🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

174. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي قِيَامِ اللَّيْلِ
باب: تہجد (قیام اللیل) پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1329
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ بِاللَّيْلِ بِحَبْلٍ فِيهِ ثَلَاثُ عُقَدٍ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا، فَيُصْبِحُ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ قَدْ أَصَابَ خَيْرًا، وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ أَصْبَحَ كَسِلًا خَبِيثَ النَّفْسِ لَمْ يُصِبْ خَيْرًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کی گدی پر رات میں شیطان رسی سے تین گرہیں لگا دیتا ہے، اگر وہ بیدار ہوا اور اللہ کو یاد کیا، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب اٹھ کر وضو کیا تو ایک گرہ اور کھل جاتی ہے، پھر جب نماز کے لیے کھڑا ہوا تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں، اس طرح وہ چست اور خوش دل ہو کر صبح کرتا ہے، جیسے اس نے بہت ساری بھلائی حاصل کر لی ہو، اور اگر ایسا نہ کیا تو سست اور بری حالت میں صبح کرتا ہے، جیسے اس نے کوئی بھی بھلائی حاصل نہیں کی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1329]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان رات کو انسان کے سر کے پچھلے حصے میں رسی سے تین گرہیں لگاتا ہے، اگر انسان جاگ کر اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب اٹھ کر وضو کر لیتا ہے تو ایک (اور) گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب نماز پڑھنے کھڑا ہو جاتا ہے تو اس کی تمام گرہیں کھل جاتی ہیں، چنانچہ وہ صبح کو چاق و چوبند اور خوش باش ہوتا ہے، اسے بھلائی مل گئی ہوتی ہے، اگر (انسان) یہ کام نہ کرے تو صبح کو سست اور بوجھل طبیعت ہوتا ہے، اسے بھلائی نہیں ملی ہوتی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1329]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12550)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد 12 (1442)، بدأالخلق 11 (3269)، صحیح مسلم/المسافرین 28 (776)، سنن ابی داود/الصلاة 307 (1306)، سنن النسائی/قیام اللیل5 (1608)، موطا امام مالک/قصرالصلاة 25 (95)، مسند احمد (2/243، 253) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مولف نے اس حدیث سے قیام اللیل مراد لیا ہے، اور ممکن ہے کہ نماز فجر کے لئے اٹھنے سے اور وضو کرنے سے بھی شیطان کی یہ گرہیں کھل جائیں، «والعلم عند الله» ، ہمیں گرہ کی تاویل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، درحقیقت شیطان یہ گرہیں لگاتا ہے اور بعضوں نے تاویل کی اور اس سے غفلت کی رسی مراد لی، اور گرہوں سے اس غفلت کو مضبوط کر دینا، اور رات کے لمبی ہونے کا احساس دلا دینا مراد لیا ہے، جب کہ صحیح بخاری کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ جب وہ اٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو شیطان اس سے کہتا ہے کہ ابھی رات بہت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1330
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ، قَالَ:" ذَلِكَ الشَّيْطَانُ بَالَ فِي أُذُنَيْهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا جو صبح تک سوتا رہا، آپ نے فرمایا: شیطان نے اس شخص کے کانوں میں پیشاب کر دیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1330]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک شخص کا ذکر ہوا کہ وہ رات سے صبح تک (ساری رات) سویا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کے کانوں میں شیطان نے پیشاب کر دیا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1330]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التہجد 13 (1144)، بدأالخلق 11 (3270)، صحیح مسلم/المسافرین 28 (774)، سنن النسائی/قیام اللیل 5 (1609، 1610)، (تحفة الأشراف: 9297)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/475، 427) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بعض لوگوں نے کہا ہے کہ کان میں پیشاب کرنا حقیقت ہے گرچہ ہمیں اس کا ادراک نہیں ہوتا، اور بعضوں کے نزدیک کنایہ ہے اس بات سے کہ جو شخص سویا رہتا ہے اور رات کو اٹھ کر نماز نہیں پڑھتا تو شیطان اس کے لئے اللہ کی یاد میں رکاوٹ بن جاتا ہے، اسی کو شیطان کے آدمی کے کان میں پیشاب کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1331
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَكُنْ مِثْلَ فُلَانٍ كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ، فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم فلاں شخص کی طرح نہ ہو جانا جو رات میں تہجد پڑھتا تھا، پھر اس نے اسے چھوڑ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1331]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں کی طرح نہ ہو جانا، وہ رات کو قیام کیا کرتا تھا، پھر اس نے رات کا قیام (تہجد پڑھنا) ترک کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1331]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التہجد 19 (1152)، صحیح مسلم/الصیام 35 (1159)، سنن النسائی/قیام اللیل 50 (1764)، (تحفة الأشراف: 8961)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/170) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1332
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَدَثَانِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُنَيْدُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ لِسُلَيْمَانَ: يَا بُنَيَّ،" لَا تُكْثِرِ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ، فَإِنَّ كَثْرَةَ النَّوْمِ بِاللَّيْلِ تَتْرُكُ الرَّجُلَ فَقِيرًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہما السلام کی ماں نے سلیمان سے کہا: بیٹے! تم رات میں زیادہ نہ سویا کرو اس لیے کہ رات میں بہت زیادہ سونا آدمی کو قیامت کے دن فقیر کر دے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1332]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داؤد علیہما السلام کی والدہ نے سلیمان علیہ السلام سے فرمایا: پیارے بیٹے! رات کو زیادہ نہ سویا کرو، رات کو زیادہ سونے کی وجہ سے انسان قیامت کے دن مفلس ہو جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1332]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏(تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3094، ومصباح الزجاجة: 467) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کو ابن الجوزی نے موضوعات میں ذکر کیا ہے، اور کہا ہے: «لایصح عن رسو ل اللہ، ویوسف لایتابع علی حدیثہ» ، یہ رسول اللہ ﷺ سے صحیح نہیں ہے، اور یوسف کی حدیث کا کوئی متابع نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذاإسناد ضعيف،لضعف يوسف بن محمد بن المنكدر
وسنيد بن داود‘‘ يوسف بن محمد ابن المنكدر: ضعيف (تقريب: 7881) و قال العراقي فيه: ضعفه الجمهور (تخريج الإحياء 244/3)
وسنيد: ضعيف إلخ (التحرير: 2646)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 424

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1333
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُوسَى أَبُو يَزِيدَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَثُرَتْ صَلَاتُهُ بِاللَّيْلِ حَسُنَ وَجْهُهُ بِالنَّهَارِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رات میں زیادہ نمازیں پڑھے گا، دن میں اس کے چہرے سے نور ظاہر ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1333]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رات کو زیادہ نماز پڑھے اس کا چہرہ دن کو خوبصورت ہو جاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1333]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2336، ومصباح الزجاجة: 468) (موضوع)» ‏‏‏‏ (ابن الجوزی نے اس حدیث کو باطل کہا ہے، (2/109- 110) اس کی سند میں ثابت بن موسیٰ ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4644)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
موضوع
ثابت بن موسي الزاهد: ضعيف الحديث (تقريب: 831)
وأدخل قول شريك في الخبر كما قال ابن حبان (المجروحين 1/ 207)
و أورده ابن الجوزي في الموضوعات (109/2،110)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 424

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1334
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وعبد الوهاب ، ومحمد بن جعفر ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، انْجَفَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَقِيلَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لِأَنْظُرَ إِلَيْهِ، فَلَمَّا اسْتَبَنْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ".
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے، اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں، تو لوگوں کے ساتھ آپ کو دیکھنے کے لیے میں بھی آیا، جب میں نے کوشش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا، تو پہچان لیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے، پہلی بات آپ نے جو کہی وہ یہ تھی کہ لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، اور رات کو نماز پڑھو، جب کہ لوگ سوئے ہوں، تب تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1334]
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف تشریف لائے تو لوگ فوراً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے (جمگھٹا ہو گیا)، لوگوں نے (خوشی سے ایک دوسرے کو) کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ لوگوں کے ساتھ میں بھی آپ کی زیارت کے لیے گیا، جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ اقدس کو توجہ سے دیکھا تو مجھے یقین ہو گیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے آدمی کا چہرہ نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے جو کلام فرمایا، وہ یہ تھا: لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلایا کرو، رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو تم نماز پڑھا کرو، سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1334]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/القیامة 42 (2485)، (تحفة الأشراف: 5331)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/451)، سنن الدارمی/الصلاة 156 (1501)، (حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3251) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں