🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

124. . بَابٌ في الْحَائِضِ كَيْفَ تَغْتَسِلُ
باب: حائضہ عورت غسل کیسے کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 641
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا وَكَانَتْ حَائِضًا:" انْقُضِي شَعْرَكِ، وَاغْتَسِلِي"، قَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ:" انْقُضِي رَأْسَكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب وہ حالت حیض میں تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے بال کھول لو، اور غسل کرو ۱؎، علی بن محمد نے اپنی حدیث میں کہا: اپنا سر کھول لو۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 641]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ حیض سے فارغ ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بال کھول دو اور غسل کرو۔ علی بن محمد کی روایت میں ہے: اپنا سر کھول دو۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 641]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17285، ومصباح الزجاجة: 241)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 16 (316)، 17 (317)، الحج 31 (1556)، المغازي 77 (4395)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/الحج 23 (1781)، سنن النسائی/الطہارة 151 (243)، المناسک 58 (2765)، مسند احمد (6/164، 177، 191، 246) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غسل حیض میں سر کا کھولنا ضروری ہے، اس میں بہ نسبت غسل جنابت کے زیادہ صفائی کی ضرورت ہوتی ہے، یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ جنابت کے غسل میں سر کا کھولنا ضروری نہ رکھا، کیونکہ وہ اکثر ہوا کرتا ہے، اور بار بار کھولنے سے عورتوں کو تکلیف ہوتی ہے، اور حیض کا غسل مہینے میں ایک بار ہوتا ہے، اس میں سر کھولنے سے کسی طرح کا حرج نہیں بلکہ ہر ایک عورت مہینے میں ایک دوبار اپنا سر کھولتی، اور بالوں کو دھوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 642
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ تُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْمَحِيضِ؟ فَقَالَ:" تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَهَا فَتَطْهُرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، أَوْ تَبْلُغُ فِي الطُّهُورِ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا حَتَّى تَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَطْهُرُ بِهَا"، قَالَتْ أَسْمَاءُ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِي بِهَا"، قَالَتْ عَائِشَةُ: كَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ، تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ، قَالَتْ: وَسَأَلَتْهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ:" تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا فَتَطْهُرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، أَوْ تَبْلُغُ فِي الطُّهُورِ حَتَّى تَصُبَّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ حَتَّى تَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جَسَدِهَا"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ لَمْ يَمْنَعْهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اسماء بنت شکل انصاریہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل حیض کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی عورت بیر کی پتی ملا ہوا پانی لے، پھر وہ طہارت حاصل کرے (یعنی شرمگاہ دھوئے) اور خوب اچھی طرح طہارت کرے یا طہارت میں مبالغہ کرے، پھر اپنے سر پر پانی ڈالے اور اسے خوب اچھی طرح ملے، یہاں تک کہ سر کے سارے بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچ جائے، پھر اس پر پانی ڈالے، پھر خوشبو کو (کپڑے یا روئی کے) ایک ٹکڑے میں بھگو کر اس سے (شرمگاہ کی) صفائی کرے، اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس سے کیسے صفائی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: سبحان اللہ! اس سے صفائی کرو، عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے چپکے سے کہا: اس کو خون کے نشان (یعنی شرمگاہ) پر پھیرو۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے غسل جنابت کے بارے میں بھی آپ سے پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی عورت پانی لے اور طہارت کرے اور اچھی طرح کرے یا پاکی میں مبالغہ کرے، پھر سر پر پانی ڈالے اور اسے خوب ملے یہاں تک کہ سر کی جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر اپنے پورے جسم پہ پانی بہائے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما نے کہا: انصارکی عورتیں کتنی اچھی ہیں، انہیں دین کی سمجھ حاصل کرنے سے شرم و حیاء نہیں روکتی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 642]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت اسماء (بنت شکل انصاریہ رضی اللہ عنہا) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے غسل کے بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کو چاہیے کہ پانی اور بیری کے پتے لے لے، پھر صفائی کرے اور اچھی طرح صفائی کرے۔ یا فرمایا: بہت زیادہ صفائی کرے (جسم کو خوب صاف کرے) پھر سر پر پانی ڈال کر خوب ملے حتی کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔ پھر سارے بدن پر پانی بہائے پھر روئی کا خوشبودار پھاہا لے کر اس سے طہارت کرے۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس کے ساتھ کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ!» سبحان اللہ! اس کے ساتھ طہارت کرو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آہستہ سے کہا: اس کو خون کے مقام پر لگا۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کو چاہیے کہ پانی لے، پھر صفائی کرے اور اچھی طرح صفائی کرے۔ یا فرمایا: بہت زیادہ صفائی کرے۔ پھر سر پر پانی ڈال کر ملے حتی کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔ پھر اپنے جسم پر پانی بہا لے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: انصار کی عورتیں بھی بہت اچھی عورتیں تھیں۔ انھیں دین کے مسائل سیکھنے سے حیا مانع نہیں ہوتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 642]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏حدیث الغسل من الجنابة: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17848)، وحدیث الغسل من المحیض أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 31 (233)، سنن ابی داود/الطہارة 122 (314، 315)، (تحفة الأشراف: 17847)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 14 (314 تعلیقاً)، سنن النسائی/الطہارة 159 (252)، مسند احمد (6/147)، سنن الدارمی/الطہارة 84 (800) (حسن) (ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 331، 333)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حق بات کہنا اور دین کی بات پوچھنا یہ شرم کے خلاف نہیں ہے، اور جو کوئی اس کو شرم کے خلاف سمجھے وہ خود بے وقوف ہے، شرم برے کام میں کرنا چاہئے، معصیت سے پاک عورتیں ناپاک باتوں سے پرہیز کرتی ہیں، آج کل کی عورتیں گناہ میں شرم نہیں کرتیں، اور دین کی بات دریافت کرنے میں شرم کرتی ہیں، ان کی شرم پر خاک پڑے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں