🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي الْبَوْلِ
باب: پیشاب کی چھینٹ سے نہ بچنے پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 346
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي يَدِهِ الدَّرَقَةُ فَوَضَعَهَا ثُمَّ جَلَسَ فَبَالَ إِلَيْهَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: انْظُرُوا إِلَيْهِ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" وَيْحَكَ، أَمَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَوْلُ قَرَضُوهُ بِالْمَقَارِيضِ، فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ".
عبدالرحمٰن بن حسنہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، اس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک ڈھال تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکھا اور اس کی آڑ میں بیٹھ کر پیشاب کیا، کچھ لوگوں نے (بطور استہزاء) کہا کہ انہیں دیکھو ایسے پیشاب کرتے ہیں جیسے عورت پیشاب کرتی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا اور فرمایا: افسوس ہے تم پر، بنی اسرائیل کے ایک شخص کو جو مصیبت پہنچی، تمہیں اس کی خبر نہیں؟ ان کے کپڑوں میں پیشاب لگ جاتا تو اسے قینچی سے کاٹتے تھے، ایک شخص نے انہیں اس عمل سے روک دیا، تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 346]
حضرت عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے) باہر ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ کے ہاتھ میں ایک ڈھال تھی۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشاب کی حاجت محسوس ہوئی تو) اسے (زمین پر) رکھا اور اس کی طرف رخ کر کے بیٹھ کر پیشاب کیا۔ کسی نے کہا: ان صاحب کو دیکھو، اس طرح پیشاب کرتے ہیں جس طرح عورت کیا کرتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سن لی، چنانچہ فرمایا: تجھ پر افسوس! کیا تجھے معلوم نہیں کہ بنی اسرائیل کے اس آدمی کے ساتھ کیا ہوا؟ ان لوگوں کو جب (کپڑے وغیرہ کو) پیشاب لگ جاتا تو قینچیوں سے کاٹ دیا کرتے تھے (کیونکہ ان کی شریعت میں یہی حکم تھا)، اس نے انہیں اس سے منع کر دیا تو اسے قبر میں عذاب دیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 346]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 11 (22)، سنن النسائی/الطہارة 26 (30)، (تحفة الأشراف: 9693)، مسند احمد (4/ 196) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (22) نسائي (30)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 389

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 346M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی اعمش نے ایسی ہی حدیث ذکر کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 346M]
قال الشيخ الألباني: صحيح

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 347
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ جَدِيدَيْنِ، فَقَالَ:" إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنْ بَوْلِهِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو نئی قبروں کے پاس سے ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے (کہ جس سے بچنا مشکل تھا)، ایک شخص تو پیشاب (کی چھینٹوں) سے نہیں بچتا تھا، اور دوسرا غیبت (چغلی) کیا کرتا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 347]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو نئی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ان دونوں (آدمیوں) کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا۔ ان میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کا عادی تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 56 (216)، 57 (218)، الجنائز81 (1361)، 88 (1378)، الأدب 46 (6552)، 49 (6055)، صحیح مسلم/الطہارة 34 (292)، سنن ابی داود/الطہارة 11 (20)، سنن الترمذی/الطہارة 53 (70)، سنن النسائی/الطہارة 27 (31)، الجنائز 116 (2070، 2071)، (تحفة الأشراف: 5747)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1 /225)، سنن الدارمی/الطہارة 61 (766) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 348
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیادہ تر قبر کا عذاب پیشاب کی وجہ سے ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 348]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عذابِ قبر زیادہ تر پیشاب (سے احتیاط نہ کرنے) کی وجہ سے ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 348]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12501، ومصباح الزجاجة: 143)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/326، 388، 389) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان الأعمش عنعن
و للحديث شواھد ضعيفة منھا ما ذكره ابن أبي حاتم في علل الحديث (26/1 ح 42)
و لم يذكر سنده إلي حبان بن ھلال و حرمي و إبراھيم بن الحجاج و ھو ولد بعد وفاتھم سنة 240ھ فالخبر بلا سند وھو مردود و حديث النسائي (1346،وسنده حسن) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 389

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 349
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، حَدَّثَنِي بَحْرُ بْنُ مَرَّارٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ:" إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيُعَذَّبُ فِي الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُعَذَّبُ فِي الْغَيْبَةِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے (جس سے بچنا مشکل تھا) ایک شخص کو تو پیشاب کی چھینٹے سے نہ بچنے کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے، اور دوسرا غیبت (چغلی) کرنے کی وجہ سے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 349]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ان دو شخصوں کو عذاب ہو رہا ہے اور عذاب بھی کسی بڑے کام کی وجہ سے نہیں ہو رہا، ایک کو تو پیشاب کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے اور دوسرے کو غیبت کی سزا مل رہی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11657، ومصباح الزجاجة: 144)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/35، 39) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں