🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب : الجلوس بين السجدتين
باب: دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 893
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، فَإِذَا سَجَدَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا، وَكَانَ يَفْتَرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے، جب تک کہ سیدھے کھڑے نہ ہو جاتے، اور جب سجدہ کر کے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک کہ سیدھے بیٹھ نہ جاتے، اور بیٹھنے میں اپنا بایاں پاؤں بچھا دیتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 46 (498)، سنن ابی داود/الصلاة 124 (783)، (تحفة الأشراف: 16040)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 21، 194) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥أوس بن عبد الله الربعي، أبو الجوزاء
Newأوس بن عبد الله الربعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥بديل بن ميسرة العقيلي
Newبديل بن ميسرة العقيلي ← أوس بن عبد الله الربعي
ثقة
👤←👥الحسين بن ذكوان المعلم
Newالحسين بن ذكوان المعلم ← بديل بن ميسرة العقيلي
ثقة
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← الحسين بن ذكوان المعلم
ثقة متقن
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
893
إذا رفع رأسه من الركوع لم يسجد حتى يستوي قائما فإذا سجد فرفع رأسه لم يسجد حتى يستوي جالسا وكان يفترش رجله اليسرى
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 893 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث893
اردو حاشہ:
فوائد و وسائل:

(1)
رکوع سے اٹھ کر سیدھا کھڑا ہونا قومہ  کہلاتا ہے۔
اس مقام پر پڑھی جانے والی بعض دعایئں۔
باب 18 میں بیان ہوچکی ہیں۔
دونوںسجدوں کےدرمیان بیٹھنا جلسہ کہلاتاہے۔
اس کے اذکار باب: 23 میں بیان ہوں گے۔

(2)
قومہ اور جلسہ نماز کا اسی طرح ضروری حصہ ہیں۔
جس طرح رکوع اور سجدہ نماز کے لئے ضروری اجزاء ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں غلطی کرنے والے صحابی کو اس کی غلطیوں پر متنبہ کرتے ہوئے فرمایا تھا۔
۔
۔
۔
پھر رکوع کر حتیٰ کہ اطمینان سے رکوع کرلے، پھر سراٹھا حتیٰ کہ ٹھیک کھڑا ہوجائے، پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کرلے۔
پھر سراٹھا حتیٰ کہ اطمینان سے بیٹھ جائے۔
پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کرلے۔
۔
۔ (صحیح البخاري، الأذان، باب أمرالنبی صلی اللہ علیہ وسلم الذی لایتم رکوعه بالإعادۃ، حدیث: 793)

(3)
سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے کہ بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھا جائے۔
اور دایاں پاؤں کھڑا رکھا جائے۔
آخری تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے بایاں پاؤں دایئں پاؤں کے نیچے سے نکال دیاجائے۔
اورزمین پر بیٹھا جائے۔
دیکھيے:
(صحیح البخاري، الأذان، باب سنة الجلوس فی التشھد، حدیث: 828)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 893]