سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
175. باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ
باب: سانپوں کو مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5258
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , بِهَذَا الْحَدِيثِ مُخْتَصَرًا , قَالَ: فَلْيُؤْذِنْهُ ثَلَاثًا , فَإِنْ بَدَا لَهُ بَعْدُ , فَلْيَقْتُلْهُ , فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ.
اس سند سے ابن عجلان سے یہی حدیث مختصراً مروی ہے، اس میں ہے کہ اسے (سانپ کو) تین بار آگاہ کر دو، (اگر جن وغیرہ ہو تو چلے جاؤ) پھر اس کے بعد اگر وہ تمہیں نظر آئے تو اسے مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5258]
جناب ابن عجلان رحمہ اللہ نے یہ حدیث اختصار سے روایت کی، کہا: ”اسے تین بار خبردار کرے۔ اس کے بعد اگر ظاہر ہو تو قتل کر دے، بلاشبہ وہ شیطان ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5258]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (5257)، (تحفة الأشراف: 4413) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2236)
حدیث نمبر: 5259
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ , عَنْ صَيْفِيٍّ مَوْلَى ابْنِ أَفْلَحَ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَأَتَمَّ مِنْهُ , قَالَ: فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ , فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ , فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ.
ہشام بن زہرہ کے غلام ابوسائب نے خبر دی ہے کہ وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، پھر راوی نے اسی جیسی اور اس سے زیادہ کامل حدیث ذکر کی اس میں ہے: ”اسے تین دن تک آگاہ کرو اگر اس کے بعد بھی وہ تمہیں نظر آئے تو اسے مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5259]
جناب ابوسائب مولیٰ ہشام بن زہرہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند بلکہ اس سے کامل روایت کی، کہا: ”اسے تین دن تک متنبہ کرو، اگر اس کے بعد تمہارے سامنے آئے تو قتل کر دو، بلاشبہ وہ شیطان ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (5257)، (تحفة الأشراف: 4413) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2236)
حدیث نمبر: 5260
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ هَاشِمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى , عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ حَيَّاتِ الْبُيُوتِ , فَقَالَ: إِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُنَّ شَيْئًا فِي مَسَاكِنِكُمْ , فَقُولُوا: أَنْشُدُكُنَّ الْعَهْدَ الَّذِي أَخَذَ عَلَيْكُنَّ نُوحٌ , أَنْشُدُكُنَّ الْعَهْدَ الَّذِي أَخَذَ عَلَيْكُنَّ سُلَيْمَانُ , أَنْ لَا تُؤْذُونَا فَإِنْ عُدْنَ فَاقْتُلُوهُنَّ".
ابولیلیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھروں میں نکلنے والے سانپوں کے متعلق دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”جب تم ان میں سے کسی کو اپنے گھر میں دیکھو تو کہو: میں تمہیں وہ عہد یاد دلاتا ہوں جو تم سے نوح علیہ السلام نے لیا تھا، وہ عہد یاد دلاتا ہوں جو تم سے سلیمان علیہ السلام نے لیا تھا کہ تم ہمیں تکلیف نہیں پہنچاؤ گے اس یاددہانی کے باوجود اگر وہ دوبارہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالو“۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5260]
جناب عبدالرحمٰن بن ابولیلیٰ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھروں میں پائے جانے والے سانپوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ان میں سے کسی چیز کو اپنے گھروں میں دیکھو تو ان سے کہو: میں تمہیں وہ قسم دیتا ہوں جو سیدنا نوح علیہ السلام نے تمہیں دی تھی۔ میں تمہیں وہ قسم دیتا ہوں جو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے تمہیں دی تھی کہ ہمیں کسی قسم کی ایذا نہ دینا۔ اگر پھر بھی وہ نکلیں تو قتل کر دو۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصید 15 (1485)، (تحفة الأشراف: 12152) (ضعیف)» (اس کے راوی محمد بن ابی لیلی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1485)
محمد بن أبي ليلي : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
إسناده ضعيف
ترمذي (1485)
محمد بن أبي ليلي : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
حدیث نمبر: 5261
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ , أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , أَنَّهُ قَالَ:" اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهَا إِلَّا الْجَانَّ الْأَبْيَضَ الَّذِي كَأَنَّهُ قَضِيبُ فِضَّةٍ" , قَالَ أبو داود: فَقَالَ لِي: إِنْسَانٌ الْجَانُّ لَا يَنْعَرِجُ فِي مِشْيَتِهِ , فَإِذَا كَانَ هَذَا صَحِيحًا كَانَتْ عَلَامَةً فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ".
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سبھی سانپوں کو مارو سوائے اس سانپ کے جو سفید ہوتا ہے چاندی کی چھڑی کی طرح (یعنی سفید سانپ کو نہ مارو)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: تو ایک آدمی نے مجھ سے کہا: جن اپنی چال میں مڑتا نہیں اگر وہ سیدھا چل رہا ہو تو یہی اس کی پہچان ہے، إن شاء اللہ۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5261]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”سب قسم کے سانپوں کو قتل کر دیا کرو، سوائے ان کے جو سفید چاندی کی چھڑی کی مانند ہوں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مجھے ایک شخص نے بتایا کہ سانپ کی شکل میں جن اپنے چلنے میں ٹیڑھا ہو کر نہیں چلتا ہے، اگر وہ بالکل سیدھا چلے تو ان شاء اللہ یہ اس کے جن ہونے کی علامت ہو گی۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5261]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9159) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مغيرة بن مقسم عنعن
وإبراهيم النخعي لم يسمع من عبد اللّٰه بن مسعودرضي اللّٰه عنه فالسند منقطع ولا ينفع إبراهيم أن يروي عن جماعة من أصحابه،التابعين أو أتباع التابعين : المجاهيل عن ابن مسعود رضي اللّٰه عنه،وقال الشافعي : ’’ وأصل قولنا أن إبراهيم لو روي عن علي و عبد اللّٰه لم يقبل منه لأنه لم يلق واحدًا منھما ‘‘ (الأم 105/1)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
إسناده ضعيف
مغيرة بن مقسم عنعن
وإبراهيم النخعي لم يسمع من عبد اللّٰه بن مسعودرضي اللّٰه عنه فالسند منقطع ولا ينفع إبراهيم أن يروي عن جماعة من أصحابه،التابعين أو أتباع التابعين : المجاهيل عن ابن مسعود رضي اللّٰه عنه،وقال الشافعي : ’’ وأصل قولنا أن إبراهيم لو روي عن علي و عبد اللّٰه لم يقبل منه لأنه لم يلق واحدًا منھما ‘‘ (الأم 105/1)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182