صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ مَنْ نَامَ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَأَحْيَا آخِرَهُ:
باب: جو شخص رات کے شروع میں سو جائے اور اخیر میں جاگے۔
حدیث نمبر: Q1146
وَقَالَ سَلْمَانُ لِأَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: نَمْ فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ: قُمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ سَلْمَانُ.
اور سلمان فارسی نے ابودرداء (رضی اللہ عنہما) سے فرمایا کہ شروع رات میں سو جا اور آخر رات میں عبادت کر۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا تھا کہ سلمان نے بالکل سچ کہا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: Q1146]
حدیث نمبر: 1146
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ يَنَامُ أَوَّلَهُ وَيَقُومُ آخِرَهُ فَيُصَلِّي ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَثَبَ، فَإِنْ كَانَ بِهِ حَاجَةٌ اغْتَسَلَ وَإِلَّا تَوَضَّأَ وَخَرَجَ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، (دوسری سند) اور مجھ سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق عمرو بن عبداللہ نے، ان سے اسود بن یزید نے، انہوں نے بتلایا کہ میں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز کیونکر پڑھتے تھے؟ آپ نے بتلایا کہ شروع رات میں سو رہتے اور آخر رات میں بیدار ہو کر تہجد کی نماز پڑھتے۔ اس کے بعد بستر پر آ جاتے اور جب مؤذن اذان دیتا تو جلدی سے اٹھ بیٹھتے۔ اگر غسل کی ضرورت ہوتی تو غسل کرتے ورنہ وضو کر کے باہر تشریف لے جاتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1146]
حضرت اسود رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ شب کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: آپ شروع رات میں سو جاتے اور پچھلی رات اٹھ کر نماز پڑھتے، پھر اپنے بستر پر لوٹ آتے۔ اس کے بعد جب مؤذن اذان دیتا تو اٹھ کھڑے ہوتے، اگر ضرورت ہوتی تو غسل فرماتے ورنہ وضو کر کے باہر تشریف لے جاتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1146]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة