہ کی نافرمانی کرنے لگوں تو کون اس کی اطاعت کرے گا؟ اللہ عزوجل تو مجھے زمین والوں کے لیے امین بنائے اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے ہو؟ راوی نے کہا: اس پر ایک شخص نے پوچھا: کیا میں اس کو قتل کر دوں؟ میرا خیال ہے وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روک دیا۔ پھر جب وہ کمر پھیر کر چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نسل میں ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا، اسلام سے ایسے نکلیں گے جیسے تیر اپنے شکار سے نکل جاتا ہے، یہ لوگ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑیں گے، اللہ کی قسم! اگر میں نے ان کو پایا تو انہیں قومِ عاد کی مانند قتل کروں گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4764]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأنبیاء 6 (4667)، المغازي 61 (4351)، تفسیرالتوبة 10 (3344)، التوحید 23 (7432)، صحیح مسلم/الزکاة 47 (1063)، سنن النسائی/الزکاة 79 (2579)، التحریم 22 (4106)، (تحفة الأشراف: 4132)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/4، 31، 68، 72، 73) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی جس طرح زمیں سے نکلا ویسے ہی مٹی سمیت بھیج دیا۔
۲؎: یہ حدیث خوارج کے سلسلہ میں ہے، اعتراض کرنے والا خارجیوں کا سردار ہوا، ایک بات اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن لوگوں کو مال دیا تھا وہ نجدی تھے، اور یہ شخص نجدی نہیں تھا، اسی نے یا محمد کہا جو آج اہل بدعت نے اپنا شعار بنا رکھا ہے، ان لوگوں کو علی رضی اللہ عنہ نے مقام نہروان میں قتل کیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کہ میں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا کا مطلب یہ ہے کہ ان کو نیست ون ابود کر دوں گا، جیسے قوم عاد نیست و نابود ہو گئی، قوم عاد سے مشابہت صرف کلی ہلاکت میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3344) صحيح مسلم (1064)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4765
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، وَمُبَشِّرٌ يَعْنِيَ ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيَّ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ يَعْنِي الْوَلِيدَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ، قَوْمٌ يُحْسِنُونَ الْقِيلَ وَيُسِيئُونَ الْفِعْلَ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يَرْجِعُونَ حَتَّى يَرْتَدَّ عَلَى فُوقِهِ، هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ، يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْءٍ، مَنْ قَاتَلَهُمْ كَانَ أَوْلَى بِاللَّهِ مِنْهُمْ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا سِيمَاهُمْ؟ قَالَ:" التَّحْلِيقُ".
ابو سعید خدری اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں اختلاف اور تفرقہ ہو گا، کچھ ایسے لوگ ہوں گے، جو باتیں اچھی کریں گے لیکن کام برے کریں گے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ (اپنی روش سے) باز نہیں آئیں گے جب تک تیر سوفار (اپنی ابتدائی جگہ) پر الٹا نہ آ جائے، وہ سب لوگوں اور مخلوقات میں بدترین لوگ ہیں، بشارت ہے اس کے لیے جو انہیں قتل کرے یا جسے وہ قتل کریں، وہ کتاب اللہ کی طرف بلائیں گے، حالانکہ وہ اس کی کسی چیز سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے ہوں گے، جو ان سے قتال کرے گا، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ سے قریب ہو گا لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کی نشانی کیا ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سر منڈانا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4765]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں اختلاف و افتراق آ جائے گا۔ ایک قوم باتیں بہت اچھی اچھی کرے گی مگر کام ان کے بہت برے ہوں گے۔ قرآن پڑھتے ہوں گے مگر وہ ان کی ہنسلیوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر اپنے ہدف (شکار) سے نکل جاتا ہے۔ ان کا حق کی طرف لوٹنا ایسے ہی محال ہو گا جیسے تیر کا اپنی کمان پر واپس آنا۔ وہ انسانوں میں اور مخلوقات میں سب سے برے ہوں گے۔ مبارک ہو ایسے شخص کو جو انہیں قتل کرے اور وہ اسے قتل کریں (شہادت پا جائیں)۔ وہ بظاہر اللہ کی کتاب کی طرف بلائیں گے مگر ان کا کوئی تعلق اس کتاب سے نہیں ہو گا۔ جو ان سے قتال کرے گا وہ ان کی نسبت اللہ تعالیٰ سے بہت قریب ہو گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کی علامت کیا ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سر منڈانا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4765]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ ومابعدہ، (تحفة الأشراف: 1312) (صحیح)» ‏‏‏‏ (قتادة کا ابوسعید خدری سے سماع نہیں ہے، ہاں، انس سے ثابت ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4766
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، قَالَ: سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ وَالتَّسْبِيدُ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ , قال أَبُو دَاوُد: التَّسْبِيدُ اسْتِئْصَالُ الشَّعْرِ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا، البتہ اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: ان کی علامت سر منڈانا اور بالوں کو جڑ سے ختم کرنا ہے، لہٰذا جب تم انہیں دیکھو تو انہیں قتل کر دو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «تسبید»: بال کو جڑ سے ختم کرنے کو کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4766]
جناب قتادہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا ہے، اس روایت میں ہے کہ ان (خوارج) کی علامت سر منڈانا اور بال دور کرنا ہے۔ جب تم انہیں پاؤ تو انہیں سلا (قتل کر) دینا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: حدیث میں وارد لفظ «التَّسْبِيدُ» کے معنی ہیں «اسْتِئْصَالُ الشَّعْرِ» بالوں کو جڑوں سے اکھیڑنا یا جڑوں سے مونڈنا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4766]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/المقدمة 12 (175)، (تحفة الأشراف: 1337)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/197) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (175)
قتادة مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4767
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنه: إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ، فَإِنَّمَا الْحَرْبُ خَدْعَةٌ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ قَوْلِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث تم سے بیان کروں تو آسمان سے میرا گر جانا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں آپ پر جھوٹ بولوں، اور جب میں تم سے اس کے متعلق کوئی بات کروں جو ہمارے اور تمہارے درمیان ہے تو جنگ چالاکی و فریب دہی ہوتی ہی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو کم عمر اور کم عقل ہوں گے، جو تمام مخلوقات میں بہتر شخص کی طرح باتیں کریں گے، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان کا ایمان ان کی گردنوں سے نیچے نہ اترے گا، لہٰذا جہاں کہیں تم ان سے ملو تم انہیں قتل کر دو، اس لیے کہ ان کا قتل کرنا، قیامت کے روز اس شخص کے لیے اجر و ثواب کا باعث ہو گا جو انہیں قتل کرے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4767]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں (تو اس میں کوئی خفا نہیں ہوتا، بالکل حق اور صاف ہوتی ہے) مجھے آسمان سے گرنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے کی نسبت بہت زیادہ پسند ہے اور جب میں تم سے آپس کی کوئی بات کرتا ہوں تو (یاد رکھو) لڑائی چال کا نام ہے (بہت سی مصلحتیں ملحوظ رکھنی ضروری ہیں، اس لیے ان باتوں کو عام نہیں کرنا چاہیے) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: آخری زمانے میں لوگ آئیں گے جو عمروں میں نوجوان ہوں گے مگر بے عقل۔ مخلوق میں سب سے افضل ترین شخصیت (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی باتیں کرتے ہوں گے، مگر دین سے ایسے گزر جائیں گے جیسے کہ تیر اپنے شکار سے نکل جاتا ہے۔ ان کا ایمان ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترتا ہو گا۔ تم ان سے جہاں بھی ملو، انہیں قتل کر دینا۔ بلاشبہ ان کے قتل میں ان کے قاتل کے لیے قیامت کے روز بہت بڑا اجر ہو گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4767]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المناقب 25 (3611)، وفضائل القرآن 36 (5057)، والمرتدین 6 (6930)، صحیح مسلم/الزکاة 48 (1066)، سنن النسائی/المحاربة 22 (4107)، (تحفة الأشراف: 10121)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/81، 113، 131) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3611) صحيح مسلم (1066)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4768
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ، أَنَّهُ كَانَ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام الَّذِينَ سَارُوا إِلَى الْخَوَارِجِ، فَقَالَ عَلِيٌّ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَخْرُج قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَيْسَتْ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ شَيْئًا، وَلَا صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ شَيْئًا، وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ شَيْئًا، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ، وَهُوَ عَلَيْهِمْ، لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ مَا قُضِيَ لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَكَلُوا عَنِ الْعَمَلِ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ، وَلَيْسَتْ لَهُ ذِرَاعٌ عَلَى عَضُدِهِ، مِثْلُ حَلَمَتي الثَّدْيِ عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ، أَفَتَذْهَبُونَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَأَهْلِ الشَّامِ، وَتَتْرُكُونَ هَؤُلَاءِ يَخْلُفُونَكُمْ فِي ذَرَارِيِّكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ؟ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ، وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ، فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ"، قَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ: فَنَزَّلَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ مَنْزِلًا مَنْزِلًا، حَتَّى مَرَّ بِنَا عَلَى قَنْطَرَةٍ، قَالَ: فَلَمَّا الْتَقَيْنَا وَعَلَى الْخَوَارِجِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الرَّاسِبِيُّ، فَقَالَ لَهُمْ: أَلْقُوا الرِّمَاحَ وَسُلُّوا السُّيُوفَ مِنْ جُفُونِهَا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُنَاشِدُوكُمْ كَمَا نَاشَدُوكُمْ يَوْمَ حَرُورَاءَ، قَالَ: فَوَحَّشُوا بِرِمَاحِهِمْ وَاسْتَلُّوا السُّيُوفَ وَشَجَرَهُمُ النَّاسُ بِرِمَاحِهِمْ، قَالَ: وَقَتَلُوا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضِهِمْ، قَالَ: وَمَا أُصِيبَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ إِلَّا رَجُلَانِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: الْتَمِسُوا فِيهِمُ الْمُخْدَجَ، فَلَمْ يَجِدُوا، قَالَ: فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَفْسِهِ، حَتَّى أَتَى نَاسًا قَدْ قُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: أَخْرِجُوهُمْ، فَوَجَدُوهُ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ فَكَبَّرَ، وَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَبِيدَةُ السَّلْمَانِيُّ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِي وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ حَتَّى اسْتَحْلَفَهُ ثَلَاثًا، وَهُوَ يَحْلِفُ , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ مَالِكٌ: ذُلٌّ لِلِعْلِمْ أَنْ يُجِيبَ الْعَالِمُ كَلَّ مَنْ سَأَلَهُ.
زید بن وہب جہنی بیان کرتے ہیں کہ وہ اس فوج میں شامل تھے جو علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھی، اور جو خوارج کی طرف گئی تھی، علی نے کہا: اے لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میری امت میں کچھ لوگ ایسے نکلیں گے کہ وہ قرآن پڑھیں گے، تمہارا پڑھنا ان کے پڑھنے کے مقابلے کچھ نہ ہو گا، نہ تمہاری نماز ان کی نماز کے مقابلے کچھ ہو گی، اور نہ ہی تمہارا روزہ ان کے روزے کے مقابلے کچھ ہو گا، وہ قرآن پڑھیں گے، اور سمجھیں گے کہ وہ ان کے لیے (ثواب) ہے حالانکہ وہ ان پر (عذاب) ہو گا، ان کی صلاۃ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گی، وہ اسلام سے نکل جائیں گے، جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، اگر ان لوگوں کو جو انہیں قتل کریں گے، یہ معلوم ہو جائے کہ ان کے لیے ان کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کس چیز کا فیصلہ کیا گیا ہے، تو وہ ضرور اسی عمل پر بھروسہ کر لیں گے (اور دوسرے نیک اعمال چھوڑ بیٹھیں گے) ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک ایسا آدمی ہو گا جس کے بازو ہو گا، لیکن ہاتھ نہ ہو گا، اس کے بازو پر پستان کی گھنڈی کی طرح ایک گھنڈی ہو گی، اس کے اوپر کچھ سفید بال ہوں گے تو کیا تم لوگ معاویہ اور اہل شام سے لڑنے جاؤ گے، اور انہیں اپنی اولاد اور اسباب پر چھوڑ دو گے (کہ وہ ان پر قبضہ کریں اور انہیں برباد کریں) اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں (جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے) اس لیے کہ انہوں نے ناحق خون بہایا ہے، لوگوں کی چراگاہوں پر شب خون مارا ہے، چلو اللہ کے نام پر۔ سلمہ بن کہیل کہتے ہیں: پھر زید بن وہب نے مجھے ایک ایک مقام بتایا (جہاں سے ہو کر وہ خارجیوں سے لڑنے گئے تھے) یہاں تک کہ وہ ہمیں لے کر ایک پل سے گزرے۔ وہ کہتے ہیں: جب ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو خارجیوں کا سردار عبداللہ بن وہب راسبی تھا اس نے ان سے کہا: نیزے پھینک دو اور تلواروں کو میان سے کھینچ لو، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ تم سے اسی طرح صلح کا مطالبہ نہ کریں جس طرح انہوں نے تم سے حروراء کے دن کیا تھا، چنانچہ انہوں نے اپنے نیز ے پھینک دئیے، تلواریں کھینچ لیں، لوگوں (مسلمانوں) نے انہیں اپنے نیزوں سے روکا اور انہوں نے انہیں ایک پر ایک کر کے قتل کیا اور (مسلمانوں میں سے) اس دن صرف دو آدمی شہید ہوئے، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ان میں «مخدج» یعنی لنجے کو تلاش کرو، لیکن وہ نہ پا سکے، تو آپ خود اٹھے اور ان لوگوں کے پاس آئے جو ایک پر ایک کر کے مارے گئے تھے، آپ نے کہا: انہیں نکالو، تو انہوں نے اسے دیکھا کہ وہ سب سے نیچے زمین پر پڑا ہے، آپ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور بولے: اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول نے ساری باتیں پہنچا دیں۔ پھر عبیدہ سلمانی آپ کی طرف اٹھ کر آئے کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ وہ بولے: ہاں، اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، یہاں تک کہ انہوں نے انہیں تین بار قسم دلائی اور وہ (تینوں بار) قسم کھاتے رہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4768]
زید بن وہب جہنی نے بیان کیا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس لشکر میں شریک تھے جو خارجیوں کی طرف گیا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھتے ہوں گے۔ تمہاری قراءت ان کی قراءت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہو گی، نہ تمہاری نمازیں ان کی نمازوں کے مقابلے میں کچھ ہوں گی نہ تمہارے روزے ان کے روزوں کے مقابلے میں کچھ حیثیت رکھتے ہوں گے، وہ قرآن پڑھتے ہوں گے اور سمجھیں گے کہ یہ ان کے حق میں دلیل اور تائید ہے، حالانکہ وہ ان کے خلاف ہو گا۔ ان کی نمازیں ان کی ہنسلیوں سے آگے نہیں بڑھیں گی۔ اسلام سے ایسے گزر جائیں گے جیسے تیر اپنے شکار میں سے نکل جاتا ہے۔ اگر اس لشکر کو جو ان (خارجیوں) کو قتل کرے گا ان فضائل کا علم ہو جائے جو اللہ نے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے لیے مقدر فرمائے ہیں تو وہ اسی پر تکیہ کر لیں اور ان (خارجیوں) کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک ایسا آدمی ہو گا جس کی کہنی سے اوپر کا بازو تو ہو گا، کہنی سے نیچے کلائی نہیں ہو گی۔ اوپر کے بازو کا آخر پستان کی بھٹنی کی طرح ہو گا۔ اس پر سفید بال ہوں گے۔ کیا بھلا تم لوگ معاویہ اور اہل شام کی طرف جانا چاہتے ہو اور ان (خارجیوں) کو اپنی اولادوں اور مال و اسباب میں پیچھے چھوڑ دینا چاہتے ہو؟ اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں (جن کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی) انہوں نے حرام خون بہایا اور لوگوں کے محفوظ علاقے (جان، عزت، مال) لوٹے۔ چنانچہ اللہ کا نام لے کر (ان کے مقابلے میں) چلو۔ سلمہ بن کہیل نے کہا کہ زید بن وہب مجھے منزل بمنزل لے کر چلتے گئے حتیٰ کہ ہم ایک پل سے گزرے، پھر بتایا کہ جب ہم ان کے مقابل ہوئے اور خارجیوں کا سردار عبداللہ بن وہب راسبی تھا تو اس نے اپنے لوگوں سے کہا: نیزے پھینک دو اور تلواریں اپنی میانوں سے نکال لو۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ تم سے اسی طرح مقابلہ کریں گے جیسے حروراء والے دن کیا تھا۔ کہا: چنانچہ ان لوگوں نے اپنے نیزے پھینک دیے اور تلواریں کھینچ لیں تو لوگوں نے ان کو اپنے نیزوں سے چھلنی کرنا شروع کر دیا اور ان کو ایک دوسرے کے اوپر قتل کیا۔ جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں سے صرف دو آدمی شہید ہوئے۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تلاش کرو، ان میں ایک لنجا ہو گا۔ مگر انہیں نہ ملا۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود اٹھے حتیٰ کہ ان میتوں کے پاس آئے جو ایک دوسرے پر قتل ہوئے تھے۔ انہوں نے فرمایا: انہیں نکالو۔ چنانچہ انہوں نے اسے پا لیا جو کہ سب سے نیچے زمین پر پڑا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے «اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ بہت بڑا ہے پکارا اور کہا: اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنچا دیا۔ پس جناب عبیدہ سلمانی ان کی طرف کھڑے ہوئے اور کہا: اے امیر المؤمنین! قسم اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا یہ بیان آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ حتیٰ کہ انہوں نے تین بار قسم دی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی تین بار قسم سے جواب دیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ علم کی اہانت ہے کہ عالم ہر پوچھنے والے کا جواب دینے لگے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4768]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/ الزکاة 48 (1066)، (تحفة الأشراف: 10100)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/90) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1066)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4769
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَضِيءِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: اطْلُبُوا الْمُخْدَجَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَاسْتَخْرَجُوهُ مِنْ تَحْتِ الْقَتْلَى فِي طِينٍ، قَالَ أَبُو الْوَضِيءِ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حَبَشِيٌّ عَلَيْهِ قُرَيْطِقٌ لَهُ إِحْدَى يَدَيْنِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ، عَلَيْهَا شُعَيْرَاتٌ مِثْلُ شُعَيْرَاتِ الَّتِي تَكُونُ عَلَى ذَنَبِ الْيَرْبُوعِ.
ابوالوضی کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: «مخدج» (لنجے) کو تلاش کرو، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: لوگوں نے اسے مٹی میں پڑے ہوئے مقتولین کے نیچے سے ڈھونڈ نکالا، گویا میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں، وہ ایک حبشی ہے چھوٹا سا کرتا پہنے ہوئے ہے، اس کا ایک ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہے، جس پر ایسے چھوٹے چھوٹے بال ہیں، جیسے جنگلی چوہے کی دم پر ہوتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4769]
ابو وضی نے بیان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس لنجے کو تلاش کرو۔ اور حدیث بیان کی۔ چنانچہ اسے مقتولین کے نیچے سے نکال لیا گیا جو کیچڑ میں لت پت پڑا تھا۔ ابو وضی نے کہا: میں گویا اسے دیکھ رہا ہوں، حبشی آدمی تھا، اس پر قبا تھی، اس کا ایک ہاتھ ایسے تھا جیسے عورت کی پستان پر بھٹنی، اس پر چند بال تھے جیسے جنگلی چوہے کی دم پر ہوتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4769]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10158)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/139، 140، 141) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4770
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ:" إِنْ كَانَ ذَلِكَ الْمُخْدَجُ لَمَعَنَا يَوْمَئِذٍ فِي الْمَسْجِدِ نُجَالِسُهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَكَانَ فَقِيرًا وَرَأَيْتُهُ مَعَ الْمَسَاكِينِ يَشْهَدُ طَعَامَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَ النَّاسِ، وَقَدْ كَسَوْتُهُ بُرْنُسًا لِي"، قَالَ أَبُو مَرْيَمَ: وَكَانَ الْمُخْدَجُ يُسَمَّى نَافِعًا ذَا الثُّدْيَةِ، وَكَانَ فِي يَدِهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ، عَلَى رَأْسِهِ حَلَمَةٌ مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ، عَلَيْهِ شُعَيْرَاتٌ مِثْلُ سِبَالَةِ السَّنَّوْرِ , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ عِنْدَ النَّاسِ اسْمُهُ حَرْقُوسُ.
ابومریم کہتے ہیں کہ یہ «مخدج» (لنجا) مسجد میں اس دن ہمارے ساتھ تھا ہم اس کے ساتھ رات دن بیٹھا کرتے تھے، وہ فقیر تھا، میں نے اسے دیکھا کہ وہ مسکینوں کے ساتھ آ کر علی رضی اللہ عنہ کے کھانے پر لوگوں کے ساتھ شریک ہوتا تھا اور میں نے اسے اپنا ایک کپڑا دیا تھا۔ ابومریم کہتے ہیں: لوگ «مخدج» (لنجے) کو «نافعا ذا الثدية» (پستان والا) کا نام دیتے تھے، اس کے ہاتھ میں عورت کے پستان کی طرح گوشت ابھرا ہوا تھا، اس کے سرے پر ایک گھنڈی تھی جیسے پستان میں ہوتی ہے اس پر بلی کی مونچھوں کی طرح چھوٹے چھوٹے بال تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لوگوں کے نزدیک اس کا نام حرقوس تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4770]
ابومریم نے کہا: تحقیق یہ لنجا آدمی ان دنوں ہمارے ساتھ مسجد میں ہوتا تھا۔ دن رات ہم اس کے ساتھ بیٹھتے تھے، فقیر آدمی تھا۔ میں نے اسے مسکینوں کے ساتھ دیکھا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے طعام میں شریک ہوتا تھا، جو وہ لوگوں کے ساتھ تناول کرتے تھے۔ اور میں نے اس کو اپنا اوور کوٹ بھی دیا تھا۔ ابومریم نے کہا: اس لنجے کو «نَافِعٌ ذُو الثُّدَيَّةِ» پستان والا کہا جاتا تھا۔ اس کے بازو پر عورت کے پستان کی طرح پستان سا تھا اور اس کے سرے پر بھٹنی بھی تھی۔ اور اس پر بلی کی مونچھوں کی طرح کچھ بال تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگوں میں اس کا نام حرقوس معروف ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4770]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10333) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی نُعیم حافظہ کے کمزور راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أبو مريم الثقفي ثقة ونعيم بن حكيم حسن الحديث علي الراجح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں