Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب : فضل العلماء والحث على طلب العلم
باب: علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب و تشویق۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 221
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْخَيْرُ عَادَةٌ، وَالشَّرُّ لَجَاجَةٌ، وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ".
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر (بھلائی) انسان کی فطری عادت ہے، اور شر (برائی) نفس کی خصومت ہے، اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتا ہے اسے دین میں بصیرت و تفقہ عطاء کرتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11453، ومصباح الزجاجة: 82) (حسن)» ‏‏‏‏ (نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 651)
وضاحت: ۱؎: انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ خیر اور بھلائی کی عادت ڈالے، اور شر و فساد سے اپنے آپ کو طاقت بھر دور رکھے، اور فقہ سے مراد کتاب و سنت کا فہم ہے، اختلافی مسائل میں دلائل کے ساتھ متعارض احادیث میں تطبیق دے، اور دلائل کی بناء پر راجح اور مرجوح کو الگ الگ کرے، اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آرائے رجال، اور قیل و قال پر مقدم رکھے، اور مسئلہ میں دلائل شرعیہ کا تابع رہے، اور کتاب و سنت پر مکمل طور پر عمل کرے، محدثین سے مروی ہے  «فقه الرجل بصيرته بالحديث»  یعنی آدمی کی فقہ یہ ہے کہ حدیث میں بصیرت حاصل کرے، اور متعارف فقہ میں سے ہر مسئلہ کو کتاب و سنت پر پیش کرے، جو دین کے موافق ہو اسے قبول کرے، اور جو دین کے خلاف ہو اس کو دور کرے، یہی دین کا طریقہ ہے، لیکن سنت سے نابلد اور دینی بصیرت سے غافل لوگوں پر یہ بہت شاق گزرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاوية بن أبي سفيان الأموي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥يونس بن ميسرة الحميري، أبو عبيد، أبو حلبس
Newيونس بن ميسرة الحميري ← معاوية بن أبي سفيان الأموي
ثقة
👤←👥مروان بن جناح الأموي
Newمروان بن جناح الأموي ← يونس بن ميسرة الحميري
صدوق حسن الحديث
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← مروان بن جناح الأموي
ثقة
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← الوليد بن مسلم القرشي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
221
الخير عادة والشر لجاجة ومن يرد الله به خيرا يفقهه في الدين
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 221 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث221
اردو حاشہ:
(1)
نیکی عادت ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ سیدھا راستہ انسان کی فطرت ہے۔
ایک فطرت سلیم کا مالک نیکی کے راستے پر چلنے میں کوئی دشواری محسوس نہیں کرتا، البتہ غلط ماحول کی وجہ سے یا شیطان کے وسوسہ و مکر کی وجہ سے بعض اوقات انسان برائی کی راہ پر چل پڑتا ہے اس کے باوجود اس کا ضمیر اسے جھنجھوڑتا رہتا ہے۔
چنانچہ جب بھی انسان گناہ کی زندگی چھوڑ کر نیکی کی طرف آتا ہے، اسے ایک روحانی خوشی اور دلی اطمینان کی وہ کیفیت نصیب ہوتی ہے جو گناہ کی بظاہر خوبصورت زندگی میں حاصل نہیں ہو سکی تھی۔
اسلام کی تعلیمات اسی فطرت سلیم کے مطابق ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَأَقِم وَجهَكَ لِلدّينِ حَنيفًا فِطرَ‌تَ اللَّهِ الَّتى فَطَرَ‌ النّاسَ عَلَيها لا تَبديلَ لِخَلقِ اللَّهِ ذلِكَ الدّينُ القَيِّمُ) (الروم: 30)
یعنی اللہ کا قانون و دین وہی ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا، اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں، یہی مضبوط دین ہے۔

(2)
گناہ ایک جھگڑا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ گناہ کا ارتکاب کرنے والا اپنے اندر ایک کشمکش محسوس کرتا ہے۔
نفس اَمًارہ اسے گناہ کی طرف دعوت دیتا ہے اور توبہ سے روکتا ہے جب کہ ضمیر اسے گناہ سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اگرچہ گناہ کا ارتکاب کرنے والا بظاہر وہ کام کر رہا ہوتا ہے جو اس کا جی چاہتا ہے اس کے باوجود اسے خوشی حاصل نہیں ہوتی، دنیا کی دولت اسے اطمینان قلب مہیا کرنے سے قاصر رہتی ہے، سوائے اس کے کہ اس کا ضمیر بالکل مردہ ہو جائے اور اس کی فطرت مسخ ہو جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 221]