🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. باب فِي تَنْزِيلِ النَّاسِ مَنَازِلَهُمْ
باب: ہر آدمی کو اس کے مقام و مرتبہ پر رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4842
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيل , وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ الْيَمَانِ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، أَنَّ عَائِشَةَ مَرَّ بِهَا سَائِلٌ فَأَعْطَتْهُ كِسْرَةً، وَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابٌ وَهَيْئَةٌ فَأَقْعَدَتْهُ فَأَكَلَ، فَقِيلَ لَهَا فِي ذَلِكَ، فقَالَت قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْزِلُوا النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ" , قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ يَحْيَى مُخْتَصَرٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: مَيْمُونٌ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کے پاس سے ایک بھکاری گزرا تو انہوں نے اس کو روٹی کا ایک ٹکڑا دے دیا، پھر ایک شخص کپڑوں میں ملبوس اور معقول صورت میں گزرا تو انہوں نے اسے بٹھایا اور (اسے کھانا پیش کیا) اور اس نے کھایا، لوگوں نے ان سے اس (امتیاز) کی بابت پوچھا تو وہ بولیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہر شخص کو اس کے مرتبے پر رکھو ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ کی حدیث مختصر ہے، اور میمون نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4842]
میمون بن ابوشعیب سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے ایک سائل گزرا تو آپ نے اسے ایک روٹی کا ٹکڑا دیا، پھر ایک دوسرا آدمی گزرا جس نے (اچھے) کپڑے پہنے ہوئے تھے اور اس کی حالت عمدہ تھی تو انہوں نے اس کو بٹھا کر کھلایا، ان سے اس فرق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: «أَنْزِلُوا النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ» ہر شخص کو اس کے مقام پر رکھو۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یحییٰ کی حدیث مختصر ہے، امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میمون نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4842]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17669) (ضعیف)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: لوگوں کے ساتھ اس طرح پیش آؤ جیسا کہ ان کے منصب کے شایان شان ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حبيب و تلميذه سفيان الثوري مدلسان وعنعنا
والسند منقطع
وأشار مسلم في مقدمة صحيحه إلي ضعفه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 168

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4843
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ، أَخْبَرَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ أَبِي كِنَانَةَ،عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ إِجْلَالِ اللَّهِ إِكْرَامَ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ وَحَامِلِ الْقُرْآنِ غَيْرِ الْغَالِي فِيهِ وَالْجَافِي عَنْهُ وَإِكْرَامَ ذِي السُّلْطَانِ الْمُقْسِطِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معمر اور سن رسیدہ مسلمان کی اور حافظ قرآن کی جو نہ اس میں غلو کرنے والا ہو ۱؎ اور نہ اس سے دور پڑ جانے والا ہو، اور عادل بادشاہ کی عزت و تکریم دراصل اللہ کے اجلال و تکریم ہی کا ایک حصہ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4843]
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ بوڑھے مسلمان اور صاحبِ قرآن کی عزت کرنا جو اس میں غلو اور تقصیر سے بچتا ہو اور (اسی طرح) حاکمِ عادل کی عزت کرنا، اللہ عزوجل کی عزت کرنے کا حصہ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4843]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9150) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: غلو کرنے والے سے مراد ایسا شخص ہے جو قرآن مجید پر عمل کرنے، اس کے متشابہات کے معانیٰ میں کھوج کرنے نیز اس کی قرات اور اس کے حروف کو مخارج سے ادائیگی میں حد سے تجاوز کرنے والا ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو كنانة مجهول (تق : 8327)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 168

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں