پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب في تنزيل الناس منازلهم
باب: ہر آدمی کو اس کے مقام و مرتبہ پر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4843
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ، أَخْبَرَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ أَبِي كِنَانَةَ،عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ إِجْلَالِ اللَّهِ إِكْرَامَ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ وَحَامِلِ الْقُرْآنِ غَيْرِ الْغَالِي فِيهِ وَالْجَافِي عَنْهُ وَإِكْرَامَ ذِي السُّلْطَانِ الْمُقْسِطِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معمر اور سن رسیدہ مسلمان کی اور حافظ قرآن کی جو نہ اس میں غلو کرنے والا ہو ۱؎ اور نہ اس سے دور پڑ جانے والا ہو، اور عادل بادشاہ کی عزت و تکریم دراصل اللہ کے اجلال و تکریم ہی کا ایک حصہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4843]
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ بوڑھے مسلمان اور صاحبِ قرآن کی عزت کرنا جو اس میں غلو اور تقصیر سے بچتا ہو اور (اسی طرح) حاکمِ عادل کی عزت کرنا، اللہ عزوجل کی عزت کرنے کا حصہ ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4843]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9150) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: غلو کرنے والے سے مراد ایسا شخص ہے جو قرآن مجید پر عمل کرنے، اس کے متشابہات کے معانیٰ میں کھوج کرنے نیز اس کی قرات اور اس کے حروف کو مخارج سے ادائیگی میں حد سے تجاوز کرنے والا ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو كنانة مجهول (تق : 8327)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 168
إسناده ضعيف
أبو كنانة مجهول (تق : 8327)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 168
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4843
| من إجلال الله إكرام ذي الشيبة المسلم حامل القرآن غير الغالي فيه والجافي عنه إكرام ذي السلطان المقسط |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4843 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4843
فوائد ومسائل:
1) جس شخص کی جوانی اسلام میں گزری ہو اور بڑھاپا آگیا ہو تو وہ بندہ اللہ تعالی کے نزدیک بہت مکرم اور باعزت ہوتا ہے۔
اسلامی معاشرے میں انھیں وقار دیا جانا لازمی ہے۔
2) صاحبِ قرآن یعنی حافظ، قاری، مدرس، مفسر اور داعی اسلام جو فی الواقع شرعی حدود کے پابند ہوں، تجاوز کریں نہ تقصیر کریں، انکا احترام بھی لازمی ہے۔
3) حدود اللہ نافذ کرنے والے منصف حاکم کا بھی یہی حق ہے کہ اس کا اعزاز و اکرام کیا جائے۔
ان حضرات کی اہمیت کے پیشِ نظر ہے، اللہ عزوجل نے ان کے اعزاز و اکرام کو اپنے اعزاز کا حصہ قرار دیا ہے۔
اور یہ بیان بطور تمثیل اور مبالغہ کے ہے۔
4) یہ روایت بعض محقیقین کے نزدیک حسن درجے کی ہے۔
دیکھئے: (صحیح الجامع، حدیث: 2095)
1) جس شخص کی جوانی اسلام میں گزری ہو اور بڑھاپا آگیا ہو تو وہ بندہ اللہ تعالی کے نزدیک بہت مکرم اور باعزت ہوتا ہے۔
اسلامی معاشرے میں انھیں وقار دیا جانا لازمی ہے۔
2) صاحبِ قرآن یعنی حافظ، قاری، مدرس، مفسر اور داعی اسلام جو فی الواقع شرعی حدود کے پابند ہوں، تجاوز کریں نہ تقصیر کریں، انکا احترام بھی لازمی ہے۔
3) حدود اللہ نافذ کرنے والے منصف حاکم کا بھی یہی حق ہے کہ اس کا اعزاز و اکرام کیا جائے۔
ان حضرات کی اہمیت کے پیشِ نظر ہے، اللہ عزوجل نے ان کے اعزاز و اکرام کو اپنے اعزاز کا حصہ قرار دیا ہے۔
اور یہ بیان بطور تمثیل اور مبالغہ کے ہے۔
4) یہ روایت بعض محقیقین کے نزدیک حسن درجے کی ہے۔
دیکھئے: (صحیح الجامع، حدیث: 2095)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4843]
Sunan Abi Dawud Hadith 4843 in Urdu
أبو كنانة القرشي ← عبد الله بن قيس الأشعري