🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

110. باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ
باب: صبح کے وقت کیا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5087
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، قَالَ: كَانَ أَبُو ذَرٍّ، يَقُولُ:" مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: اللَّهُمَّ مَا حَلَفْتُ مِنْ حَلِفٍ، أَوْ قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ، أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ، فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْ ذَلِكَ كُلِّهِ، مَا شِئْتَ كَانَ وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنْ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَتَجَاوَزْ لِي عَنْهُ، اللَّهُمَّ فَمَنْ صَلَّيْتَ عَلَيْهِ فَعَلَيْهِ صَلَاتِي، وَمَنْ لَعَنْتَ فَعَلَيْهِ لَعْنَتِي، كَانَ فِي اسْتِثْنَاءٍ يَوْمَهُ ذَلِكَ، أَوْ قَالَ: ذَلِكَ الْيَوْمَ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے تھے جو شخص صبح کرتے وقت کہے «اللهم ما حلفت من حلف أو قلت من قول أو نذرت من نذر فمشيئتك بين يدى ذلك كله ما شئت كان وما لم تشأ لم يكن اللهم اغفر لي وتجاوز لي عنه اللهم فمن صليت عليه فعليه صلاتي ومن لعنت فعليه لعنتي» اے اللہ! میں جو بھی قسم کھاؤں یا جو بھی بات کہوں یا جو بھی نذر مانوں ان تمام میں تیری مشیت ہی میری نظروں میں مقدم ہے، جو تو، چاہے گا ہو گا، جو تو نہیں چاہے گا نہیں ہو گا، اے اللہ! تو مجھے بخش دے، اور مجھ سے درگزر فرما، اے اللہ! جس پر تیری رحمت ہو تو اسے میری دعا بھی شامل حال رہے اور جس پر تو لعنت فرمائے اس پر میری طرف سے بھی لعنت ہو۔ تو وہ اس دن کے (فتنوں) سے محفوظ و مستثنٰی رہے گا، راوی کو شک ہے «يومه ذلك» کہا یا «ذلك اليوم» کہا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5087]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ: جس نے صبح کے وقت یہ دعا پڑھی: «اللَّهُمَّ مَا حَلَفْتُ مِنْ حَلِفٍ، أَوْ قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ، أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ، فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْ ذَلِكَ كُلِّهِ، مَا شِئْتَ كَانَ، وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَتَجَاوَزْ لِي عَنْهُ، اللَّهُمَّ فَمَنْ صَلَّيْتَ عَلَيْهِ فَعَلَيْهِ صَلَاتِي، وَمَنْ لَعَنْتَ فَعَلَيْهِ لَعْنَتِي» اے اللہ! میں نے جو کوئی قسم اٹھائی ہو یا کوئی بات کہی ہو یا کوئی نذر مانی ہو تو تیری مشیت اور ارادہ اس سب کچھ کے آگے ہے۔ جو تو چاہتا ہے ہو جاتا ہے اور جو تو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھ سے ان امور میں درگزر فرما۔ اے اللہ! جس پر تو نے اپنی صلاۃ (رحمت) نازل کی ہے تو میری طرف سے بھی اس کے لیے صلاۃ (رحمت) ہو۔ اور جس پر تو نے لعنت کی ہے میری طرف سے بھی اس کو پھٹکار ہو۔ یہ کلمات پڑھنے والا اس دن کی غلطیوں سے مستثنیٰ ہوگا (محفوظ رہے گا)۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5087]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (قاسم بن عبدالرحمن المسعودی کی ابوذر سے روایت میں انقطاع ہے، کیونکہ دونوں میں لقاء و سماع نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5088
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَوْدُودٍ، عَمَّنْ سَمِعَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَمْ تُصِبْهُ فَجْأَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُصْبِحَ، وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثُ مَرَّاتٍ، لَمْ تُصِبْهُ فَجْأَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُمْسِيَ" وقَالَ: فَأَصَابَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ الْفَالِجُ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ الَّذِي سَمِعَ مِنْهُ الْحَدِيثَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: مَا لَكَ تَنْظُرُ إِلَيَّ؟ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ عَلَى عُثْمَانَ، وَلَا كَذَبَ عُثْمَانُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنَّ الْيَوْمَ الَّذِي أَصَابَنِي فِيهِ مَا أَصَابَنِي غَضِبْتُ فَنَسِيتُ أَنْ أَقُولَهَا.
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص تین بار «بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شىء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم» اللہ کے نام سے کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور وہی سننے والا اور جاننے والا ہے کہے تو اسے صبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی، اور جو شخص تین مرتبہ صبح کے وقت اسے کہے تو اسے شام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی، راوی حدیث ابومودود کہتے ہیں: پھر راوی حدیث ابان بن عثمان پر فالج کا حملہ ہوا تو وہ شخص جس نے ان سے یہ حدیث سنی تھی انہیں دیکھنے لگا، تو ابان نے اس سے کہا: مجھے کیا دیکھتے ہو، قسم اللہ کی! نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے اور نہ ہی عثمان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، لیکن (بات یہ ہے کہ) جس دن مجھے یہ بیماری لاحق ہوئی اس دن مجھ پر غصہ سوار تھا (اور غصے میں) اس دعا کو پڑھنا بھول گیا تھا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5088]
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جس نے (شام کو) تین بار یہ دعا پڑھ لی، اسے صبح تک کوئی اچانک مصیبت نہیں آئے گی: «بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» اللہ کے نام سے، وہ ذات کہ اس کے نام سے کوئی چیز زمین میں ہو یا آسمان میں، نقصان نہیں دے سکتی اور وہ خوب سنتا ہے اور خوب جانتا ہے۔ اور جس نے صبح کے وقت تین بار یہ دعا پڑھ لی اسے شام تک کوئی اچانک مصیبت نہیں آئے گی۔ راوی نے بیان کیا کہ اس حدیث کے روایت کرنے والے ابان بن عثمان رحمہ اللہ کو فالج ہو گیا تھا تو ان سے حدیث سننے والا، ان کو تعجب سے دیکھنے لگا (کہ پھر یہ فالج کیونکر ہو گیا؟) تو انہوں نے کہا: کیا ہوا، مجھے دیکھتے کیا ہو؟ اللہ کی قسم! میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر جھوٹ نہیں بولا ہے اور نہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولا ہے۔ لیکن جس دن مجھے یہ فالج ہوا میں اس دن غصے میں تھا اور یہ کلمات پڑھنا بھول گیا تھا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5088]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 13 (3388)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 14 (3869)، (تحفة الأشراف: 9778)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/62، 72) (صحیح) مسند ابی داؤد الطیالسی: 79، شرح مشکل الآثار: 3076، الدعوات الکبیر: 34، المختارۃ: 310، صحیح ابن حبان: 852، 862, قال البانی رحمہ اللّٰہ وشعیب الارنووط رحمہ اللّٰہ: صحیح»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (2391)
أخرجه الترمذي (3388 وسنده حسن) وانظر الحديث الآتي (5059)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5089
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَوْدُودٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْفَالِجِ.
عثمان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے لیکن اس میں فالج کا قصہ مذکور نہیں۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5089]
محمد بن کعب نے ابان بن عثمان سے، انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا، مگر فالج والا قصہ ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5089]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9778) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر الحديث السابق (5088)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5090
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْجَلِيلِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِيهِ:" يَا أَبَتِ إِنِّي أَسْمَعُكَ تَدْعُو كُلَّ غَدَاةٍ: اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ تُعِيدُهَا ثَلَاثًا حِينَ تُصْبِحُ وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِنَّ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهِ , قال عَبَّاسٌ فِيهِ: وَتَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ تُعِيدُهَا ثَلَاثًا حِينَ تُصْبِحُ وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي فَتَدْعُو بِهِنَّ، فَأُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهِ , قال: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعَوَاتُ الْمَكْرُوبِ: اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ" , وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى صَاحِبِهِ.
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے کہا ابو جان! میں آپ کو ہر صبح یہ دعا پڑھتے ہوئے سنتا ہوں «اللهم عافني في بدني اللهم عافني في سمعي اللهم عافني في بصري لا إله إلا أنت» اے اللہ! تو میرے جسم کو عافیت نصیب کر، اے اللہ! تو میرے کان کو عافیت عطا کر، اے اللہ! تو میری نگاہ کو عافیت سے نواز دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں آپ اسے تین مرتبہ دہراتے ہیں جب صبح کرتے ہیں اور تین مرتبہ جب شام کرتے ہیں؟، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی دعا کرتے ہوئے سنا ہے، اور مجھے پسند ہے کہ میں آپ کا مسنون طریقہ اپناؤں۔ عباس بن عبدالعظیم کی روایت میں اتنا مزید ہے کہ آپ کہتے «اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر لا إله إلا أنت» اے اللہ! میں کفر و محتاجی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، تو ہی معبود برحق ہے تین مرتبہ اسے صبح دہراتے اور تین مرتبہ اسے شام میں، ان کے ذریعہ آپ دعا کرتے تو میں پسند کرتا ہوں کہ آپ کی سنت کا طریقہ اپناؤں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مصیبت زدہ و پریشان حال کے لیے یہ دعا ہے «اللهم رحمتك أرجو فلا تكلني إلى نفسي طرفة عين وأصلح لي شأني كله لا إله إلا أنت» اے اللہ! میں تیری ہی رحمت چاہتا ہوں، تو مجھے ایک لمحہ بھی نظر انداز نہ کر، اور میرے تمام کام درست فرما دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے بعض راوی الفاظ میں کچھ اضافہ کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5090]
جناب عبدالرحمٰن بن ابوبکرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے کہا: ابا جان! میں آپ کو سنتا ہوں کہ آپ ہر صبح یہ دعا پڑھتے ہیں: «اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» اے اللہ! مجھے میرے بدن میں آرام دے۔ اے اللہ! میرے کانوں کو سلامت رکھ، یا اللہ! میری نظر کو درست رکھ۔ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ آپ یہ دعا صبح کو تین بار پڑھتے ہیں اور شام ہوتی ہے تو تین بار پڑھتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرتے سنا ہے، تو میں پسند کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کروں۔ (دوسرے راوی) عباس (عباس بن عبدالعظیم) نے اپنی روایت میں کہا: اور آپ یہ دعا بھی پڑھتے ہیں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ، وَالْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» اے اللہ! میں کفر اور محتاجی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ یا اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ آپ یہ دعا صبح کو تین بار دہراتے ہیں اور شام کو بھی پڑھتے ہیں۔ (تو انہوں نے کہا) میں پسند کرتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کروں۔ اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پریشان حال کے لیے یہ دعا ہے: «اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» اے اللہ! میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں، تو مجھے آنکھ جھپکنے تک کے لیے بھی میری اپنی جان کے حوالے نہ فرما دے، اور میرے سارے معاملات درست فرما دے، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اس روایت میں عباس بن عبدالعظیم اور محمد بن مثنی نے بعض کلمات ایک دوسرے سے کچھ زیادہ کہے ہیں۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5090]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11685)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/42) (حسن الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
جعفر بن ميمون ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5091
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ، وَإِذَا أَمْسَى كَذَلِكَ، لَمْ يُوَافِ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ بِمِثْلِ مَا وَافَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص  «سبحان الله العظيم وبحمده» سو مرتبہ صبح پڑھے اور اسی طرح شام کو بھی سو مرتبہ پڑھے تو اس کے برابر مخلوق میں کسی کا درجہ نہیں ہو سکتا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5091]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت سو بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» پاک ہے اللہ عظمت والا اور اپنی تعریف کے ساتھ کہہ لے اور اسی طرح شام کو بھی، تو مخلوقات میں کوئی ایسا نہ ہو گا جس نے اس قدر ثواب پایا ہو گا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5091]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الذکر والدعاء 10 (2692)، سنن الترمذی/الدعوات 59 (3469)، (تحفة الأشراف: 12560)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/371) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2692)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں