🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

123. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ بِثَلاَثٍ وَخَمْسٍ وَسَبْعٍ وَتِسْعٍ
باب: وتر میں تین، پانچ، سات اور نو رکعات پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1190
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِخَمْسٍ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِثَلَاثٍ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر حق (ثابت) ہے، لہٰذا جس کا جی چاہے پانچ رکعت وتر پڑھے، اور جس کا جی چاہے تین رکعت پڑھے، اور جس کا جی چاہے ایک رکعت پڑھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1190]
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر ضروری ہیں، لہٰذا جو شخص پانچ رکعت وتر پڑھنا چاہے پڑھ لے اور جو شخص تین وتر پڑھنا چاہے پڑھ لے اور جو شخص ایک وتر پڑھنا چاہے پڑھ لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1190]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 338 (1422)، سنن النسائی/قیام اللیل 34 (1711، 1712)، (تحفة الأشراف: 3480)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/418)، سنن الدارمی/الصلاة 210 (1626) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1191
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَفْتِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ فِيمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ، فَيَدْعُو رَبَّهُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُو رَبَّهُ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخَذَ اللَّحْمُ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ".
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں بتائیے، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہتا رات میں آپ کو بیدار کر دیتا، آپ مسواک اور وضو کرتے، پھر نو رکعتیں پڑھتے، بیچ میں کسی بھی رکعت پر نہ بیٹھتے، ہاں آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اپنے رب سے دعا کرتے، اس کا ذکر کرتے اور حمد کرتے ہوئے اسے پکارتے، پھر اٹھ جاتے، سلام نہ پھیرتے اور کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے اور اللہ کا ذکر اور اس کی حمد و ثنا کرتے، اور اپنے رب سے دعا کرتے، اور اس کے نبی پر درود (صلاۃ) پڑھتے، پھر اتنی آواز سے سلام پھیرتے کہ ہم سن لیتے، سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعت پڑھتے، یہ سب گیارہ رکعتیں ہوئیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی، اور آپ کا جسم مبارک بھاری ہو گیا، تو آپ سات رکعتیں وتر پڑھتے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1191]
حضرت سعد بن ہشام رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کرتے ہوئے کہا: ام المومنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز وتر (تہجد) کے متعلق ارشاد فرمائیے۔ انہوں نے فرمایا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور (وضو کے لیے) پانی تیار رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ رات کے جس حصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھانا چاہتا، اٹھا دیتا، آپ مسواک کرتے، وضو کرتے، پھر نو رکعت نماز پڑھتے، اس میں صرف آٹھویں رکعت پر (تشہد کے لیے) بیٹھتے تو اپنے رب سے دعائیں کرتے۔ (یعنی) اللہ کا ذکر کرتے، اس کی تعریف فرماتے، اور دعائیں پڑھتے، پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے۔ کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے، پھر (تشہد میں) بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے، اس کی تعریفیں کرتے، رب سے دعائیں مانگتے، اور اس کے نبی پر درود پڑھتے، پھر (قدرے بلند آواز سے) سلام پھیرتے جو ہمیں سن جائے، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے۔ یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہوگئی اور جسم مبارک بھاری ہوگیا تو آپ سات وتر پڑھتے تھے اور سلام کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1191]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/السہو 67 (1316)، (تحفة الأشراف: 16107)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 18 (746)، الصلاة 316 (1342)، مسند احمد (6/44، 54) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1192
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُوتِرُ بِسَبْعٍ أَوْ بِخَمْسٍ، لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ وَلَا كَلَامٍ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات یا پانچ رکعتیں وتر پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان سلام اور کلام سے فصل نہیں کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1192]
حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات یا پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، ان کے درمیان سلام یا کلام کے ساتھ تفریق نہیں کرتے تھے (ایک ہی سلام سے پڑھتے تھے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1192]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/قیام اللیل 35 (1715)، (تحفةالأشراف: 18214)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الوتر 5 (457)، مسند احمد (6/290، 310، 321) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس سند میں مقسم ہیں، اور ان کا سماع ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نہیں ہے، لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2961)
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں