سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ: فَضْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب۔
حدیث نمبر: 109
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ، وَرَفِيقِي فِيهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق (ساتھی) ہے، اور میرے رفیق (ساتھی) اس میں عثمان بن عفان ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 109]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کا جنت میں ایک ساتھی ہوتا ہے اور وہاں میرا ساتھی عثمان بن عفان ہے۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 109]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13790، ومصباح الزجاجة: 43) (ضعیف)» (عثمان بن خالد ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ا لضعیفہ: 2291)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
عثمان بن خالد العثماني: متروك الحديث (تقريب: 4464)
فالسند ضعيف جدًا
وللحديث شاهد ضعيف عندالترمذي (3698)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
ضعيف
عثمان بن خالد العثماني: متروك الحديث (تقريب: 4464)
فالسند ضعيف جدًا
وللحديث شاهد ضعيف عندالترمذي (3698)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
حدیث نمبر: 110
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِى الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَقِيَ عُثْمَانَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا عُثْمَانُ" هَذَا جِبْرِيلُ، أَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ قَدْ زَوَّجَكَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِمِثْلِ صَدَاقِ رُقَيَّةَ، عَلَى مِثْلِ صُحْبَتِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان رضی اللہ عنہ سے مسجد کے دروازے پر ملے، اور فرمایا: ”عثمان! یہ جبرائیل ہیں انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی شادی ام کلثوم سے رقیہ کے مہر مثل پر کر دی ہے، اس شرط پر کہ تم ان کو بھی اسی خوبی سے رکھو جس طرح اسے (رقیہ کو) رکھتے تھے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 110]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے دروازے کے پاس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا: ”عثمان! یہ جبریل علیہ السلام ہیں، انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نکاح ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے رقیہ رضی اللہ عنہا کے مہر کے برابر مہر پر کر دیا ہے، اس شرط پر کہ ان سے بھی اسی طرح حسن سلوک کرو جس طرح رقیہ رضی اللہ عنہا سے کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13789، ومصباح الزجاجة: 44) (ضعیف)» (اس کی سند میں بھی عثمان بن خالد ضعیف راوی ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، جیسا کہ گذشتہ حدیث (109) میں گزرا)
وضاحت: ۱؎: ام کلثوم اور رقیہ رضی اللہ عنہما دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں تھیں، اور پہلے دونوں ابولہب کے دونوں بیٹے عتبہ اور ربیعہ کے نکاح میں تھیں، دخول سے پہلے ہی ابولہب نے اپنے دونوں لڑکوں کو کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑکیوں کو طلاق دے دو، تو انہوں نے طلاق دے دی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ایک کی شادی عثمان رضی اللہ عنہ سے کی، پھر ان کے انتقال کے بعد دوسری کی شادی بھی انہی سے کر دی، اس لئے ان کا لقب ذوالنورین ہوا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (109)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
ضعيف
انظر الحديث السابق (109)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
حدیث نمبر: 111
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى"، فَوَثَبْتُ، فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْ عُثْمَانَ، ثُمَّ اسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ:" هَذَا".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا کہ وہ جلد ظاہر ہو گا، اسی درمیان ایک شخص اپنا سر منہ چھپائے ہوئے گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص ان دنوں ہدایت پر ہو گا“، کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں تیزی سے اٹھا، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھے پکڑ لیے، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب رخ کر کے کہا: کیا یہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں یہی ہیں (جو ہدایت پر ہوں گے)“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 111]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنے کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ بہت قریب ہے۔ (اسی اثنا میں) ایک صاحب گزرے جنہوں نے سر پر چادر لی ہوئی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (فتنے کے) دن یہ شخص ہدایت پر ہوگا۔“ میں جلدی سے اٹھا، عثمان رضی اللہ عنہ کے دونوں بازو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: ”کیا یہ شخص؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ہاں) یہی شخص۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 111]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11117، ومصباح الزجاجة: 45)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المنا قب 19 (3704)، مسند احمد (4/ 235، 236، 242، 243) (صحیح)» (ابن سیرین اور کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن مرة بن کعب کی ترمذی کی حدیث نمبر (3704) کے شاہد سے یہ صحیح ہے، جس کی تصحیح امام ترمذی نے کی ہے)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کرنے والے، اور فتنہ کھڑا کرنے والے حق پر نہ تھے، اور عثمان رضی اللہ عنہ حق پر تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 112
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُثْمَانُ إِنْ وَلَّاكَ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ يَوْمًا، فَأَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ أَنْ تَخْلَعَ قَمِيصَكَ الَّذِي قَمَّصَكَ اللَّهُ، فَلَا تَخْلَعْهُ"، يَقُولُ: ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ النُّعْمَانُ: فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَا مَنَعَكِ أَنْ تُعْلِمِي النَّاسَ بِهَذَا؟ قَالَتْ: أُنْسِيتُهُ وَاللَّهِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عثمان! اگر اللہ تعالیٰ کبھی تمہیں اس امر یعنی خلافت کا والی بنائے، اور منافقین تمہاری وہ قمیص اتارنا چاہیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں پہنائی ہے، تو اسے مت اتارنا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی۔ نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: پھر آپ نے یہ بات لوگوں کو بتائی کیوں نہیں؟ تو وہ بولیں: میں اسے بھلا دی گئی تھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 112]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عثمان! اگر اللہ تعالیٰ کسی دن تجھے خلافت کی ذمہ داری بخشے، پھر منافق تجھ سے وہ قمیص اتروانا چاہیں جو اللہ نے تجھے پہنائی ہو، تو اسے مت اتارنا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہی بات فرمائی۔ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ نے لوگوں کو یہ حدیث کیوں نہیں سنائی تھی؟ انہوں نے کہا: ”میں اسے بھلا دی گئی تھی۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 112]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17675، ومصباح الزجاجة: 46)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب 19 (3705)، مسند احمد (6/149) (صحیح) (امام ترمذی نے ربیعہ بن یزید اور نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے درمیان عبد اللہ بن عامر الیحصبی کا ذکر کیا ہے، ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں اسی کو صحیح قرار دیا ہے، ملاحظہ ہو: 3/264)»
وضاحت: ۱؎: قمیص سے مراد خلافت ہے، ظاہر ہے عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت صحیح تھی، مخالفین ظلم، نفاق اور ہٹ دھرمی کا شکار تھے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بھی یہ حدیث بمنشا الہٰی بھول گئی تھیں، بعد میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آ گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مسند احمد (6/ 86، 87 ح 24566 وسنده صحيح)
مسند احمد (6/ 86، 87 ح 24566 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ:" وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: أَلَا نَدْعُو لَكَ عُمَرَ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: أَلَا نَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، فَجَاءَ عُثْمَانُ فَخَلَا بِهِ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُهُ، وَوَجْهُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّر"، قَالَ قَيْسٌ: فَحَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ يَوْمَ الدَّارِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا فَأَنَا صَائِرٌ إِلَيْهِ، وَقَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ:" وَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ، قَالَ قَيْسٌ: فَكَانُوا يُرَوْنَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: ”میری خواہش یہ ہے کہ میرے پاس میرے صحابہ میں سے کوئی ہوتا“، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ابوبکر کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عمر کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عثمان کو نہ بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، تو وہ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے تنہائی میں باتیں کرنے لگے، اور عثمان رضی اللہ عنہ کا چہرہ بدلتا رہا۔ قیس کہتے ہیں: مجھ سے عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام ابوسہلۃ نے بیان کیا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے جس دن ان پر حملہ کیا گیا کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جو عہد لیا تھا میں اسی کی طرف جا رہا ہوں۔ علی بن محمد نے اپنی حدیث میں: «وأنا صابر عليه» کہا ہے، یعنی: میں اس پر صبر کرنے والا ہوں۔ قیس بن ابی حازم کہتے ہیں: اس کے بعد سب لوگوں کا خیال تھا کہ اس گفتگو سے یہی دن مراد تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 113]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی (آخری) بیماری کے دوران میں فرمایا: ”میرا جی چاہتا ہے کہ میرے پاس میرا ایک صحابی ہو۔“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ ہم نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ کو بلا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ ہم نے کہا: عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا لیں؟ فرمایا: ”ہاں۔“ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حاضر ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے تنہائی میں گفتگو فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جاتے اور عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوتے جاتے تھے۔ حضرت قیس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابوسہلہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے محاصرہ کے ایام میں فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک وعدہ لیا ہے اور میں اس پر قائم ہوں۔“ حضرت علی (بن محمد) رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں کہا: ”میں صبر کرتے ہوئے اس پر قائم ہوں۔“ حضرت قیس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سب لوگ (صحابہ و تابعین) کا خیال ہے کہ اس حدیث میں محاصرہ والے دن کی طرف اشارہ تھا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17569، ومصباح الزجاجة: 47)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب 19 (3711)، مسند احمد (1/58، 69، 5/290، 6/ 214)، مقتصراً علی ما رواہ قیس عن أبي سہلة فقط (صحیح)» (نیز ملاحظہ ہو: تعلیق الشہری علی الحدیث فی مصباح الزجاجة: 46)
وضاحت: ۱؎: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے دن کو یوم الدار سے یاد رکھا، ظالموں نے کئی دن محاصرہ کے بعد آپ کو بھوکا پیاسا شہید کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اس کی پیش گوئی فرما دی تھی، اور تنہائی کی گفتگو کا حال کسی کو معلوم نہ تھا، آپ کی شہادت کے بعد معلوم ہوا، رضی اللہ عنہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح