صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ مَنْ لَمْ يَتَطَوَّعْ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ:
باب: اس کے بارے میں جس نے فرض کے بعد سنت نماز نہیں پڑھی۔
حدیث نمبر: 1174
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو , قَالَ: سَمِعْتُ أبَا الشَّعْثَاءِ جَابِرًا , قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا , قُلْتُ: يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ، قَالَ: وَأَنَا أَظُنُّهُ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوالشعثاء جابر بن عبداللہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعت ایک ساتھ (ظہر اور عصر) اور سات رکعت ایک ساتھ (مغرب اور عشاء ملا کر) پڑھیں۔ (بیچ میں سنت وغیرہ کچھ نہیں) ابوالشعثاء سے میں نے کہا میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر آخر وقت میں اور عصر اول وقت میں پڑھی ہو گی۔ اسی طرح مغرب آخر وقت میں پڑھی ہو گی اور عشاء اول وقت میں۔ ابوالشعثاء نے کہا کہ میرا بھی یہی خیال ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1174]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة