🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

115. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا كَانَتْ قَدْ عَرَفَتْ أَقْرَاءَهَا
باب: مستحاضہ جس کے حیض کی مدت استحاضہ والے خون سے پہلے متعین ہو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 620
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ ، حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتْ إِلَيْهِ الدَّمَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَانْظُرِي إِذَا أَتَى قَرْؤُكِ فَلَا تُصَلِّي، فَإِذَا مَرَّ الْقَرْءُ فَتَطَهَّرِي، ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقَرْءِ إِلَى الْقَرْءِ".
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور آپ سے (کثرت) خون کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رگ کا خون ہے، تم دیکھتی رہو جب مدت حیض آئے تو نماز نہ پڑھو، اور جب حیض گزر جائے تو غسل کرو، پھر دوسرے حیض کے آنے تک نماز پڑھتی رہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 620]
حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر خون (جاری رہنے) کی شکایت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایک رگ ہے، تم خیال رکھا کرو، جب تمہارا حیض شروع ہو جائے تو نماز نہ پڑھو۔ جب حیض ختم ہو جائے تو غسل کر لو، پھر حیض (کے ختم ہونے) سے حیض (کے شروع ہونے) تک نماز ادا کرو۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 108 (280)، 110 (286)، سنن النسائی/الطہارة 134 (201)، الحیض2 (350)، 4 (358)، 6 (362)، الطلاق 74 (3583)، (تحفة الأشراف: 18019)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 29 (104)، مسند احمد (6/420، 463)، سنن الدارمی/الطہارة 84 (801) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: استحاضہ ایک بیماری ہے جس میں عورت کا خون ہمیشہ جاری رہتا ہے، جس عورت کو یہ بیماری ہو اس کو مستحاضہ کہتے ہیں، اس کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ مستحاضہ: جس کے حیض کی مدت اس بیماری کے شروع ہونے سے پہلے متعین اور معلوم ہو، دوسرے وہ جس کو شروع ہی سے یہ بیماری ہو جائے، اور حیض کی مدت متعین نہ ہوئی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (280) نسائي(212)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 621
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" لَا إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَيْسَ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي"، هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے مسلسل خون آتا رہتا ہے اور میں پاک نہیں ہو پاتی ہوں، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ رگ کا خون ہے، حیض نہیں ہے جب حیض آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب وہ ختم ہو جائے تو خون دھو کر (یعنی غسل کر کے) نماز پڑھو۔ یہ وکیع کی حدیث ہے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 621]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت فاطمہ بنت ابو حبیش رضی اللہ عنہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کی شکایت ہے، میں تو پاک ہی نہیں ہوتی۔ تو کیا میں نماز کو (بالکل) چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ تو ایک رگ ہے، یہ حیض نہیں۔ جب حیض آئے تو نماز پڑھنا چھوڑ دے، جب ختم ہو جائے تو اپنے جسم سے خون دھو ڈال اور (غسل کر کے) نماز ادا کر۔ یہ حدیث وکیع کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 621]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏حدیث عبد اللہ بن الجراح قد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 14 (333)، سنن النسائی/الطہارة 138 (218)، (تحفة الأشراف: 16858)، وحدیث أبوبکر بن أبي شیبة أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 14 (333)، سنن الترمذی/الطہارة 93 (125)، سنن النسائی/الطہارة 135 (212)، (تحفة الأشراف: 17259)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 64 (228)، الحیض 9 (306)، 2 (320)، 25 (325)، سنن ابی داود/الطہارة 109 (282) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 622
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ إِمْلَاءً عَلَيَّ مِنْ كِتَابِهِ وَكَانَ السَّائِلُ غَيْرِي، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ ، قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً طَوِيلَةً، قَالَتْ: فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ وَأُخْبِرُهُ، قَالَتْ: فَوَجَدْتُهُ عِنْدَ أُخْتِي زَيْنَبَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، قَالَ:" وَمَا هِيَ أَيْ هَنْتَاهُ"، قُلْتُ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً طَوِيلَةً كَبِيرَةً وَقَدْ مَنَعَتْنِي الصَّلَاةَ وَالصَّوْمَ، فَمَا تَأْمُرُنِي فِيهَا؟ قَالَ:" أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ"، قُلْتُ: هُوَ أَكْثَرُ. فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيث شَرِيكٍ.
ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے بہت لمبا استحاضہ کا خون آیا کرتا تھا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس سے متعلق بتانے اور فتوی پوچھنے کے لیے آئی، میں نے آپ کو اپنی بہن زینب رضی اللہ عنہا کے پاس پایا، میں نے عرض کیا: اے رسول اللہ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے خاتون! تجھے کیا کام ہے؟ میں نے کہا: مجھے ایک لمبے عرصہ تک خون آتا رہتا ہے جو نماز اور روزہ میں رکاوٹ کا سبب ہے، آپ اس سلسلے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے روئی تجویز کرتا ہوں (اس کو شرمگاہ پہ رکھ لیا کرو) کیونکہ یہ خون جذب کر لے گی، میں نے عرض کیا: خون اس سے بھی زیادہ ہے، پھر راوی نے شریک کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 622]
حضرت ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے طویل عرصے تک بکثرت استحاضہ آتا رہا تھا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تاکہ آپ کو (اپنی کیفیت) بتا کر مسئلہ معلوم کروں۔ مجھے اپنی بہن زینب رضی اللہ عنہا کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے آپ سے ایک کام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے خاتون! کیا کام ہے؟ میں نے کہا: مجھے طویل عرصے تک بکثرت استحاضہ آتا رہتا ہے جس کی وجہ سے میں نماز، روزہ ادا نہیں کر سکتی، تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تیرے لیے روئی تجویز کرتا ہوں، کیونکہ وہ خون کو جذب کر لیتی ہے۔ میں نے کہا: وہ تو اس سے زیادہ ہے... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث، شریک کی حدیث کی مثل بیان کی۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 110 (287)، سنن الترمذی/الطہارة 95 (128)، (تحفة الأشراف: 15821)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/382، 439، 440)، سنن الدارمی/الطہارة 84 (809) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 627) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں عبد اللہ بن محمد بن عقیل کی وجہ سے بعض کلام ہے کیونکہ ان کو مقارب الحدیث بلکہ منکر الحدیث کہا گیا ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے)
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (287) ترمذي (128) وانظر الحديث الآتي (627)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 623
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ دَعِي قَدْرَ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ:" وَقَدْرَهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي، وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَصَلِّي".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، پاک نہیں رہتی ہوں، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ جن دنوں میں تمہیں حیض آتا ہے اتنے دن نماز چھوڑ دو، ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی حدیث میں کہا: ہر مہینہ سے بقدر ایام حیض نماز چھوڑ دو، پھر غسل کرو، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر نماز ادا کرو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 623]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، اس نے کہا: مجھے استحاضہ آتا ہے تو میں پاک ہی نہیں ہوتی، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، جتنے دن رات تجھے (بیماری شروع ہونے سے پہلے ہر ماہ) حیض آیا کرتا تھا اتنے عرصہ تک (نماز) چھوڑ دیا کر۔ ابوبکر (بن ابی شیبہ) کی ایک روایت میں یوں ہے: اس مقدار کے مطابق مہینے میں سے، اس کے بعد غسل کر لے اور لنگوٹ باندھ لے پھر نماز پڑھ لے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 108 (274، 275)، سنن النسائی/الطہارة 134 (209)، الحیض 3 (354، 355)، (تحفة الأشراف: 18158)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 29 (105)، سنن الدارمی/الطہارة 84 (807) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اگرچہ خون آیا کرے، کیونکہ وہ حیض کا خون نہیں ہے، اس حدیث سے اور حدث والوں کا بھی حکم نکلا جیسے کسی کو پیشاب کی بیماری ہو جائے یا ریاح (ہوا خارج ہونے) کی، وہ بھی نماز ترک نہ کرے بلکہ ہر نماز کے لئے وضو کرے، اور جب تک وقت باقی رہے ایک ہی وضو سے فرض اور نفل ادا کرے، گو حدث ہوتا رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
وانظر ضعيف سنن أبي داود (276) سليمان بن يسار سمعه من رجل مجھول (د 275)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 624
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" لَا إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ اجْتَنِبِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ مَحِيضِكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي، وَتَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا رہتا ہے جس سے میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ رگ کا خون ہے حیض نہیں ہے، اپنے حیض کے دنوں میں نماز نہ پڑھو، پھر غسل کرو اور ہر نماز کے لیے الگ وضو کرو، (اور نماز پڑھو) خواہ خون چٹائی ہی پر کیوں نہ ٹپکے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 624]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کی شکایت ہے، اس لیے میں پاک نہیں ہوتی، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ تو (بیماری کی) ایک رگ ہے۔ یہ حیض (کا خون) نہیں۔ حیض کے ایام میں نماز سے اجتناب کر، اس کے بعد غسل کر لے اور ہر نماز کے لیے وضو کر لیا کر، اگرچہ چٹائی پر خون ٹپکتا رہے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 624]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 113 (298)، (تحفة الأشراف: 17372)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضو ء 64 (228)، سنن النسائی/الطہارة 138 (219)، موطا امام مالک/الطہارة 29 (104)، مسند احمد (6/42، 204، 262)، سنن الدارمی/الطہارة 84 (801) (صحیح)» ‏‏‏‏ (آخری ٹکڑا: «وإن قطر الدم على الحصير» کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: ہر نماز کے لئے وضو کرنا زیادہ صحیح طریقہ ہے، اور اگر مستحاضہ دوسری نمازوں کو ملا کر پڑھنا چاہے، تو اس طرح کرے کہ ایک نماز میں دیر کرے، اس کو اخیر وقت پر ادا کرے، اور دوسری میں جلدی کرے، اس کو اول وقت پر ادا کرے، اور دونوں نمازوں کے لئے ایک ہی وضو کر لے، اور کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ ہر نماز کے لئے غسل کرنا واجب ہے یا ہر دو نماز کے لئے یا ہر روز ایک بار بلکہ غسل اسی وقت کافی ہے جب عادت کے موافق حیض سے پاک ہونے کا وقت آئے یا خون کی رنگت کے لحاظ سے معلوم ہو جائے کہ اب حیض کا خون جا چکا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا قوله لا وإن قطر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (298)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 625
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ، وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَتَصُومُ، وَتُصَلِّي".
عدی بن ثابت کے دادا دینار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کرے، اور ہر نماز کے لیے وضو کرے، اور روزے رکھے اور نماز پڑھے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 625]
حضرت عدی بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ اپنے والد سے، اور وہ عدی کے نانا حضرت عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: استحاضہ والی عورت حیض کے ایام میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کر لے اور ہر نماز کے لیے وضو کرے اور روزے بھی رکھے، نماز بھی پڑھے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 625]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 113 (297)، سنن الترمذی/الطہارة 94 (126)، (تحفة الأشراف: 3542)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطہارة 84 (820) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (297) ترمذي (126)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں