سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَابُ: فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ
باب: علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب و تشویق۔
حدیث نمبر: 220
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتا ہے اسے دین میں فہم و بصیرت عنایت کر دیتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 220]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 220]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13311، ومصباح الزجاجة: 81)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/234) (صحیح)» (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1194 - 1195)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 221
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْخَيْرُ عَادَةٌ، وَالشَّرُّ لَجَاجَةٌ، وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ".
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیر (بھلائی) انسان کی فطری عادت ہے، اور شر (برائی) نفس کی خصومت ہے، اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتا ہے اسے دین میں بصیرت و تفقہ عطاء کرتا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 221]
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیکی عادت ہے اور گناہ ایک جھگڑا ہے، اور اللہ تعالیٰ جس کے لیے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11453، ومصباح الزجاجة: 82) (حسن)» (نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 651)
وضاحت: ۱؎: انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ خیر اور بھلائی کی عادت ڈالے، اور شر و فساد سے اپنے آپ کو طاقت بھر دور رکھے، اور فقہ سے مراد کتاب و سنت کا فہم ہے، اختلافی مسائل میں دلائل کے ساتھ متعارض احادیث میں تطبیق دے، اور دلائل کی بناء پر راجح اور مرجوح کو الگ الگ کرے، اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آرائے رجال، اور قیل و قال پر مقدم رکھے، اور مسئلہ میں دلائل شرعیہ کا تابع رہے، اور کتاب و سنت پر مکمل طور پر عمل کرے، محدثین سے مروی ہے «فقه الرجل بصيرته بالحديث» یعنی آدمی کی فقہ یہ ہے کہ حدیث میں بصیرت حاصل کرے، اور متعارف فقہ میں سے ہر مسئلہ کو کتاب و سنت پر پیش کرے، جو دین کے موافق ہو اسے قبول کرے، اور جو دین کے خلاف ہو اس کو دور کرے، یہی دین کا طریقہ ہے، لیکن سنت سے نابلد اور دینی بصیرت سے غافل لوگوں پر یہ بہت شاق گزرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 222
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان پر ایک فقیہ (عالم) ہزار عابد سے بھاری ہے“۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 222]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فقیہ (دین کی صحیح سمجھ رکھنے والا عالم) شیطان کو ایک ہزار (جاہل) عبادت گزار افراد سے زیادہ ناگوار اور بھاری ہوتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/العلم 19 (2681)، (تحفة الأشراف: 6395) (موضوع)» (سند میں روح بن جناح متہم بالوضع ہے، ابوسعید نقاش کہتے ہیں کہ یہ مجاہد سے موضوع احادیث روایت کرتا ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 217)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
ترمذي (2681)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
إسناده ضعيف جدًا
ترمذي (2681)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
حدیث نمبر: 223
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ أَتَيْتُكَ مِنَ الْمَدِينَةِ مَدِينَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ بِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَمَا جَاءَ بِكَ تِجَارَةٌ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: وَلَا جَاءَ بِكَ غَيْرُهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ حَتَّى الْحِيتَانِ فِي الْمَاءِ، وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، إِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ".
کثیر بن قیس کہتے ہیں کہ میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس دمشق کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے ابوالدرداء! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر مدینہ سے ایک حدیث کے لیے آیا ہوں، مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ حدیث روایت کرتے ہیں؟! ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ کی آمد کا سبب تجارت تو نہیں؟ اس آدمی نے کہا: نہیں، کہا: کوئی اور مقصد تو نہیں؟ اس آدمی نے کہا: نہیں، ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص علم دین کی تلاش میں کوئی راستہ چلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے، اور فرشتے طالب علم سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے بازو بچھا دیتے ہیں، آسمان و زمین کی ساری مخلوق یہاں تک کہ مچھلیاں بھی پانی میں طالب علم کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہیں، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر، بیشک علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں، اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے، لہٰذا جس نے اس علم کو حاصل کیا، اس نے (علم نبوی اور وراثت نبوی سے) پورا پورا حصہ لیا“۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 223]
حضرت کثیر بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں دمشق کی جامع مسجد میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ کے پاس ایک آدمی آ گیا، اس نے کہا: اے ابو درداء! میں مدینہ سے آیا ہوں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر سے، کیوں کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ ایک حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں (اور میں چاہتا ہوں کہ آپ کی زبانی وہ حدیث سنوں)۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ تجارت کے سلسلے میں تو نہیں آئے؟ اس نے کہا: جی نہیں، فرمایا: کیا کسی اور کام کے لیے بھی نہیں آئے؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ فرمایا: (اگر یہ بات ہے تو ایک خوش خبری سن لو:) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے اور فرشتے علم کے متلاشی سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر جھکا دیتے ہیں اور علم کے طلب گار کے لیے آسمان اور زمین کی ہر مخلوق دعائے مغفرت کرتی ہے حتیٰ کہ پانی میں مچھلیاں بھی (اس کے لیے دعائیں کرتی ہیں) اور عالم کو عبادت گزار پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسی فضیلت چاند کو باقی تمام ستاروں پر حاصل ہے۔ علماء انبیائے کرام کے وارث ہیں، نبیوں نے وراثت میں دینار اور درہم نہیں چھوڑے، انہوں نے تو علم کا ترکہ چھوڑا ہے، جس نے اسے حاصل کیا، اس نے (نبیوں کی وراثت میں سے) وافر حصہ پا لیا۔““ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 223]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/العلم 97 (3641)، سنن الترمذی/العلم 19 (2682)، (تحفة الأشراف: 10958)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/196)، سنن الدارمی/ المقدمة 32 (354) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث علم حدیث اور محدثین کی فضیلت پر زبردست دلیل ہے اس کے علاوہ اس سے مندرجہ باتیں اور معلوم ہوئیں: ۱۔ علماء سلف حدیث کی طلب میں دور دراز کے اسفار کرتے تھے۔ ۲۔ ایک حدیث کا حصول اس لائق ہے کہ دور دراز کا سفر کیا جائے۔ ۳۔ علم کی طلب میں اخلاص شرط ہے۔ ۴۔ دنیوی غرض کو طلب علم کے ساتھ نہ ملایا جائے۔ ۵۔ خلوص نیت کے ساتھ علم شرعی کی طلب سے جنت کا راستہ آسان ہو جاتا ہے۔ ۶۔ فرشتے اس کی خاطر داری کرتے ہیں۔ ۷۔ ساری مخلوق اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہے۔ ۸۔ طالب علم کو عابد پر فضیلت حاصل ہے۔ ۹۔ علماء حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی وارث ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3641) ترمذي (2682)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3641) ترمذي (2682)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
حدیث نمبر: 224
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ كَمُقَلِّدِ الْخَنَازِيرِ الْجَوْهَرَ، وَاللُّؤْلُؤَ، وَالذَّهَبَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، اور نااہلوں و ناقدروں کو علم سکھانے والا سور کے گلے میں جواہر، موتی اور سونے کا ہار پہنانے والے کی طرح ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 224]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ كَمُقَلِّدِ الْخَنَازِيرِ الْجَوْهَرَ وَاللُّؤْلُؤَ وَالذَّهَبَ» ”علم طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور علم کو نااہلوں کے سامنے رکھنے والا ایسے ہے جیسے خنزیروں کو جواہرات، موتیوں اور سونے کے ہار پہنانے والا۔“” [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 224]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1470، ومصباح الزجاجة: 83) (ضعیف جدًا)» (اس کی سند میں حفص بن سلیمان البزار ضعیف بلکہ متروک الحدیث راوی ہے، اس لئے اس سند سے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن پہلا ٹکڑا: «طلب العلم فريضة على كل مسلم» طرق و شواہد کی بناء پر صحیح ہے، اور دوسرا ٹکڑا: «وواضع العلم عند غير أهله كمقلد الخنازير الجوهر واللؤلؤ والذهب» ضعیف ہے کیونکہ اس کاراوی حفص ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 218 ا لضعیفہ: 216)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ ہر مسلمان پر دین کے وہ مسائل سیکھنا فرض ہے جو ضروری ہیں، مثلا عقیدہ،نماز، روزہ کے مسائل یا اس سے مراد یہ ہے کہ جس مسلمان کو کوئی مسئلہ در پیش ہو تو ضروری ہے کہ اس کے بارے میں علماء سے پوچھے، ورنہ طلب علم فرض کفایہ ہے، اگر کچھ لوگ اس کو حاصل کر لیں تو باقی افراد عند اللہ ماخوذ نہ ہوں گے، اور اگر سبھی علم دین سیکھنا چھوڑ دیں تو سب گنہگار ہوں گے، امام بیہقی اپنی کتاب ”المدخل إلی السنن“ میں کہتے ہیں کہ شاید اس سے مراد یہ ہے کہ وہ علم سیکھنا فرض ہے جس کا جہل کسی بالغ کو درست نہیں، یا وہ علم مراد ہے جس کی ضرورت اس مسلمان کو ہو مثلاً تاجر کو خرید و فروخت کے احکام و مسائل کی، اور غازی کو جہاد کے احکام و مسائل کی یا یہ کہ ہر مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض عین ہے، مگر جب کچھ لوگ جن کے علم سے سب کو کفایت ہو تحصیل علم میں مشغول ہوں تو باقی لوگ ترک طلب کے سبب ماخوذ نہ ہوں گے، پھر ابن مبارک کا یہ قول نقل کیا کہ ان سے اس حدیث کی تفسیر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس سے مراد یہ ہے کہ جب کسی مسلمان کو کسی مسئلہ کی ضرورت پڑے تو کسی عالم سے پوچھ لینا ضروری ہے تاکہ اس کا علم حاصل ہو، اور اس کی طرف اشارہ آیت: «فاسألوا أهل الذكر» میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله وواضع العلم الخ فإنه ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
حفص القارئ: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
إسناده ضعيف جدًا
حفص القارئ: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
حدیث نمبر: 225
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی پریشانیوں میں سے کسی پریشانی کو دور کر دیا، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی پریشانیوں میں سے بعض پریشانیاں دور فرما دے گا، اور جس شخص نے کسی مسلمان کے عیب کو چھپایا اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کے عیب کو چھپائے گا، اور جس شخص نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس پر آسانی کرے گا، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے، اور جو شخص علم دین حاصل کرنے کے لیے کوئی راستہ چلے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے راستہ کو آسان کر دیتا ہے، اور جب بھی اللہ تعالیٰ کے کسی گھر میں کچھ لوگ اکٹھا ہو کر قرآن کریم پڑھتے ہیں یا ایک دوسرے کو پڑھاتے ہیں، تو فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، اور ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، انہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے مقرب فرشتوں میں کرتا ہے، اور جس کے عمل نے اسے پیچھے کر دیا، تو آخرت میں اس کا نسب اسے آگے نہیں کر سکتا“۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 225]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مسلمان کی ایک دنیاوی پریشانی دور کی، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کرے گا، اور جس نے مسلمان کا پردہ رکھا، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کا پردہ رکھے گا، اور جس نے کسی مشکل میں مبتلا شخص پر آسانی کی، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس پر آسانی فرمائے گا، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں مشغول رہتا ہے، اور جو شخص علم کی تلاش میں راستہ طے کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے، اور جب بھی کچھ لوگ اللہ کے کسی گھر میں جمع ہو کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے اور اسے باہم سیکھتے سکھاتے ہیں، تو فرشتے ان کے گرد حلقہ کر لیتے ہیں، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، ان پر رحمت سایہ فگن ہو جاتی ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے پاس والے (مقرب فرشتوں) میں ان کا ذکر فرماتا ہے، اور جس کا عمل اسے پیچھے کر دے، اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 225]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکروالدعاء والتوبہ 11 (2699)، سنن ابی داود/الصلاة 349 (1455)، العلم 1 (3643)، الادب 68 (4946) (تحفة الأشراف: 12510)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحدود 3 (1426)، القراء ات 12 (2946)، مسند احمد (2/252)، سنن الدارمی/ المقدمة 32 (356) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 226
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: أُنْبِطُ الْعِلْمَ، قَال: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ خَارِجٍ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا بِمَا يَصْنَعُ".
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: کس لیے آئے ہو؟ میں نے کہا: علم حاصل کرنے کے لیے، صفوان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اپنے گھر سے علم حاصل کرنے کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے اس کے اس عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے بازو بچھا دیتے ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 226]
حضرت زر بن حبیش رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں حضرت صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے کہا: ”کس کام سے آئے ہو؟“ میں نے کہا: ”علم (حاصل کر کے لوگوں میں) پھیلانے کے لئے۔“ انہوں نے کہا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے گھر سے علم کی تلاش میں نکلتا ہے اس کے عمل سے خوش ہو کر فرشتے اس کے لئے پر جھکاتے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 226]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4955، ومصباح الزجاجة: 84)، مسند احمد (4/420) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 227
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ صَخْرٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ جَاءَ مَسْجِدِي هَذَا، لَمْ يَأْتِهِ إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهُ، أَوْ يُعَلِّمُهُ، فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ جَاءَ لِغَيْرِ ذَلِكَ، فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى مَتَاعِ غَيْرِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص میری اس مسجد میں صرف خیر (علم دین) سیکھنے یا سکھانے کے لیے آئے تو وہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کے درجہ میں ہے، اور جو اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے آئے تو وہ اس شخص کے درجہ میں ہے جس کی نظر دوسروں کی متاع پر لگی ہوتی ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 227]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص میری اس مسجد میں آئے اور اس کا ارادہ صرف کوئی اچھی بات سیکھنا یا سکھانا ہو (کوئی دنیوی غرض نہ ہو) تو اس کا درجہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا سا ہے۔ اور جو شخص کسی اور مقصد کے لیے (مسجد میں) آیا، وہ اس آدمی کی طرح ہے جس کی نظر کسی اور کے مال پر ہو۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 227]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12956، ومصباح الزجاجة: 85)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/350، 418، 526) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مسجد نبوی میں علم دین حاصل کرنے کی غرض سے جانے والا مجاہد کے درجہ میں ہے، اور اسی وجہ سے دوسری مساجد اور دینی درسگاہوں میں علم دین حاصل کرنے والا بھی فضیلت کا مستحق ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 228
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي عَاتِكَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ، وَقَبْضُهُ أَنْ يُرْفَعَ، وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ هَكَذَا"، ثُمَّ قَالَ:" الْعَالِمُ، وَالْمُتَعَلِّمُ شَرِيكَانِ فِي الْأَجْرِ، وَلَا خَيْرَ فِي سَائِرِ النَّاسِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس علم دین کو اس کے قبض کیے جانے سے پہلے حاصل کر لو، اور اس کا قبض کیا جانا یہ ہے کہ اسے اٹھا لیا جائے“، پھر آپ نے بیچ والی اور شہادت کی انگلی دونوں کو ملایا، اور فرمایا: ”عالم اور متعلم (سیکھنے اور سکھانے والے) دونوں ثواب میں شریک ہیں، اور باقی لوگوں میں کوئی خیر نہیں ہے“۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 228]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس علم (علم دین) کو اس کے قبض ہونے سے پہلے پہلے حاصل کر لو۔ قبض (ہونے کا مطلب) یہ ہے کہ اسے اٹھالیا جائے گا۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی انگلی اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی ملا کر (اشارہ کیا اور) فرمایا: ”عالم اور طالب علم ثواب میں شریک ہیں اور دوسرے لوگوں میں کوئی خیر نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 228]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4918، ومصباح الزجاجة: 86)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المقدمة 26 (246) (ضعیف)» (اس کی سند میں علی بن یزید الہانی سخت ضعیف راوی ہے، اور عثمان بن أبی عاتکہ کی علی بن یزید سے روایت میں ضعف ہے، اور قاسم بن عبدالرحمن الدمشقی بھی متکلم فیہ راوی ہیں، خلاصہ یہ کہ یہ سند ضعیف ہے، بلکہ علماء کے نزدیک یہ سند ضعف میں مشہور ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 2/143)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
علي بن يزيد: ضعيف
و عثمان بن أبي العاتكة: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
إسناده ضعيف جدًا
علي بن يزيد: ضعيف
و عثمان بن أبي العاتكة: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
حدیث نمبر: 229
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ بَعْضِ حُجَرِهِ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ بِحَلْقَتَيْنِ إِحْدَاهُمَا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ، وَالْأُخْرَى يَتَعَلَّمُونَ وَيُعَلِّمُونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلٌّ عَلَى خَيْرٍ هَؤُلَاءِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ، فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ، وَهَؤُلَاءِ يَتَعَلَّمُونَ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا فَجَلَسَ مَعَهُمْ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنے کسی کمرے سے نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے، آپ نے اس میں دو حلقے دیکھے، ایک تلاوت قرآن اور ذکرو دعا میں مشغول تھا، اور دوسرا تعلیم و تعلم میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں حلقے نیکی کے کام میں ہیں، یہ لوگ قرآن پڑھ رہے ہیں، اور اللہ سے دعا کر رہے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں دے اور چاہے تو نہ دے، اور یہ لوگ علم سیکھنے اور سکھانے میں مشغول ہیں، اور میں تو صرف معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں، پھر انہیں کے ساتھ بیٹھ گئے“۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 229]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرہٴ مبارک سے باہر نکلے اور مسجد میں تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ وہاں دو حلقے ہیں، ایک حلقے کے لوگ قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے اور اللہ سے دعائیں مانگ رہے تھے۔ دوسرے حلقے کے لوگ علم سیکھنے اور سکھانے میں مشغول تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب لوگ نیکی میں مشغول ہیں، یہ لوگ قرآن کی تلاوت کر رہے ہیں، اور اللہ سے دعائیں کر رہے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو انہیں (ان کی مطلوبہ چیزیں) دے دے گا، اور چاہے گا تو نہیں دے گا۔ اور یہ لوگ علم سیکھ رہے ہیں اور سکھا رہے ہیں اور مجھے بھی علم سکھانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 229]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8869، ومصباح الزجاجة: 87)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المقدمة 32 (261) (ضعیف)» (اس کی سند میں داود، بکر بن خنیس اور عبد الرحمن بن زیاد افریقی تینوں ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 11)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
داودبن الزبرقان:متروك
وشيخه بكر بن خنيس: ضعيف ضعفه الجمهور
و عبد الرحمٰن بن زياد الإفريقي: ضعيف
وللحديث لون آخر عند الدارمي (355)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
ضعيف
داودبن الزبرقان:متروك
وشيخه بكر بن خنيس: ضعيف ضعفه الجمهور
و عبد الرحمٰن بن زياد الإفريقي: ضعيف
وللحديث لون آخر عند الدارمي (355)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382