🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ
باب: فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 816
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ: وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ سورة ق آية 10".
قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر میں آیت کریمہ: «والنخل باسقات لها طلع نضيد»  پڑھتے ہوئے سنا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 816]
حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح کی نماز میں یہ آیت پڑھتے سنا: ﴿وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيدٌ﴾ [سورة ق: 10] اور ہم نے کھجور کے بلند و بالا درخت پیدا کیے، جن کے خوشے تہ بہ تہ ہوتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 816]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 35 (457)، سنن الترمذی/الصلاة 112 (306)، سنن النسائی/الافتتاح 43 (951)، (تحفة الأشراف: 11087)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/322) سنن الدارمی/الصلاة 66 (1235) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ آیت سورۃ ق (۱۰) میں ہے، مطلب یہ ہے کہ سورۃ (ق) اور اس کے برابر سورتیں فجر میں پڑھتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 817
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَصْبَغَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ:" صَلَّيْنا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ" يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ فكَأَنِّي أَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ: فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ، الْجَوَارِ الْكُنَّسِ".
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ فجر میں: «فلا أقسم بالخنس الجوار الكنس»  ۱؎ کی قراءت فرما رہے تھے، گویا کہ میں یہ قراءت اب بھی سن رہا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 817]
حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ فجر کی نماز میں قراءت فرما رہے تھے۔ (مجھے وہ تلاوت اس طرح یاد ہے) گویا میں اب بھی آپ سے یہ آیات سن رہا ہوں: ﴿فَلَآ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَـــوَارِ الْكُنَّسِ﴾ [سورة التكوير: 15، 16] میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے، چلنے والے، چھپنے ستاروں کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 817]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 135 (817)، (تحفة الأشراف: 10715)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الصلاة 35 (456)، سنن النسائی/ الافتتاح 44 (952)، مسند احمد (4/306، 307)، سنن الدارمی/الصلاة 66 (1337) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی سورۃ تکویر کی قراءت فرما رہے تھے یہاں بھی جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 818
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ . ح وحَدَّثَنَا سُوَيْدٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَهُ، أَبُو الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ" يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں ساٹھ (۶۰) آیات سے سو (۱۰۰) آیات تک پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 818]
حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں ساٹھ سے سو آیات تک تلاوت کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 818]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 35 (647)، سنن النسائی/المواقیت 2 (496)، 16 (526)، 20 (531)، الافتتاح 42 (949)، (تحفة الأشراف: 11607)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 11 (541)، 13 (547)، 23 (568)، 38 (599)، سنن ابی داود/الصلاة 3 (398)، مسند احمد (4/420، 421، 423، 424، 425)، سنن الدارمی/الصلاة 66 (1338) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی سورۃ (ق) پڑھی جس میں یہ آیت ہے، یہاں بھی جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 819
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بِنَا، فَيُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ، وَيُقْصِرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے، اور دوسری رکعت چھوٹی کرتے، اور اسی طرح فجر کی نماز میں بھی کرتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 819]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تھے تو ظہر کی پہلی رکعت میں طویل قراءت کرتے تھے، اور دوسری رکعت میں (اس سے) کم قراءت کرتے تھے۔ صبح کی نماز بھی اسی طرح پڑھاتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 819]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12116، 12140)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 96 (759)، 97 (762)، 107 (776)، 109 (778)، 110 (779)، صحیح مسلم/الصلاة 34 (451)، سنن ابی داود/الصلاة 129 (799)، سنن النسائی/الافتتاح 56 (975)، مسند احمد (4/383، 5/295، 300، 305، 307، 30، 310، 311)، سنن الدارمی/الصلاة 63 (1330) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: پہلی رکعت میں قراءت کو طول دینا بہ نسبت دوسری رکعت کے مستحب ہے، اور اس کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ لوگوں کو جماعت مل جائے، اور پہلی رکعت نہ چھوٹے، اور بعضوں نے کہا یہ نماز فجر کے لیے خاص ہے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 820
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ:" قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بِالْمُؤْمِنُونَ فَلَمَّا أَتَى عَلَى ذِكْرِ عِيسَى أَصَابَتْهُ شَرْقَةٌ، فَرَكَعَ"، يَعْنِي: سَعْلَةً.
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز میں «سورۃ مومنون» کی تلاوت فرمائی، جب اس آیت پہ پہنچے جس میں عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے، تو آپ کو کھانسی آ گئی، اور آپ رکوع میں چلے گئے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 820]
حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں سورة المؤمنون تلاوت فرمائی، جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی آگئی تو آپ رکوع میں چلے گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 820]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 106 (774 تعلیقاً)، صحیح مسلم/الصلاة 35 (455)، سنن ابی داود/الصلاة 89 (649)، سنن النسائی/الافتتاح 76 (1008)، (تحفة الأشراف: 5313)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/411) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس باب کی احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدار قراءت مختلف بتائی گئی ہے، جس سے حسب موقعہ پڑھنے پر استدلال کیا جا سکتا ہے، آخری حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ پوری سورۃ کا پڑھنا ضروری نہیں، پہلی رکعت میں قراءت طویل کرنا، اور دوسری میں ہلکی کرنا بھی سنت رسول ہے، اور ظاہری فائدہ اس کا یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت رکعت فوت ہونے سے بچ جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں