سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
189. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْحَاجَةِ
باب: نماز حاجت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1384
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ ، عَنْ فَائِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى اللَّهِ أَوْ إِلَى أَحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ، فَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، أَسْأَلُكَ أَلَّا تَدَعَ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ، وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ، وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَهَا لِي، ثُمَّ يَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ مَا شَاءَ، فَإِنَّهُ يُقَدَّرُ".
عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اور فرمایا: ”جسے اللہ سے یا اس کی مخلوق میں سے کسی سے کوئی ضرورت ہو تو وہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے، اس کے بعد یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين اللهم إني أسألك موجبات رحمتك وعزائم مغفرتك والغنيمة من كل بر والسلامة من كل إثم أسألك ألا تدع لي ذنبا إلا غفرته ولا هما إلا فرجته ولا حاجة هي لك رضا إلا قضيتها» ”کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے جو حلیم ہے، کریم (کرم والا) ہے، پاکی ہے اس اللہ کی جو عظیم عرش کا مالک ہے، تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے، اے اللہ! میں تجھ سے ان چیزوں کا سوال کرتا ہوں جو تیری رحمت کا سبب ہوں، اور تیری مغفرت کو لازم کریں، اور میں تجھ سے ہر نیکی کے پانے اور ہر گناہ سے بچنے کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے تمام گناہوں کو بخش دے، اور تمام غموں کو دور کر دے، اور کوئی بھی حاجت جس میں تیری رضا ہو اس کو میرے لیے پوری کر دے“۔ پھر اس کے بعد دنیا و آخرت کا جو بھی مقصد ہو اس کا سوال کرے، تو وہ اس کے نصیب میں کر دیا جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1384]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”جس کو اللہ سے یا مخلوق میں سے کسی سے کوئی حاجت درپیش ہو، اسے چاہیے کہ وضو کر کے دو رکعتیں پڑھے پھر کہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، أَسْأَلُكَ أَلَّا تَدَعَ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ، وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ، وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَهَا لِي» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو حلم والا اور کرم والا ہے۔ پاک ہے اللہ جو عرشِ عظیم کا مالک ہے، تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو جہانوں کو پالنے والا ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے وہ چیزیں (اعمال و خصال) مانگتا ہوں جو تیری رحمت کا سبب ہیں اور تیری بخشش کا باعث بننے والے (اعمال) اور ہر نیکی میں حصہ اور ہر گناہ سے سلامتی کا سوال کرتا ہوں۔ میں تجھ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ میرا کوئی گناہ معاف کیے بغیر، کوئی غم ختم کیے بغیر اور کوئی حاجت جو تیری رضا کے مطابق ہو، پوری کیے بغیر نہ چھوڑ۔“ پھر اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی جو حاجت چاہے مانگ لے۔ اس کی قسمت میں وہ چیز ہو جائے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1384]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5178، ومصباح الزجاجة: 485)، قد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 231 (479) (ضعیف جدا)» (سوید بن سعید متکلم فیہ اور فائد بن عبد الرحمن منکر الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
ترمذي (479)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 426
إسناده ضعيف جدًا
ترمذي (479)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 426
حدیث نمبر: 1385
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ سَيَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَنِيِّ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ لِي أَنْ يُعَافِيَنِي، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ لَكَ وَهُوَ خَيْرٌ، وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ"، فَقَالَ: ادْعُهْ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوءَهُ، وَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي قَدْ تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَى اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ"، قَالَ أَبُو إِسْحَاق: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے صحت و عافیت کی دعا فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے آخرت کی بھلائی چاہوں جو بہتر ہے، اور اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے دعا کروں، اس شخص نے کہا: آپ دعا کر دیجئیے، تب آپ نے اس کو حکم دیا کہ وہ اچھی طرح وضو کرے، اور دو رکعت نماز پڑھے، اس کے بعد یہ دعا کرے: «اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بمحمد نبي الرحمة يا محمد إني قد توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضى اللهم فشفعه في» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو نبی رحمت ہیں، اے محمد! میں نے آپ کے ذریعہ سے اپنے رب کی جانب اس کام میں توجہ کی تاکہ پورا ہو جائے، اے اللہ! تو میرے حق میں ان کی شفاعت قبول فرما“۔ ابواسحاق نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1385]
حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ”میرے لیے دعا کیجیے کہ اللہ مجھے شفا دے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو میں تیرے لیے آخرت کی بھلائی چاہوں اور وہ تیرے لیے بہتر ہے اور اگر تو چاہے تو میں دعا کر دوں۔“ اس نے کہا: ”دعا ہی کر دیجیے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ خوب اچھی طرح وضو کر کے دو رکعتیں پڑھے، پھر یہ دعا مانگے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي قَدْ تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَى، اللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور نبیِ رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے تیری طرف توجہ کرتا ہوں۔ اے محمد! میں آپ کے ذریعے سے اپنی حاجت کے سلسلے میں اپنے رب کی طرف توجہ کرتا ہوں تاکہ وہ حاجت پوری ہو جائے۔ اے اللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔“ ابو اسحاق رحمہ اللہ نے کہا: ”یہ حدیث صحیح ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1385]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 119 (3578)، (تحفة الأشراف: 9760)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/138) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح