🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

190. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ التَّسْبِيحِ
باب: صلاۃ التسبیح کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1386
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عِيسَى الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ محمد بن عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ:" يَا عَمِّ، أَلَا أَحْبُوكَ، أَلَا أَنْفَعُكَ، أَلَا أَصِلُكَ"، قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" تُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، فَإِذَا انْقَضَتِ الْقِرَاءَةُ، فَقُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً قَبْلَ أَنْ تَرْكَعَ، ثُمَّ ارْكَعْ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ اسْجُدْ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَك فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ اسْجُدْ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَقُلْهَا عَشْرًا قَبْلَ أَنْ تَقُومَ، فَتِلْكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَهِيَ ثَلَاثُ مِائَةٍ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ، فَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُكَ مِثْلَ رَمْلِ عَالِجٍ غَفَرَهَا اللَّهُ لَكَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ يَقُولُهَا فِي يَوْمٍ، قَالَ:" قُلْهَا فِي جُمُعَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقُلْهَا فِي شَهْرٍ، حَتَّى قَالَ: فَقُلْهَا فِي سَنَةٍ".
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میرے چچا! کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں؟ کیا میں آپ کو فائدہ نہ پہنچاؤں؟ کیا میں آپ سے صلہ رحمی نہ کروں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ چار رکعت پڑھیے، اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی سورۃ ملا کر پڑھیے، جب قراءت ختم ہو جائے تو  «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر»  پندرہ مرتبہ رکوع سے پہلے پڑھیے، پھر رکوع کیجئیے اور انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، پھر اپنا سر اٹھائیے اور انہیں کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، پھر سجدہ کیجئیے، اور انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، پھر اپنا سر اٹھائیے، اور کھڑے ہونے سے پہلے انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، تو ہر رکعت میں پچھتر (۷۵) مرتبہ ہوئے، اور چار رکعتوں میں تین سو (۳۰۰) مرتبہ ہوئے، تو اگر آپ کے گناہ ریت کے ٹیلوں کے برابر ہوں تو بھی اللہ انہیں بخش دے گا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو شخص اس نماز کو روزانہ نہ پڑھ سکے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہفتہ میں ایک بار پڑھ لے، اگر یہ بھی نہ ہو سکے، تو مہینے میں ایک بار پڑھ لے یہاں تک کہ فرمایا: سال میں ایک بار پڑھ لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1386]
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: چچا جان! کیا میں آپ کو ایک تحفہ نہ دوں؟ آپ کو فائدہ نہ پہنچاؤں؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ضرور ایسا کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ چار رکعتیں پڑھیں۔ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھیں۔ جب قراءت مکمل ہو جائے تو رکوع کرنے سے پہلے پندرہ (15) بار یوں کہیں: «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ پاک ہے اور تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے پھر رکوع کریں۔ تو (رکوع کی حالت میں رکوع کی تسبیحات پڑھنے کے بعد) یہ تسبیح دس (10) بار پڑھیں، پھر رکوع سے سر اٹھائیں تو (قومے کے اذکار کے بعد) دس (10) بار یہ کہیں، پھر سجدہ کریں تو (سجدے کی تسبیحات کے بعد) دس (10) بار یہی پڑھیں، پھر (سجدے سے) سر اٹھائیں تو کھڑے ہونے سے پہلے (جلسہ استراحت میں) دس (10) بار یہی پڑھیں۔ یہ ایک رکعت میں پچھتر تسبیحات ہیں اور چار رکعتوں میں تین سو تسبیحات ہیں۔ اگر آپ کے گناہ صحرائے عالج کی ریت (کے ذروں) کے برابر بھی ہوں گے تو (اس نماز کی وجہ سے) اللہ تعالیٰ وہ سب بخش دے گا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جو روزانہ یہ نماز نہ پڑھ سکے تو (کیا کرے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہفتے میں ایک بار پڑھ لیں۔ اگر آپ سے یہ بھی نہ ہو سکے تو مہینے میں ایک بار پڑھ لیں۔ حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ورنہ سال میں ایک بار تو پڑھ لیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1386]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12015)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 303 (1297)، سنن الترمذی/الصلاة 233 (482) (صحیح)» ‏‏‏‏ (دوسری سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں، علماء نے اختلاف کیا ہے کہ یہ حدیث کیسی ہے، ابن خزیمہ اور حاکم نے اس کو صحیح کہا، اور ایک جماعت نے اس کو حسن کہا، اور ابن الجوزی نے اس کو موضوعات میں ذکر کیا، حافظ ابن حجر نے کہا یہ حدیث حسن ہے، اور ابن الجوزی نے برا کیا جو اس کو موضوع قرار دیا)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1387
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: يَا عَبَّاسُ، يَا عَمَّاهُ،" أَلَا أُعْطِيكَ، أَلَا أَمْنَحُكَ، أَلَا أَحْبُوكَ، أَلَا أَفْعَلُ لَكَ عَشْرَ خِصَالٍ إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ، غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، وَقَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ، وَخَطَأَهُ وَعَمْدَهُ، وَصَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ، وَسِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ، عَشْرُ خِصَالٍ: أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ، قُلْتَ وَأَنْتَ قَائِمٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ فَتَقُولُ وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَهْوِي سَاجِدًا فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، فَذَلِكَ خَمْسَةٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، تَفْعَلُ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عباس! اے چچا جان! کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں؟ کیا میں آپ سے اچھا سلوک نہ کروں؟ کیا میں آپ کو دس خصلتیں نہ بتاؤں کہ اگر آپ اس کو اپنائیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے اور پچھلے، نئے اور پرانے، جانے اور انجانے، چھوٹے اور بڑے، پوشیدہ اور ظاہر سبھی گناہ بخش دے، وہ دس خصلتیں یہ ہیں: آپ چار رکعت پڑھیں، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھیں، جب پہلی رکعت میں قراءت سے فارغ ہو جائیں تو کھڑے کھڑے پندرہ مرتبہ  «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہیں، پھر رکوع کریں، اور بحالت رکوع اس تسبیح کو دس مرتبہ کہیں، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھائیں اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ میں جائیں اور بحالت سجدہ ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھائیں، اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ کریں، اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھائیں اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، تو یہ ہر رکعت میں پچھتر (۷۵) مرتبہ ہوا، چاروں رکعتوں میں اسی طرح کریں، اگر آپ سے یہ ہو سکے تو روزانہ یہ نماز ایک مرتبہ پڑھیں، اور اگر یہ نہ ہو سکے تو ہفتہ میں ایک بار پڑھیں، اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو مہینے میں ایک بار پڑھیں، اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو اپنی عمر میں ایک بار پڑھیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1387]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عباس! اے چچا جان! کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں، کیا میں آپ کو ہدیہ نہ دوں، کیا میں آپ کو تحفہ نہ دوں، کیا میں آپ کے لیے دس خوبیاں (دس قسم کے گناہوں کا کفارہ بن جانے والا عمل) نہ بیان کروں؟ جب آپ وہ کام کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کے پہلے، پچھلے، پرانے اور نئے، غلطی سے کیے جانے والے، چھوٹے اور بڑے، پوشیدہ اور ظاہر گناہ بخش دے۔ وہ دس خوبیاں یہ ہیں (دس قسم کے گناہوں کا کفارہ بن جانے والا عمل): آپ چار رکعات ادا کریں، ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورت بھی پڑھیں۔ جب آپ پہلی رکعت میں قراءت سے فارغ ہوں تو کھڑے کھڑے کہیں: «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ پاک ہے، سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، پندرہ بار یہ تسبیح پڑھیں، پھر رکوع کریں اور رکوع میں دس بار یہی تسبیح کہیں، پھر رکوع سے سر اٹھا کر دس بار یہی کہیں، پھر سجدہ کریں اور سجدے میں دس بار یہ پڑھیں، پھر سجدے سے سر اٹھا کر یہی تسبیح دس بار کہیں، پھر سجدہ کریں اور دس بار یہ تسبیح پڑھیں، پھر سجدے سے سر اٹھائیں تو دس بار یہی پڑھیں، اس طرح ہر رکعت میں پچھتر بار تسبیح ہوگی۔ چاروں رکعات میں اسی طرح پڑھیں۔ اگر آپ میں طاقت ہو تو ہر روز ایک بار ضرور یہ نماز پڑھیں، لیکن اگر اس کی بھی قدرت نہ ہو تو مہینے میں ایک بار پڑھیں اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ساری عمر میں ایک بار پڑھ لیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1387]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الدارمی/الصلاة 303 (1297)، (تحفة الأشراف: 6038) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں