🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

39. بَابُ: الرَّجُلِ يَسْتَعِينُ عَلَى وُضُوئِهِ فَيُصَبُّ عَلَيْهِ
باب: وضو میں کسی سے مدد لینے کا بیان جو اس پر پانی ڈالے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 389
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ تَلَقَّيْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَتِ الْجُبَّةُ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ واپس ہوئے تو میں لوٹے میں پانی لے کر آپ سے ملا، میں نے پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے دونوں بازو دھونے لگے تو جبہ کی آستین تنگ پڑ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکال لیے، انہیں دھویا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 389]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام سے تشریف لے گئے۔ جب آپ واپس آئے تو میں پانی کا برتن لے کر حاضر ہوا۔ میں نے پانی ڈالا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر چہرہ مبارک دھویا، پھر اپنے بازو دھونے کا ارادہ کیا تو جبہ کی آستینیں تنگ معلوم ہو گئیں، چنانچہ آپ نے جبہ کے نیچے سے بازو نکال لیے اور انہیں دھویا اور موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 389]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 7 (363)، صحیح مسلم/الطہارة 23 (274)، سنن النسائی/الطہارة 66 (82)، (تحفة الأشراف: 11528)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 59 (149)، موطا امام مالک/الطہارة 8 (41)، حم4/255، سنن الدارمی/الطہارة 41 (740) (صحیح) (یہ مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 545)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 390
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ، قَالَتْ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيضَأَةٍ، فَقَالَ:" اسْكُبِي، فَسَكَبْتُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَذِرَاعَيْهِ، وَأَخَذَ مَاءً جَدِيدًا فَمَسَحَ بِهِ رَأْسَهُ مُقَدَّمَهُ، وَمُؤَخَّرَهُ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا".
ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا برتن لے کر آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی ڈالو ۱؎، میں نے پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اور اپنے دونوں بازو دھوئے اور نیا پانی لے کر سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 390]
حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا: میں وضو کا برتن لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی ڈالو۔ میں نے پانی ڈالا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک اور دونوں بازو دھوئے۔ پھر نیا پانی لیا اور اس کے ساتھ سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا مسح کیا اور اپنے پاؤں کو تین تین بار دھویا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 390]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 50 (127)، سنن الترمذی/الطہارة 25 (33)، (تحفة الأشراف: 15837)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/461)، سنن الدارمی/الطہارة 24 (717) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں شریک القاضی سئ الحفظ ضعیف راوی ہیں، اس لئے «مَائً جَدِيداً» کا لفظ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 117- 122)
وضاحت: ۱؎: اوپر کی ان تینوں احادیث سے معلوم ہوا کہ وضو میں تعاون لینا درست ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن دون الماء الجديد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (128،130)
ابن عقيل ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 392

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 391
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ بْنُ أَبِي حُذَيْفَةَ الْأَزْدِيُّ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ، قَالَ:" صَبَبْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاءَ فِي السَّفَرِ، وَالْحَضَرِ فِي الْوُضُوءِ".
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر و حضر میں کئی بار وضو کرایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 391]
حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے سفر اور حضر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرانے کے لیے (آپ کے ہاتھوں اور پاؤں پر) پانی ڈالا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 391]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4956، ومصباح الزجاجة: 161) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کی سند میں ولید بن عقبہ مجہول راوی ہیں)
وضاحت: ۱؎: وضو کرانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ پانی ڈالتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الوليد بن عقبة: مجهول (تقريب: 7444)
وشيخه حذيفة بن أبي حذيفة: مجهول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 392

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 392
حَدَّثَنَا كُرْدُوسُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ رَوْحٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي رَوْحُ بْنُ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ أُمِّ عَيَّاشٍ ، وَكَانَتْ أَمَةً لِرُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:" كُنْتُ أُوَضِئُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَائِمَةٌ وَهُوَ قَاعِدٌ".
‏‏‏‏ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی ام عیاش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کراتی تھی، میں کھڑی ہوتی تھی اور آپ بیٹھے ہوتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 392]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی ام عیاش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرایا کرتی تھی۔ میں کھڑی ہوتی تھی اور آپ بیٹھے ہوتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 392]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18340، ومصباح الزجاجة: 162) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (یہ سند ضعیف ہے اس لئے کہ عبد الکریم بن روح ضعیف، اور روح بن عنبسہ مجہول راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
عبدالكريم بن روح: ضعيف (تقريب: 4150) و أبوه روح بن عنبسة: مجهول (تقريب: 1964) وقال البوصيري: ’’ھذا إسناد مجهول ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 392

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں