🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

89. باب فِي حُسْنِ الظَّنِّ
باب: حسن ظن کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4993
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مُهَنَّا أَبِي شِبْلٍ، قال أبو داود: وَلَمْ أَفْهَمْهُ مِنْهُ جَيِّدًا، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ شُتَيْرٍ، قَالَ نَصْرٌ: ابْنِ نَهَّارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَصْرٌ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ" , قال أبو داود: مُهَنَّا ثِقَةٌ بَصْرِيٌّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن ظن حسن عبادت میں سے ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4993]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور بقول نصر (نصر بن علی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا گمان رکھنا حسن عبادت میں سے ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سند میں مذکور مہنا (مہنا بن ابو شبل) ثقہ ہے اور بصری ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4993]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 13490)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/304، 407، 491) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5048)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4994
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا، فَحَدَّثْتُهُ وَقُمْتُ فَانْقَلَبْتُ، فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي , وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ , قَالَا: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قال: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ، فَخَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا أَوْ قَالَ: شَرًّا".
ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے، میں ایک رات آپ کے پاس آپ سے ملنے آئی تو میں نے آپ سے گفتگو کی اور اٹھ کر جانے لگی، آپ مجھے پہنچانے کے لیے میرے ساتھ اٹھے اور اس وقت وہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے گھر میں رہتی تھیں، اتنے میں انصار کے دو آدمی گزرے انہوں نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو تیزی سے چلنے لگے، آپ نے فرمایا: تم دونوں ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ہیں ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ، اللہ کے رسول! (یعنی کیا ہم آپ کے سلسلہ میں بدگمانی کر سکتے ہیں) آپ نے فرمایا: شیطان آدمی میں اسی طرح پھرتا ہے، جیسے خون (رگوں میں) پھرتا ہے، تو مجھے اندیشہ ہوا کہ تمہارے دل میں کچھ ڈال نہ دے، یا یوں کہا: کوئی بری بات نہ ڈال دے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4994]
ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے اور میں رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے حاضر ہوئی، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرتی رہی، پھر اٹھ کر واپس جانے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی میرے ساتھ اٹھے تاکہ مجھے واپس پہنچا آئیں اور میری رہائش سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے احاطہ میں تھی۔ تو انصاریوں کے دو آدمی گزرے، انہوں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو ذرا تیزی سے چلنے لگے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہر جاؤ! یہ (میرے ساتھ) صفیہ بنت حیی ہے۔ ان دونوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ شیطان انسان کے جسم میں ایسے گردش کرتا ہے جیسے خون۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کچھ ڈال نہ دے۔ یا فرمایا: کوئی بری بات نہ ڈال دے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4994]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (2470)، (تحفة الأشراف: 15901) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں میری نسبت سے ان دونوں کے دل میں کوئی بات ایسی پیدا ہو گئی جو ان کے کفر و ارتداد کا سبب بن گئی تو یہ دونوں تباہ و برباد ہو جائیں گے، اس لئے ان پر شفقت کرتے ہوئے آپ نے ظن و شک والے امر کی وضاحت کر دی تاکہ یہ دونوں صحیح و سلامت رہیں کیونکہ آپ کو اپنی ذات کے بارے میں کوئی خوف نہیں تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3281) صحيح مسلم (2175)
وانظر الحديث السابق (2470)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں