سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ: مَا جَاءَ فِي أَيْنَ يَقُومُ الإِمَامُ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجِنَازَةِ
باب: نماز جنازہ پڑھاتے وقت امام کہاں کھڑا ہو؟
حدیث نمبر: 1493
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ أَخْبَرَنِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ الْفَزَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ وَسَطَهَا".
سمرہ بن جندب فزاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھائی جو زچگی میں مر گئی تھی ۱؎، تو آپ اس کے بیچ میں کھڑے ہوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1493]
حضرت سمرہ بن جندب فزاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون کا جنازہ پڑھا جو نفاس کے ایام میں فوت ہو گئی تھی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی کمر کے مقابل کھڑے ہوئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1493]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض29 (332)، الجنائز62 (1332)، 63 (1333)، صحیح مسلم/الجنائز27 (964)، سنن ابی داود/الجنائز 57 (3195)، سنن الترمذی/الجنائز45 (1035)، سنن النسائی/الحیض25 (393)، الجنائز73 (1978)، (تحفة الأشراف: 4625)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/14، 19) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس عورت کی کنیت ام کعب ہے جیسا کہ نسائی کی روایت میں اس کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1494
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ صَلَّى عَلَى جِنَازَةِ رَجُلٍ، فَقَامَ حِيَالَ رَأْسِهِ، فَجِيءَ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى بِامْرَأَةٍ، فَقَالُوا: يَا أَبَا حَمْزَةَ، صَلِّ عَلَيْهَا، فَقَامَ حِيَالَ وَسَطِ السَّرِيرِ، فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، هَكَذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَامَ مِنَ الْجِنَازَةِ مُقَامَكَ مِنَ الرَّجُلِ، وَقَامَ مِنَ الْمَرْأَةِ مُقَامَكَ مِنَ الْمَرْأَةِ؟، قَالَ: نَعَمْ"، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: احْفَظُوا.
ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھائی تو اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے، پھر ایک دوسرا جنازہ ایک عورت کا لایا گیا، تو لوگوں نے کہا: اے ابوحمزہ! اس کی نماز جنازہ پڑھائیے، تو وہ چارپائی کے بیچ میں کھڑے ہوئے، تو ان سے علاء بن زیاد نے کہا: اے ابوحمزہ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح مرد اور عورت کے جنازے میں کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا، جس طرح آپ کھڑے ہوئے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: سب لوگ یاد کر لو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1494]
حضرت ابو غالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک مرد کا جنازہ پڑھایا تو اس کے سر کے مقابل کھڑے ہوئے، پھر ایک عورت کا جنازہ لایا گیا، حاضرین نے کہا: ”ابو حمزہ! (انس بن مالک) اس کا جنازہ پڑھا دیجیے“ تو آپ چارپائی کے وسط کے مقابل کھڑے ہوئے (اور جنازہ پڑھایا۔) علاء بن زیاد (عدوی رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: ”ابو حمزہ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرد کے جنازہ میں اس طرح (سر کے برابر) کھڑے ہوئے تھے، جس طرح آپ کھڑے ہوئے ہیں اور عورت کے جنازہ میں اس طرح (کمر کے مقابل) کھڑے ہوئے تھے جس طرح آپ کھڑے ہوئے ہیں؟“ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں۔“ علاء رضی اللہ عنہ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”(یہ مسئلہ) یاد کر لو۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1494]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز57 (3194)، سنن الترمذی/الجنائز45 (1034)، (تحفة الأشراف: 1621)، وقد أخرجہ: حم (3/118، 151، 204) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابوحمزہ: انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن