🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

125. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي سُؤْرِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور اس کے جھوٹے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 643
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَظْمَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَيَأْخُذُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ كَانَ فَمِي، وَأَشْرَبُ مِنَ الْإِنَاءِ، فَيَأْخُذُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ كَانَ فَمِي وَأَنَا حَائِضٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حالت حیض میں ہڈی چوستی تھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لیتے اور اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا، اور میں برتن سے پانی پیتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لیتے اور اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 643]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایامِ حیض میں ہوتی تھی تو (بعض اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ) میں ہڈی والی بوٹی سے دانتوں کے ساتھ گوشت نوچتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس (بوٹی) کو لے لیتے اور جہاں میں نے منہ لگایا تھا، وہیں سے منہ لگا کر اس ہڈی سے گوشت نوچتے، میں برتن میں پانی پیتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں منہ رکھ (کر پانی پی) لیتے جہاں میں نے منہ رکھا ہوتا تھا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 643]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحیض 3 (300)، سنن ابی داود/الطہارة 103 (259)، سنن النسائی/الطہارة 56 (70)، 177 (280)، 178 (281)، المیاہ 9 (342)، الحیض 14 (377)، 15 (380)، (تحفة الأشراف: 16145)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/62، 64، 127، 192، 210، 214) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ حائضہ کا بدن، منہ اور لعاب ناپاک نہیں ہے، اس لئے کہ حیض کی نجاست حکمی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 644
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا لَا يَجْلِسُونَ مَعَ الْحَائِضِ فِي بَيْتٍ، وَلَا يَأْكُلُونَ، وَلَا يَشْرَبُونَ، قَالَ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ سورة البقرة آية 222، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا الْجِمَاعَ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہود حائضہ عورتوں کے ساتھ نہ تو گھر میں بیٹھتے، نہ ان کے ساتھ کھاتے پیتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض» لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے: وہ ایک گندگی ہے لہٰذا تم عورتوں سے حیض کی حالت میں الگ رہو (سورة البقرہ: ۲۲۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماع کے سوا عورتوں سے حیض کی حالت میں سب کچھ کرو۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 644]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودی گھر میں حائضہ عورت کے پاس نہیں بیٹھتے تھے، نہ (اس کے ساتھ مل کر) کھاتے پیتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا گیا (اور مسئلہ دریافت کیا گیا) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ [سورة البقرة: 222] اور آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، فرما دیجیئے، وہ گندگی ہے، سو تم حیض (کے ایام) میں عورتوں سے الگ رہو۔ (اس کی وضاحت کرتے ہوئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جماع کے سوا سب کچھ کر سکتے ہو۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 644]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحیض 3 (302)، سنن ابی داود/الطہا رة 103 (258)، النکاح 47 (2165)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة 3 (2977)، (تحفة الأشراف: 308)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة 181 (289)، الحیض 8 (369)، مسند احمد (3/246)، سنن الدارمی/الطہارة 107 (1093) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں