یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب : ما جاء في أين يقوم الإمام إذا صلى على الجنازة
باب: نماز جنازہ پڑھاتے وقت امام کہاں کھڑا ہو؟
حدیث نمبر: 1494
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ صَلَّى عَلَى جِنَازَةِ رَجُلٍ، فَقَامَ حِيَالَ رَأْسِهِ، فَجِيءَ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى بِامْرَأَةٍ، فَقَالُوا: يَا أَبَا حَمْزَةَ، صَلِّ عَلَيْهَا، فَقَامَ حِيَالَ وَسَطِ السَّرِيرِ، فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، هَكَذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَامَ مِنَ الْجِنَازَةِ مُقَامَكَ مِنَ الرَّجُلِ، وَقَامَ مِنَ الْمَرْأَةِ مُقَامَكَ مِنَ الْمَرْأَةِ؟، قَالَ: نَعَمْ"، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: احْفَظُوا.
ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھائی تو اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے، پھر ایک دوسرا جنازہ ایک عورت کا لایا گیا، تو لوگوں نے کہا: اے ابوحمزہ! اس کی نماز جنازہ پڑھائیے، تو وہ چارپائی کے بیچ میں کھڑے ہوئے، تو ان سے علاء بن زیاد نے کہا: اے ابوحمزہ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح مرد اور عورت کے جنازے میں کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا، جس طرح آپ کھڑے ہوئے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: سب لوگ یاد کر لو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1494]
حضرت ابو غالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک مرد کا جنازہ پڑھایا تو اس کے سر کے مقابل کھڑے ہوئے، پھر ایک عورت کا جنازہ لایا گیا، حاضرین نے کہا: ”ابو حمزہ! (انس بن مالک) اس کا جنازہ پڑھا دیجیے“ تو آپ چارپائی کے وسط کے مقابل کھڑے ہوئے (اور جنازہ پڑھایا۔) علاء بن زیاد (عدوی رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: ”ابو حمزہ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرد کے جنازہ میں اس طرح (سر کے برابر) کھڑے ہوئے تھے، جس طرح آپ کھڑے ہوئے ہیں اور عورت کے جنازہ میں اس طرح (کمر کے مقابل) کھڑے ہوئے تھے جس طرح آپ کھڑے ہوئے ہیں؟“ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں۔“ علاء رضی اللہ عنہ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”(یہ مسئلہ) یاد کر لو۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1494]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز57 (3194)، سنن الترمذی/الجنائز45 (1034)، (تحفة الأشراف: 1621)، وقد أخرجہ: حم (3/118، 151، 204) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابوحمزہ: انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1494
| صلى على جنازة رجل فقام حيال رأسه جيء بجنازة أخرى بامرأة فقالوا يا أبا حمزة صل عليها فقام حيال وسط السرير |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1494 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1494
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نماز جنازہ ادا کرتے وقت امام کو مرد کے سر کے قریب اور عورت کی کمر کے قریب کھڑے ہونا چاہیے۔
(2)
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایک روایت میں یہی قول منقول ہے البتہ حنفی مذہب کا مشہور قول یہ ہے کہ مرد ہو یا عورت امام کو اس کے سینے کے برابر کھڑا ہونا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
نماز جنازہ ادا کرتے وقت امام کو مرد کے سر کے قریب اور عورت کی کمر کے قریب کھڑے ہونا چاہیے۔
(2)
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایک روایت میں یہی قول منقول ہے البتہ حنفی مذہب کا مشہور قول یہ ہے کہ مرد ہو یا عورت امام کو اس کے سینے کے برابر کھڑا ہونا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1494]
Sunan Ibn Majah Hadith 1494 in Urdu
حزور الباهلي ← أنس بن مالك الأنصاري