🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

118. . بَابٌ في مَا جَاءَ فِي دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ
باب: حیض کا خون کپڑے میں لگ جائے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 628
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ هُرْمُزَ أَبِي الْمِقْدَامِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ؟ قَالَ:" اغْسِلِيهِ بِالْمَاءِ، وَالسِّدْرِ، وَحُكِّيهِ وَلَوْ بِضِلَعٍ".
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑوں میں لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کی پتی سے دھو ڈالو، اور اسے کھرچ ڈالو، اگرچہ لکڑی ہی سے سہی۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 628]
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے کو حیض کا خون لگ جانے کا مسئلہ پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بیری کے پتوں اور پانی کے ساتھ دھو ڈالو، اور اسے کھرچ دو، خواہ لکڑی سے کھرچو۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 628]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 132 (363)، سنن النسائی/الطہارة 185 (293)، الحیض 26 (395)، (تحفة الأشراف: 18344)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/355، 356)، سنن الدارمی/الطہارة 105 (1059) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 629
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يَكُونُ فِي الثَّوْبِ؟ قَالَ:" اقْرُصِيهِ وَاغْسِلِيهِ وَصَلِّي فِيهِ".
اسماء بنت ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے میں حیض کا خون لگ جانے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے انگلیوں سے رگڑو اور پانی سے دھو ڈالو، پھر اس میں نماز پڑھو۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 629]
حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے کو لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیوں سے مل کر دھو لے اور اسے پہن کر نماز پڑھ لے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 629]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الو ضوء 63 (227)، الحیض 9 (307)، صحیح مسلم/الطہارة 33 (291)، سنن الترمذی/الطہارة 104 (138)، سنن ابی داود/ الطہارة 132 (361)، سنن النسائی/الطہارة 185 (294)، الحیض 26 (394)، (تحفة الأشراف: 15743)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 28 (103)، سنن الدارمی/الطہارة 83 (799) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 630
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" إِنْ كَانَتْ إِحْدَانَا لَتَحِيضُ، ثُمَّ تَقْتَنِصُ الدَّمَ مِنْ ثَوْبِهَا عِنْدَ طُهْرِهَا فَتَغْسِلُهُ، وَتَنْضَحُ عَلَى سَائِرِهِ، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم میں سے جب کسی کو حیض آتا تو حیض سے پاک ہونے کے وقت وہ اپنے کپڑے میں لگے ہوئے حیض کے خون کو کھرچ کر دھو لیتی اور باقی حصہ پر پانی چھڑک دیتی، پھر اسے پہن کر نماز پڑھتی۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 630]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم میں سے کسی کو حیض آتا تھا تو پاک ہونے پر وہ انگلیوں سے مل کر کپڑے سے خون اتار دیتی تھی، پھر (وہاں سے) کپڑا دھو لیتی اور باقی کپڑے پر چھینٹے مار لیتی اور اسے پہن کر نماز پڑھ لیتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 630]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحیض 9 (308)، (تحفة الأشراف: 17508) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں