سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب : فضل عثمان رضي الله عنه
باب: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب۔
حدیث نمبر: 112
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُثْمَانُ إِنْ وَلَّاكَ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ يَوْمًا، فَأَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ أَنْ تَخْلَعَ قَمِيصَكَ الَّذِي قَمَّصَكَ اللَّهُ، فَلَا تَخْلَعْهُ"، يَقُولُ: ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ النُّعْمَانُ: فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَا مَنَعَكِ أَنْ تُعْلِمِي النَّاسَ بِهَذَا؟ قَالَتْ: أُنْسِيتُهُ وَاللَّهِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عثمان! اگر اللہ تعالیٰ کبھی تمہیں اس امر یعنی خلافت کا والی بنائے، اور منافقین تمہاری وہ قمیص اتارنا چاہیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں پہنائی ہے، تو اسے مت اتارنا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی۔ نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: پھر آپ نے یہ بات لوگوں کو بتائی کیوں نہیں؟ تو وہ بولیں: میں اسے بھلا دی گئی تھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 112]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17675، ومصباح الزجاجة: 46)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب 19 (3705)، مسند احمد (6/149) (صحیح) (امام ترمذی نے ربیعہ بن یزید اور نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے درمیان عبد اللہ بن عامر الیحصبی کا ذکر کیا ہے، ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں اسی کو صحیح قرار دیا ہے، ملاحظہ ہو: 3/264)»
وضاحت: ۱؎: قمیص سے مراد خلافت ہے، ظاہر ہے عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت صحیح تھی، مخالفین ظلم، نفاق اور ہٹ دھرمی کا شکار تھے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بھی یہ حدیث بمنشا الہٰی بھول گئی تھیں، بعد میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آ گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مسند احمد (6/ 86، 87 ح 24566 وسنده صحيح)
مسند احمد (6/ 86، 87 ح 24566 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3705
| الله يقمصك قميصا فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعه لهم |
سنن ابن ماجه |
112
| يا عثمان إن ولاك الله هذا الأمر يوما فأرادك المنافقون أن تخلع قميصك الذي قمصك الله فلا تخلعه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 112 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث112
اردو حاشہ:
(1)
اس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ابتللا پیش آنے کی خبر ہے۔
جو اسی طرح پیش آئی جیسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل ہے۔
(2)
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ برحق تھے۔
(3)
ملک کا حکمران جب نظم و نسق سنبھالے ہوئے ہو، تو معمولی حیلے بہانوں سے اس کے خلاف تحریک چلا کر فتنہ و فساد برپا کرنا درست نہیں۔
اِلَّا یہ کہ وہ کفر و شرک کو تقویت دینے اور اسلام کے ضعف جیسے جرائم کا مرتکب ہو۔
(4)
اس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مخالفین کے منافق ہونے کی صراحت ہے۔
(5)
راوی کا بعض احادیث میں غلطی کر جانا یا بھول جانا اسے ضعیف قرار دینے کے لیے کافی نہیں، خصوصاً جب کہ اسے بعد میں یاد آ جائے اور وہ اصلاح کر لے، البتہ جس شخص سے بکثرت غلطی ہوتی ہو، تو وہ حافظہ کی کمزوری کی وجہ سے ضعیف قرار پاتا ہے۔
(1)
اس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ابتللا پیش آنے کی خبر ہے۔
جو اسی طرح پیش آئی جیسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل ہے۔
(2)
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ برحق تھے۔
(3)
ملک کا حکمران جب نظم و نسق سنبھالے ہوئے ہو، تو معمولی حیلے بہانوں سے اس کے خلاف تحریک چلا کر فتنہ و فساد برپا کرنا درست نہیں۔
اِلَّا یہ کہ وہ کفر و شرک کو تقویت دینے اور اسلام کے ضعف جیسے جرائم کا مرتکب ہو۔
(4)
اس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مخالفین کے منافق ہونے کی صراحت ہے۔
(5)
راوی کا بعض احادیث میں غلطی کر جانا یا بھول جانا اسے ضعیف قرار دینے کے لیے کافی نہیں، خصوصاً جب کہ اسے بعد میں یاد آ جائے اور وہ اصلاح کر لے، البتہ جس شخص سے بکثرت غلطی ہوتی ہو، تو وہ حافظہ کی کمزوری کی وجہ سے ضعیف قرار پاتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 112]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3705
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عثمان! شاید اللہ تمہیں کوئی کرتا ۱؎ پہنائے، اگر لوگ اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے ان کے لیے نہ اتارنا“، اس میں حدیث ایک طویل قصہ ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3705]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عثمان! شاید اللہ تمہیں کوئی کرتا ۱؎ پہنائے، اگر لوگ اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے ان کے لیے نہ اتارنا“، اس میں حدیث ایک طویل قصہ ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3705]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس کرتے سے مراد خلعت خلافت (خلافت کی چادر) ہے،
مفہوم یہ ہے کہ اگر منافقین تمہیں خلافت سے دستبردار ہونے کو کہیں اور اس سے معزول کرنا چاہیں تو ایسا مت ہونے دینا کیوں کہ اس وقت تم حق پر قائم رہو گے اور دستبرداری کا مطالبہ کرنے والے باطل پر ہوں گے،
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی فرمان کے پیش نظر عثمان رضی اللہ عنہ نے شہادت کا جام پی لیا۔
لیکن دستبردار نہیں ہوئے۔
وضاحت:
1؎:
اس کرتے سے مراد خلعت خلافت (خلافت کی چادر) ہے،
مفہوم یہ ہے کہ اگر منافقین تمہیں خلافت سے دستبردار ہونے کو کہیں اور اس سے معزول کرنا چاہیں تو ایسا مت ہونے دینا کیوں کہ اس وقت تم حق پر قائم رہو گے اور دستبرداری کا مطالبہ کرنے والے باطل پر ہوں گے،
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی فرمان کے پیش نظر عثمان رضی اللہ عنہ نے شہادت کا جام پی لیا۔
لیکن دستبردار نہیں ہوئے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3705]
النعمان بن بشير الأنصاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق