یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
89. باب في حسن الظن
باب: حسن ظن کا بیان۔
حدیث نمبر: 4993
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مُهَنَّا أَبِي شِبْلٍ، قال أبو داود: وَلَمْ أَفْهَمْهُ مِنْهُ جَيِّدًا، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ شُتَيْرٍ، قَالَ نَصْرٌ: ابْنِ نَهَّارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَصْرٌ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ" , قال أبو داود: مُهَنَّا ثِقَةٌ بَصْرِيٌّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حسن ظن حسن عبادت میں سے ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4993]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور بقول نصر (نصر بن علی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا گمان رکھنا حسن عبادت میں سے ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سند میں مذکور مہنا (مہنا بن ابو شبل) ثقہ ہے اور بصری ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4993]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 13490)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/304، 407، 491) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5048)
مشكوة المصابيح (5048)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
0
| حسن الظن بالله من حسن عبادة الله |
سنن أبي داود |
4993
| حسن الظن من حسن العبادة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4993 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4993
فوائد ومسائل:
مسلمان بھائیوں کے متعلق خواہ مخواہ برے گمان رکھنا اور اس پر اپنے معاملات کی بنیاد رکھنا گناہ کی بات ہے۔
(نیز دیکھیے: گزشتہ حدیث 4917) تاہم ضروری ہے کہ انسان ازخود بھی تہمت اور شبہے کے مواقع سے دور رہے اور کسی کو برا گمان کرنے کا موقع نہ دے، جیسے اگلی حدیث میں آرہا ہے۔
مسلمان بھائیوں کے متعلق خواہ مخواہ برے گمان رکھنا اور اس پر اپنے معاملات کی بنیاد رکھنا گناہ کی بات ہے۔
(نیز دیکھیے: گزشتہ حدیث 4917) تاہم ضروری ہے کہ انسان ازخود بھی تہمت اور شبہے کے مواقع سے دور رہے اور کسی کو برا گمان کرنے کا موقع نہ دے، جیسے اگلی حدیث میں آرہا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4993]
Sunan Abi Dawud Hadith 4993 in Urdu
شتير بن نهار العبدي ← أبو هريرة الدوسي