سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ: الْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ
باب: دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 893
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، فَإِذَا سَجَدَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا، وَكَانَ يَفْتَرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے، جب تک کہ سیدھے کھڑے نہ ہو جاتے، اور جب سجدہ کر کے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک کہ سیدھے بیٹھ نہ جاتے، اور بیٹھنے میں اپنا بایاں پاؤں بچھا دیتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 893]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہیں کرتے تھے جب تک پوری طرح کھڑے نہ ہو جاتے، اور جب سجدہ کر کے سر اٹھاتے تو اس وقت تک (دوسرا) سجدہ نہیں کرتے تھے جب تک اچھی طرح بیٹھ نہ جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں پاؤں بچھا لیتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 46 (498)، سنن ابی داود/الصلاة 124 (783)، (تحفة الأشراف: 16040)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 21، 194) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 894
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء نہ کرو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 894]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”دو سجدوں کے درمیان اس طرح نہ بیٹھ کہ سرین اور ایڑیاں زمین پر ہوں اور دونوں پنڈلیاں کھڑی ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 894]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 93 (282)، (تحفة الأشراف: 10041)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/82، 146) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں الحارث روای ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4787)»
وضاحت: ۱؎: ”اقعاء“: دونوں پنڈلیاں کھڑی کر کے سرین اور دونوں ہاتھ زمین پر رکھ کر بیٹھنے کو اقعاء کہتے ہیں، اور دونوں قدم کھڑا کر کے اس پر بیٹھنے کو بھی اقعاء کہا جاتا ہے، ممانعت پہلی صورت کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (282)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
إسناده ضعيف
ترمذي (282)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
حدیث نمبر: 895
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوَابٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ النَّخَعِيُّ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، وَأَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَلِيُّ:" لَا تُقْعِ إِقْعَاءَ الْكَلْبِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «يا علي لا تقع إقعاء الكلب» “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 895]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے علی! کتے کی طرح ایڑیوں پر مت بیٹھ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 895]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث أبي اسحاق عن الحارث تقدم فيحدیث (894)، وحدیث أبي موسیٰ عن الحارث، قد تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9028) (حسن)» (شواہد کے بنا ء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں أبو مالک ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس طرح نماز میں بیٹھنا ہمیشہ مکروہ ہے، کیونکہ اس میں ستر کھلنے کا ڈر ہوتا ہے، اگر یہ ڈر نہ ہو تو نماز کے باہر مکروہ نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
أبو مالك النخعي: متروك (تقريب: 8337) والحارث الأعور: ضعيف
وانظر الحديث السابق (894) وحديث مسلم (498) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
ضعيف
أبو مالك النخعي: متروك (تقريب: 8337) والحارث الأعور: ضعيف
وانظر الحديث السابق (894) وحديث مسلم (498) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
حدیث نمبر: 896
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا الْعَلَاءُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَلَا تُقْعِ كَمَا يُقْعِي الْكَلْبُ، ضَعْ أَلْيَتَيْكَ بَيْنَ قَدَمَيْكَ وَأَلْزِقْ ظَاهِرَ قَدَمَيْكَ بِالْأَرْضِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سجدہ سے اپنا سر اٹھاؤ تو کتے کی طرح نہ بیٹھو، بلکہ اپنی سرین اپنے دونوں قدموں کے درمیان رکھو، اور اپنے قدموں کے اوپری حصہ کو زمین سے ملا دو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 896]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تو سجدے سے سر اٹھائے تو اس طرح نہ بیٹھ جس طرح کتا بیٹھتا ہے۔ اپنے سرین اپنے قدموں کے درمیان رکھ اور پاؤں کی اوپر کی سمت زمین سے ملا دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1121، ومصباح الزجاجة: 326) (موضوع)» (علاء بن زید انس رضی اللہ عنہ سے موضوع احادیث روایت کرتا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2614)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
العلاء بن زيد: متروك ورماه أبو الوليد بالكذب (تقريب: 5239) والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
إسناده ضعيف جدًا
العلاء بن زيد: متروك ورماه أبو الوليد بالكذب (تقريب: 5239) والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410