🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب من نام أول الليل وأحيا آخره:
باب: جو شخص رات کے شروع میں سو جائے اور اخیر میں جاگے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1146
وَقَالَ سَلْمَانُ لِأَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: نَمْ فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ: قُمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ سَلْمَانُ.
اور سلمان فارسی نے ابودرداء (رضی اللہ عنہما) سے فرمایا کہ شروع رات میں سو جا اور آخر رات میں عبادت کر۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا تھا کہ سلمان نے بالکل سچ کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: Q1146]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1146
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ يَنَامُ أَوَّلَهُ وَيَقُومُ آخِرَهُ فَيُصَلِّي ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَثَبَ، فَإِنْ كَانَ بِهِ حَاجَةٌ اغْتَسَلَ وَإِلَّا تَوَضَّأَ وَخَرَجَ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، (دوسری سند) اور مجھ سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق عمرو بن عبداللہ نے، ان سے اسود بن یزید نے، انہوں نے بتلایا کہ میں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز کیونکر پڑھتے تھے؟ آپ نے بتلایا کہ شروع رات میں سو رہتے اور آخر رات میں بیدار ہو کر تہجد کی نماز پڑھتے۔ اس کے بعد بستر پر آ جاتے اور جب مؤذن اذان دیتا تو جلدی سے اٹھ بیٹھتے۔ اگر غسل کی ضرورت ہوتی تو غسل کرتے ورنہ وضو کر کے باہر تشریف لے جاتے۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 1146]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥الأسود بن يزيد النخعي، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newالأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
مخضرم
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← الأسود بن يزيد النخعي
ثقة مكثر
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب
Newسليمان بن حرب الواشحي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة إمام حافظ
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← سليمان بن حرب الواشحي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1146
ينام أوله ويقوم آخره فيصلي ثم يرجع إلى فراشه إذا أذن المؤذن وثب فإن كان به حاجة اغتسل وإلا توضأ وخرج
صحيح مسلم
1728
ينام أول الليل ويحيي آخره إن كانت له حاجة إلى أهله قضى حاجته ثم ينام فإذا كان عند النداء الأول قالت وثب ولا والله ما قالت قام فأفاض عليه الماء وإن لم يكن جنبا توضأ وضوء الرجل للصلاة ثم صلى الركعتين
سنن النسائى الصغرى
1681
ينام أول الليل ثم يقوم إذا كان من السحر أوتر ثم أتى فراشه فإذا كان له حاجة ألم بأهله فإذا سمع الأذان وثب فإن كان جنبا أفاض عليه من الماء وإلا توضأ ثم خرج إلى الصلاة
سنن النسائى الصغرى
1641
ينام أول الليل ويحيي آخره
سنن ابن ماجه
1365
ينام أول الليل ويحيي آخره
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1146 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1146
حدیث حاشیہ:
مطلب یہ کہ نہ ساری رات سوتے ہی رہتے نہ ساری رات نماز ہی پڑھتے رہتے بلکہ درمیانی راستہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا اور یہی مسنون ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1146]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1146
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں ہے کہ جب سحری کا وقت ہوتا تو وتر پڑھتے، پھر اگر ضرورت ہوتی تو اپنی اہلیہ کے پاس آتے۔
(فتح الباري: 42/3)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر تعلقات زن و شوہر کی ضرورت ہوتی تو اسے نماز تہجد ادا کرنے کے بعد پورا کرتے تھے کیونکہ عبادات کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہی شایان شان تھا، چنانچہ اوائل شب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بحالت جنابت سونا ثابت نہیں، البتہ اواخر شب کچھ دیر دائیں پہلو کے بل لیٹنا ثابت ہے۔
بہرحال امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے یہ ثابت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر شب بیدار ہو کر نماز تہجد پڑھتے تھے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1146]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1365
رات کا کون سا وقت (عبادت کے لیے) سب سے اچھا ہے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شروع رات میں سو جاتے تھے، اور اخیر رات میں عبادت کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1365]
اردو حاشہ:
فائدہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات تہجد پڑھنے اور آرام کرنے کے سلسلے میں کئی انداز سے عمل فرمایا ہے۔
جن میں سے ایک صورت یہ بھی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1365]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1728
ابو اسحاق کہتے ہیں، میں نے اسود بن یزید سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، جو اسے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بیان کی تھی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے حصہ میں سو جاتے اور آخری حصہ میں بیدار ہو جاتے، پھر اگر بیوی سے کوئی ضرورت ہوتی تو اپنی ضرورت پوری کرتے پھر سو جاتے، جب پہلی اذان کا وقت ہوتا تو (بستر سے) اچھل پڑتے، اللہ کی قسم عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وَثَبَ (کودنا، اچھلنا) کہا،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1728]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی رات کو جلد اٹھ کر،
رات کی نماز سے فارغ ہو کر بیوی سے تعلقات قائم کرنے کے بعد سو جاتے اور صبح کی اذان کے بعد جلدی بیدار ہو کر غسل فرما کر فجر کی سنتیں پڑھتے صبح کی سنتیں ہر صورت نماز فجر سے پہلے پڑھتے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1728]