🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

110. باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ
باب: صبح کے وقت کیا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5067
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِكَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ , قال: قُلْ: اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، قَالَ: قُلْهَا: إِذَا أَصْبَحْتَ، وَإِذَا أَمْسَيْتَ، وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کچھ ایسے کلمات بتائیے جنہیں میں جب صبح کروں اور جب شام کروں تو کہہ لیا کروں، آپ نے فرمایا: کہو «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة رب كل شىء ومليكه أشهد أن لا إله إلا أنت أعوذ بك من شر نفسي وشر الشيطان وشركه» اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، پوشیدہ اور موجود ہر چیز کے جاننے والے، ہر چیز کے پالنہار اور مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں تیری ذات کے ذریعہ اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر سے، اور اس کے شرک سے پناہ مانگتا ہوں آپ نے فرمایا: جب صبح کرو اور جب شام کرو اور جب سونے چلو تب اس دعا کو پڑھ لیا کرو۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5067]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 14 (3392)، (تحفة الأشراف: 14274)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/9، 10، 297)، سنن الدارمی/الاستئذان 54 (2731) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (2390)
أخرجه الترمذي (3392 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5068
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ: اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ، وَإِذَا أَمْسَى قَالَ: اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کرتے تو فرماتے: «اللهم بك أصبحنا وبك أمسينا وبك نحيا وبك نموت وإليك النشور» اے اللہ ہم نے صبح کی تیرے نام پر اور شام کی تیرے نام پر، جیتے ہیں تیرے نام پر، مرتے ہیں تیرے نام پر، اور مر کر تیرے ہی پاس ہمیں پلٹ کر جانا ہے اور جب شام کرتے تو فرماتے: «اللهم بك أمسينا وبك نحيا وبك نموت وإليك النشور» اے اللہ! ہم نے تیرے ہی نام پر شام کی، اور تیرے ہی نام پر ہم جیتے ہیں، تیرے ہی نام پر مرتے ہیں اور تیری ہی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5068]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12756)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 13 (3391)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 14 (3868)، مسند احمد (2/354، 522) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2389)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5069
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ مَكْحُولٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ أَوْ يُمْسِي: اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ، وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَمَلَائِكَتَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، أَعْتَقَ اللَّهُ رُبُعَهُ مِنَ النَّارِ، فَمَنْ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ: أَعْتَقَ اللَّهُ نِصْفَهُ، وَمَنْ قَالَهَا ثَلَاثًا: أَعْتَقَ اللَّهُ ثَلَاثَةَ أَرْبَاعِهِ، فَإِنْ قَالَهَا أَرْبَعًا: أَعْتَقَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ دعا پڑھے  «اللهم إني أصبحت أشهدك وأشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك أنك أنت الله لا إله إلا أنت وأن محمدا عبدك ورسولك» اے اللہ! میں نے صبح کی، میں تجھے اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں کو تیرے فرشتوں کو اور تیری ساری مخلوقات کو گواہ بناتا ہوں کہ: تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک چوتھائی حصہ جہنم سے آزاد کر دے گا، پھر جو دو مرتبہ کہے گا اللہ اس کا نصف حصہ آزاد کر دے گا، اور جو تین بار کہے گا تو اللہ اس کے تین چوتھائی حصے کو آزاد کر دے گا، اور اگر وہ چار بار کہے گا تو اللہ اسے پورے طور پر جہنم سے نجات دیدے گا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5069]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1603) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عبدالرحمان بن عبدالمجید مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الحديث الآتي (5078) شاھد له

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5070
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ الطَّائِيُّ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ أَوْ حِينَ يُمْسِي: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ بِنِعْمَتِكَ، وَأَبُوءُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ أَوْ مِنْ لَيْلَتِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت یا شام کے وقت کہے: «اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت أبوء بنعمتك وأبوء بذنبي فاغفر لي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا میرا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو نے ہی مجھے پیدا کیا ہے، میں تیرا بندہ ہوں، میں تیرے ساتھ اپنے اقرار پر قائم ہوں اور تیرے وعدے پر مضبوطی سے طاقت بھر جما ہوا ہوں، اس شر سے جو مجھ سے سرزد ہوئے ہوں تیری پناہ چاہتا ہوں، تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں تو مجھے معاف کر دے، تیرے سوا کوئی اور گناہ معاف نہیں کر سکتا اور اسی دن یا اسی رات میں مر جائے تو جنت میں داخل ہو گا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5070]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الدعاء 14 (3872)، (تحفة الأشراف: 2004)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/356) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (3872 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5071
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" إِذَا أَمْسَى أَمْسَيْنَا، وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ" , زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، وَأَمَّا زُبَيْدٌ كَانَ يَقُولُ: كَانَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ، يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَمِنْ سُوءِ الْكِبَرِ أَوِ الْكُفْرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ، وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا: أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ , قال أبو داود: رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: مِنْ سُوءِ الْكِبَرِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: سُوءَ الْكُفْرِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب شام کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله لا إله إلا الله وحده لا شريك له» ہم نے شام کی، اور ملک نے شام کی جو اللہ تعالیٰ کا ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی اس کا شریک ہے۔ جریر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: زبید کہتے تھے کہ ابراہیم بن سوید کی روایت میں ہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير رب أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بك من شر ما في هذه الليلة وشر ما بعدها رب أعوذ بك من الكسل ومن سوء الكبر أو الكفر رب أعوذ بك من عذاب في النار وعذاب في القبر» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے ملک ہے، اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے رب! اس رات اور اس کے بعد کی رات کی بھلائی کا طلب گار ہوں، اور اس رات اور اس کے بعد کی رات کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں سستی اور کاہلی سے، اور بڑھاپے، یا کفر سے یا غرور کی برائی سے، اے رب میں پناہ مانگتا ہوں آگ کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے اور جب صبح ہوتی تو بھی یہی کہتے فرق صرف یہ ہوتا کہ «أمسينا وأمسى الملك لله» کے بجائے «أصبحنا وأصبح الملك لله» ہم نے صبح کی اور ملک نے صبح کی جو اللہ تعالیٰ کا ہے کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے شعبہ نے سلمہ بن کہل سے، سلمہ نے ابراہیم بن سوید سے روایت کیا ہے اس میں «من سوء الكبر» ہے انہوں نے «من سوء الكفر» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5071]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الذکر والدعاء 18 (2723)، سنن الترمذی/الدعوات 13 (3390)، (تحفة الأشراف: 9386)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/440 مرفوعًا) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2732)
مشكوة المصابيح (2392)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5072
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ، عَنْ سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَسْجِدِ حِمْصَ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ، فَقَالُوا: هَذَا خَدَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَدَاوَلْهُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ الرِّجَالُ , قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ".
ابو سلام کہتے ہیں کہ وہ حمص کی مسجد میں تھے کہ ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا، لوگوں نے کہا، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم رہے ہیں، راوی کہتے ہیں: تو ابو سلام اٹھ کر ان کے پاس گئے، اور ان سے عرض کیا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی ایسی حدیث ہم سے بیان فرمائیے، جس میں آپ کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کسی اور شخص کا واسطہ نہ ہو، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے جب صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ دعا پڑھی «رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا» ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے سے راضی و خوش ہیں تو اللہ پر اس کا یہ حق بن گیا کہ وہ بھی اس سے راضی و خوش ہو جائے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5072]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الدعاء 17 (3870)، (تحفة الأشراف: 12050، 15675)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/337، 5/367) (ضعیف) (اس کے راوی ''سابق بن ناجیہ'' لین الحدیث ہیں)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2399)
سابق بن ناجية حسن الحديث

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5073
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ , وَإِسْمَاعِيل , قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عنبسة , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَنَّامٍ الْبَيَاضِيِّ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ اللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ فَقَدْ أَدَّى شُكْرَ يَوْمِهِ وَمَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ حِينَ يُمْسِي فَقَدْ أَدَّى شُكْرَ لَيْلَتِهِ".
عبداللہ بن غنام بیاضی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت یہ دعا پڑھی «اللهم ما أصبح بي من نعمة فمنك وحدك لا شريك لك فلك الحمد ولك الشكر» اے اللہ! صبح کو جو نعمتیں میرے پاس ہیں وہ تیری ہی دی ہوئی ہیں، تو اکیلا ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے، تو ہی ہر طرح کی تعریف کا مستحق ہے، اور میں تیرا ہی شکر گزار ہوں تو اس نے اس دن کا شکر ادا کر دیا اور جس نے شام کے وقت ایسا ہی کہا تو اس نے اس رات کا شکر ادا کر دیا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5073]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8976) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عبداللہ بن عنبسہ لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبداﷲ بن عنبسة لم يوثقه غير ابن حبان وقال أبو زرعة : ’’ لا أعرفه إلا في ھذا الحديث‘‘ فھو : مجهول (التحرير: 3517)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 175

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5074
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيُّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ:" لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُ هَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي، وَقَالَ عُثْمَانُ: عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي" , قال أبو داود: قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي الْخَسْفَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح اور شام کرتے تو ان دعاؤں کا پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے «اللهم إني أسألك العافية في الدنيا والآخرة اللهم إني أسألك العفو والعافية في ديني ودنياى وأهلي ومالي اللهم استر عورتي» (عثمان کی روایت میں «عوراتي» ہے) «عوراتي وآمن روعاتي اللهم احفظني من بين يدى ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي وأعوذ بعظمتك أن أغتال من تحتي» اے للہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا طالب ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے عفو و درگزر کی، اپنے دین و دنیا، اہل و عیال، مال میں بہتری و درستگی کی درخواست کرتا ہوں، اے اللہ! ہماری ستر پوشی فرما۔ اے اللہ! ہماری شرمگاہوں کی حفاظت فرما، اور ہمیں خوف و خطرات سے مامون و محفوظ رکھ، اے اللہ! تو ہماری حفاظت فرما آگے سے، اور پیچھے سے، دائیں اور بائیں سے، اوپر سے، اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اچانک اپنے نیچے سے پکڑ لیا جاؤں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وکیع کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ زمین میں دھنسا نہ دیا جاؤں۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5074]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الاستعاذة 59 (5531)، عمل الیوم واللیلة 181 (566)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 14 (3871)، (تحفة الأشراف: 6673)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/25) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2397)
أخرجه النسائي (5531 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5075
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ سَالِمًا الْفَرَّاءَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أُمَّهُ حَدَّثَتْهُ، وَكَانَتْ تَخْدِمُ بَعْضَ بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ ابْنَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهَا،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهَا، فَيَقُولُ: قُولِي حِينَ تُصْبِحِينَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ، فَإِنَّهُ مَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُصْبِحُ: حُفِظَ حَتَّى يُمْسِيَ، وَمَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُمْسِي: حُفِظَ حَتَّى يُصْبِحَ".
بنی ہاشم کے غلام عبدالحمید بیان کرتے ہیں کہ ان کی ماں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کی خدمت میں رہا کرتی تھیں انہیں بتایا کہ ان کی صاحبزادی نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سکھاتے تھے کہ جب تم صبح کرو تو کہو «سبحان الله وبحمده لا قوة إلا بالله ما شاء الله كان وما لم يشأ لم يكن أعلم أن الله على كل شىء قدير وأن الله قد أحاط بكل شىء علما» میں اللہ کی پاکی بیان کرتا، اور اس کی تعریف کرتا ہوں، کسی میں طاقت نہیں سوائے اللہ کے، جو اللہ چاہے گا وہی ہو گا، اور جو وہ نہیں چاہے وہ نہیں ہو گا، میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ اپنے علم سے ہر چیز کو محیط ہے جو شخص ان کلمات کو صبح کے وقت کہے گا اس کی (اللہ کی طرف سے) شام تک حفاظت کی جائے گی، اور جو شام کے وقت کہے گا اس کی صبح تک۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5075]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18388) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (عبدالحمید اور ان کی ماں مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبدالحميد لم يوثقه غير ابن حبان وجھله أبو حاتم وغيره فھو مجهول (التحرير : 3777)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 175

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5076
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح وحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ النَّجَّارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، قال: الرَّبِيعُ ابْنُ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ، وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ إِلَى وَكَذَلِكَ تُخْرَجُونَ، أَدْرَكَ مَا فَاتَهُ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ، وَمَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُمْسِي، أَدْرَكَ مَا فَاتَهُ فِي لَيْلَتِهِ" , قال: الرَّبِيعُ، عَنْ اللَّيْثِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت «فسبحان الله حين تمسون وحين تصبحون، وله الحمد في السموات والأرض وعشيا وحين تظهرون» سے لے کر «وكذلك تخرجون» تک کہے تو اس دن کے ثواب میں جو کمی رہ گئی ہو گی اس کی تلافی ہو جائے گی، اور جو شخص شام کو ان کلمات کو کہے تو اس رات میں اس کی نیکیوں و بھلائیوں میں جو کمی رہ گئی ہو گی اس کی تلافی ہو جائے گی۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5076]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5813) (ضعیف جدّاً)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی محمد بن عبدالرحمن البیلمانی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن بشير النجاري الأنصاري : مجهول،وشيخه محمد بن عبد الرحمٰن بن البيلماني ضعيف وقد اتھمه ابن عدي و ابن حبان،و عبد الرحمٰن ابن البيلماني ضعيف (تق: 2277،6067،3819)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 175

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں