🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

204. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي تَوْطِينِ الْمَكَانِ فِي الْمَسْجِدِ يُصَلِّي فِيهِ
باب: مسجد میں نماز کے لیے جگہ مخصوص کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1429
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ، وَعَنْ فِرْشَةِ السَّبُعِ، وَأَنْ يُوطِنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ كَمَا يُوطِنُ الْبَعِيرُ".
عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز میں) تین چیزوں سے منع فرمایا: ایک تو کوے کی طرح ٹھونگ مارنے سے، دوسرے درندے کی طرح بازو بچھانے سے، اور تیسرے نماز کے لیے ایک جگہ متعین کرنے سے جیسے اونٹ اپنی جگہ مقرر کرتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1429]
حضرت عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کاموں سے منع فرمایا ہے: کوے کی طرح ٹھونگیں مارنے سے، درندے کی طرح بازو پھیلانے سے اور اس بات سے کہ آدمی نماز کے لیے ایک جگہ مقرر کر لے جس طرح اونٹ (باڑے میں اپنے لیے) جگہ مقرر کر لیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1429]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 148 (862)، سنن النسائی/التطبیق 55 (1113)، (تحفة الأشراف: 9701)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/428، 444)، سنن الدارمی/الصلاة 75 (1362) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (862) نسائي (1113)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 427

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1430
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ :" أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي إِلَى سُبْحَةِ الضُّحَى، فَيَعْمِدُ إِلَى الْأُسْطُوَانَةِ دُونَ الْمُصْحَفِ، فَيُصَلِّ قَرِيبًا مِنْهَا، فَأَقُولُ لَهُ: أَلَا تُصَلِّي هَا هُنَا وَأُشِيرُ إِلَى بَعْضِ نَوَاحِي الْمَسْجِدِ، فَيَقُولُ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى هَذَا الْمُقَامَ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نماز الضحیٰ (چاشت کی نفل نماز) کے لیے آتے اور صف سے پہلے ستون کے پاس جاتے اور اس کے نزدیک نماز پڑھتے، میں مسجد کے ایک گوشے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان سے کہتا: آپ اس جگہ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ تو وہ کہتے: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی جگہ کا قصد کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1430]
حضرت یزید بن ابوعبید رحمہ اللہ، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ ضحیٰ کے نفل پڑھنے کے لیے تشریف لاتے تو اس ستون کی طرف جاتے جو مصحف کے پاس ہے، اس کے قریب نماز پڑھتے۔ میں (یزید بن ابوعبید) مسجد کے کسی حصے کی طرف اشارہ کر کے کہتا: آپ یہاں کیوں نہیں نماز پڑھ لیتے؟ وہ فرماتے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ اہتمام سے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1430]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 95 (502)، صحیح مسلم/الصلاة 49 (509)، (تحفة الأشراف: 4541)، مسند احمد (4/48) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بظاہر یہ حدیث اگلی حدیث کے خلاف ہے جس میں مسجد کے اندر ایک جگہ متعین کرنے کی ممانعت ہے، تطبیق اس طرح ممکن ہے کہ یہ ممانعت فرائض کے لئے ہے، سنن اور نوافل کے لئے نہیں، اور بعض نے کہا ہے کہ قصد کرنا اور خاص کرنا دونوں الگ الگ چیز ہے، کیوں کہ خاص کرنے میں ملکیت ثابت ہوتی ہے، اور مسجد کسی کی ملک نہیں ہے، اور قصد کرنے کا یہ مطلب ہو گا کہ اگر جگہ خالی ہو تو وہاں پڑھے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو اس ستون کا قصد کرتے تو اس کی کوئی علت حدیث میں مذکور نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں