سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
112. . بَابُ: مَنِ احْتَلَمَ وَلَمْ يَرَ بَلَلاً
باب: جسے احتلام ہو اور تری نہ دیکھے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 612
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الْعُمَرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَرَأَى بَلَلًا، وَلَمْ يَرَ أَنَّهُ احْتَلَمَ اغْتَسَلَ، وَإِذَا رَأَى أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ، وَلَمْ يَرَ بَلَلًا فَلَا غُسْلَ عَلَيْهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو، اور تری دیکھے، لیکن احتلام یاد نہ ہو تو غسل کر لے، اور اگر احتلام یاد ہو لیکن تری نہ دیکھے تو اس پر غسل نہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 95 (236)، سنن الترمذی/الطہارة 82 (113)، (تحفة الأشراف: 17539)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/256)، سنن الدارمی/الطہارة 77 (792) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 516)»
وضاحت: ۱؎: لیکن تری سے مراد منی ہے، اگر تری محسوس نہ ہو تو اکثر اہل علم کے نزدیک غسل واجب نہ ہو گا، اگر گرمی یا دیری کے سبب منی خشک ہو جائے، تو غسل ضروری ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (236) ترمذي (113)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (236) ترمذي (113)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400