🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

117. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْبِكْرِ إِذَا ابْتُدِئَتْ مُسْتَحَاضَةً أَوْ كَانَ لَهَا أَيَّامُ حَيْضٍ فَنَسِيَتْهَا
باب: باکرہ شروع ہی سے مستحاضہ ہو جائے یا حیض کے دنوں کو بھول جائی تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 627
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ ، أَنَّهَا اسْتُحِيضَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي اسْتُحِضْتُ حَيْضَةً مُنْكَرَةً شَدِيدَةً، قَالَ لَهَا:" احْتَشِي كُرْسُفًا"، قَالَتْ لَهُ: إِنَّهُ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ إِنِّي أَثُجُّ ثَجًّا، قَالَ:" تَلَجَّمِي وَتَحَيَّضِي فِي كُلِّ شَهْرٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ سِتَّةَ أَيَّامٍ، أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ اغْتَسِلِي غُسْلًا فَصَلِّي وَصُومِي ثَلَاثَةً وَعِشْرِينَ، أَوْ أَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ، وَأَخِّرِي الظُّهْرَ وَقَدِّمِي الْعَصْرَ، وَاغْتَسِلِي لَهُمَا غُسْلًا، وَأَخِّرِي الْمَغْرِبَ وَعَجِّلِي الْعِشَاءَ، وَاغْتَسِلِي لَهُمَا غُسْلًا، وَهَذَا أَحَبُّ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ".
حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں استحاضہ ہو گیا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا: مجھے بری طرح سے سخت استحاضہ ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: شرمگاہ کے اندر تھوڑی روئی رکھ لو، وہ بولیں: وہ اس سے زیادہ سخت ہے، بہت تیز بہہ رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک لنگوٹ کی طرح کس لو، اور اللہ کے علم کے موافق ہر مہینہ میں چھ یا سات روز حیض کے شمار کر لو، پھر غسل کر کے تیئس یا چوبیس دن تک نماز پڑھو اور روزہ رکھو، (آسانی کے لیے) ظہر میں دیر اور عصر میں جلدی کر کے دونوں نمازوں کے لیے ایک غسل کر لو، اسی طرح مغرب میں دیر اور عشاء میں جلدی کر کے دونوں کے لیے ایک غسل کر لو، ۱؎ اور مجھے ان دونوں طریقوں میں سے یہ زیادہ پسند ہے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 627]
حضرت حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انہیں استحاضے کی بیماری تھی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: مجھے بہت بری طرح شدید استحاضہ آتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روئی رکھ لیا کرو۔ انہوں نے کہا: وہ تو اس سے زیادہ شدید ہے، وہ تو بہتا ہی چلا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لنگوٹ باندھ لیا کرو اور اللہ کے علم پر اعتماد کر کے ہر مہینے چھ سات دن حیض شمار کر لو، پھر غسل کر لو اور تئیس چوبیس دن نماز روزہ ادا کرو۔ ظہر کو دیر سے اور عصر کو جلدی پڑھ لو، اور ان دونوں (نمازوں) کے لیے ایک بار غسل کر لیا کرو۔ (اسی طرح) مغرب کی نماز دیر سے اور عشاء کی نماز جلدی پڑھ لیا کرو، اور ان دونوں کے لیے ایک بار غسل کرو اور یہ طریقہ مجھے زیادہ پسند ہے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 627]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 110 (287)، سنن الترمذی/الطہارة 95 (128)، (تحفة الأشراف: 15821)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/382، 440)، سنن الدارمی/الطہارة 84 (809) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں ضعف ہے اس لئے کہ اس میں شریک اور عبد اللہ بن محمد بن عقیل دونوں ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، (ملاحظہ ہو: الإرواء: 188)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 622)
وضاحت: ۱؎: اور فجر کی نماز کے لئے ایک غسل کر لو۔ ۲؎: دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہر نماز کے لئے غسل کرے، تو دن رات میں پانچ بار غسل کرنا ہو گا، اور اس صورت میں صرف تین بار غسل کرنا پڑے گا، اس حدیث سے ان لوگوں نے دلیل لی ہے جنہوں نے مستحاضہ کو ہر نماز کے لئے غسل کرنے کا حکم دیا ہے، مگر یہ حکم نہایت سخت ہے، اور ضعیف اور کمزور عورتوں سے یہ بار اٹھانا مشکل ہے،خصوصاً سرد ملکوں میں، پس عمدہ طریقہ وہی ہے جو دوسری حدیثوں سے ثابت ہے کہ حیض کے ختم ہو جانے پر صرف ایک بار غسل کر لے، پھر ہر نماز کے لئے وضو کرتی رہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (287) ترمذي (128) وانظر الحديث السابق (622)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 401

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں