🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

104. . بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ قَبْلَ صَلاَةِ الْفَجْرِ مَتَى يَقْضِيهِمَا
باب: فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت نہ پڑھی ہو تو اس سے کب پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1154
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَلَاةَ الصُّبْحِ مَرَّتَيْنِ؟"، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا فَصَلَّيْتُهُمَا، قَالَ: فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو نماز فجر کے بعد دو رکعت پڑھ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا نماز فجر دو بار پڑھ رہے ہو؟، اس شخص نے کہا: میں نماز فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت نہ پڑھ سکا تھا، تو میں نے اب ان کو پڑھ لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1154]
حضرت قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو فجر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا صبح کی نماز دو دفعہ پڑھ رہے ہو؟ اس شخص نے عرض کیا: میں نے فجر سے پہلے کی دو رکعتیں (سنتیں) نہیں پڑھی تھیں وہ (اب) پڑھی ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 295 (1267، 1268)، سنن الترمذی/الصلاة 197 (422)، (تحفة الأشراف: 11102)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/447) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے فجر کی دونوں سنتیں پڑھنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1155
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَامَ عَنْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَقَضَاهُمَا بَعْدَ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سو گئے، اور فجر کی سنتیں نہ پڑھ سکے، تو ان کی قضاء سورج نکلنے کے بعد کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1155]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیند کی وجہ سے فجر کی سنتیں نہ پڑھ سکے تو آپ نے سورج طلوع ہونے کے بعد ان کی قضا دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1155]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13461، ومصباح الزجاجة: 411) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ فجر کی دو رکعت سنت کی قضا سورج نکلنے کے بعد بھی جائز ہے، یہی ثوری، احمد، اسحاق، اور ابن مبارک کا مذہب ہے، امام محمد کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک زوال تک ان کی قضا پڑھ لینا بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں