🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
104. . باب : ما جاء فيمن فاتته الركعتان قبل صلاة الفجر متى يقضيهما
باب: فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت نہ پڑھی ہو تو اس سے کب پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1155
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَامَ عَنْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَقَضَاهُمَا بَعْدَ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سو گئے، اور فجر کی سنتیں نہ پڑھ سکے، تو ان کی قضاء سورج نکلنے کے بعد کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1155]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13461، ومصباح الزجاجة: 411) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ فجر کی دو رکعت سنت کی قضا سورج نکلنے کے بعد بھی جائز ہے، یہی ثوری، احمد، اسحاق، اور ابن مبارک کا مذہب ہے، امام محمد کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک زوال تک ان کی قضا پڑھ لینا بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سلمان مولى عزة، أبو حازم
Newسلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥يزيد بن كيسان اليشكري، أبو إسماعيل، أبو منين
Newيزيد بن كيسان اليشكري ← سلمان مولى عزة
صدوق حسن الحديث
👤←👥مروان بن معاوية الفزاري، أبو عبد الله
Newمروان بن معاوية الفزاري ← يزيد بن كيسان اليشكري
ثقة حافظ وكان يدلس أسماء الشيوخ
👤←👥يعقوب بن كاسب المدني، أبو يوسف
Newيعقوب بن كاسب المدني ← مروان بن معاوية الفزاري
صدوق يهم
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد
Newدحيم القرشي ← يعقوب بن كاسب المدني
ثقة حافظ متقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
624
ليأخذ كل رجل برأس راحلته فإن هذا منزل حضرنا فيه الشيطان قال ففعلنا فدعا بالماء فتوضأ ثم صلى سجدتين ثم أقيمت الصلاة فصلى الغداة
صحيح مسلم
1561
ليأخذ كل رجل برأس راحلته فإن هذا منزل حضرنا فيه الشيطان قال ففعلنا ثم دعا بالماء فتوضأ ثم سجد سجدتين وقال يعقوب ثم صلى سجدتين ثم أقيمت الصلاة فصلى الغداة
جامع الترمذي
3163
اكلأ لنا الليلة قال فصلى بلال ثم تساند إلى راحلته مستقبل الفجر فغلبته عيناه فنام فلم يستيقظ أحد منهم وكان أولهم استيقاظا النبي فقال أي بلال فقال بلال بأبي أنت يا رسول الله أخذ بنفسي الذي أخذ بنفسك فقال رسول الله اقتادوا ثم أناخ فتوضأ فأقام الصلاة ثم صلى م
سنن ابن ماجه
1155
نام عن ركعتي الفجر فقضاهما بعد ما طلعت الشمس
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1155 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1155
اردو حاشہ:
فائده:
اس سے معلوم ہوا کہ فجر کی سنتیں رہ جایئں تو سورج طلوع ہونے کے بعد بھی پڑھی جاسکتی ہیں۔
تاہم انھیں قضا قرار دیا گیا ہے۔
اس لئے طلوع آفتاب سے پہلے پڑھ لینا بہتر ہے کیونکہ وہ نماز فجر کا ہی ایک حصہ ہیں۔
جنھیں فجر کے وقت ہی میں پڑھ لیا گیا تو قضا نہیں ہوئیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1155]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3163
سورۃ طہٰ سے بعض آیات کی تفسیر۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے لوٹے، رات کا سفر اختیار کیا، چلتے چلتے آپ کو نیند آنے لگی (مجبور ہو کر) اونٹ بٹھایا اور قیام کیا، بلال رضی الله عنہ سے فرمایا: بلال! آج رات تم ہماری حفاظت و پہرہ داری کرو، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: بلال نے (جاگنے کی صورت یہ کی کہ) نماز پڑھی، صبح ہونے کو تھی، طلوع فجر ہونے کا انتظار کرتے ہوئے انہوں نے اپنے کجاوے کی (ذرا سی) ٹیک لے لی، تو ان کی آنکھ لگ گئی، اور وہ سو گئے، پھر تو کوئی اٹھ نہ سکا، ان سب میں سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3163]
اردو حاشہ: 1؎:
مجھے یاد کرنے کے لیے صلاۃ پڑھو (طہٰ: 14)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3163]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1561
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کے آخری حصہ میں پڑاؤ کیا اور ہم سورج نکلنے تک بیدار نہ ہو سکے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر انسان اپنی سواری کا سر پکڑ لے یعنی لگا یا مہار پکڑ کر چل پڑے۔ کیونکہ یہ ایسی جگہ ہے جس میں ہمارے ساتھ شیطان آ گیا ہے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کر کے دو رکعتیں (سنت) پڑھیں۔ پھر جماعت کھڑی کی گئی (اقامت کہی گئی) اور... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1561]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:

اگرمشترکہ طور پر نماز فوت ہو جائے تو وقت ملتے ہی اس کے لیے اہتمام کیا جائے گا۔
اذان کہہ کر سنتیں پڑھی جائیں گی۔
پر اقامت کہہ کر جماعت کروائی جائے گی۔
اگرنمازیں ایک سے زائد فوت ہو جائیں تو پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت دونوں ہیں۔
بعد والی نمازوں کے لیے اختیار ہے ہر ایک کےلیے اذان اور اقامت کہہ لیں یا صرف اقامت پر اکتفا کر لیں۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
اورامام احمد رحمۃ اللہ علیہ ہر نماز کے لیے اذان کے قائل ہیں۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ آخری قول میں اذان کے قائل نہیں۔

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
اورامام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سنتوں کی قضائی بہتر ہے۔
سنتیں نماز کےساتھ رہ گئی ہوں یا صرف سنتیں باقی ہوں اور احناف کے نزدیک اگرصرف سنتیں رہ گئی ہوں توان کی قضا نہیں ہے۔
فرضوں کےساتھ قضاء ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1561]