سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
125. باب فِي الدَّالِّ عَلَى الْخَيْرِ
باب: بھلائی کی طرف رہنمائی کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 5129
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي , قال: لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكَ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ ائْتِ فُلَانًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَحْمِلَكَ , فَأَتَاهُ فَحَمَلَهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ".
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری سواری تھک گئی ہے مجھے کوئی سواری دے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر تجھے سوار کرا سکوں لیکن تم فلاں شخص کے پاس جاؤ شاید وہ تمہیں سواری دیدے“ تو وہ شخص اس شخص کے پاس گیا، اس نے اسے سواری دے دی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: ”جس نے کسی بھلائی کی طرف کسی کی رہنمائی کی تو اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس کام کے کرنے والے کو ملے گا“۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5129]
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میری سواری نہیں رہی، مجھے سواری عنایت فرمائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس تو کوئی ایسی سواری نہیں جو میں تمہیں دے سکوں۔ لیکن فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ، شاید وہ تمہیں کوئی سواری دے دے۔“ چنانچہ وہ اس کے پاس چلا گیا اور اس نے اسے سواری دے دی۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا (کہ اس نے سواری دے دی ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی خیر کی رہنمائی کرے، اسے بھی بھلائی کرنے والے کی مانند ثواب ملتا ہے۔“ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5129]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 38 (1893)، سنن الترمذی/العلم 14 (2671)، (تحفة الأشراف: 9986)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/120، 5/272، 273، 274) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1893)