🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجِنَازَةِ أَرْبَعًا
باب: نماز جنازہ میں چار تکبیرات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1502
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْإِيَاسِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1502]
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ادا فرمائی اور چار تکبیریں کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1502]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9828، ومصباح الزجاجة: 534) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس میں خالد بن ایاس ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
خالد بن إياس: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1503
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا الْهَجَرِيُّ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الْأَسْلَمِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جِنَازَةِ ابْنَةٍ لَهُ، فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا، فَمَكَثَ بَعْدَ الرَّابِعَةِ شَيْئًا، قَالَ: فَسَمِعْتُ الْقَوْمَ يُسَبِّحُونَ بِهِ مِنْ نَوَاحِي الصُّفُوفِ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: أَكُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنِّي مُكَبِّرٌ خَمْسًا؟، قَالُوا: تَخَوَّفْنَا ذَلِكَ، قَالَ: لَمْ أَكُنْ لِأَفْعَلَ، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا، ثُمَّ يَمْكُثُ سَاعَةً، فَيَقُولُ: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ يُسَلِّمُ".
ابراہیم بن مسلم ہجری کہتے ہیں کہ میں نے صحابی رسول عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے ایک بیٹے کی نماز جنازہ پڑھی، تو انہوں نے اس میں چار تکبیریں کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد کچھ دیر ٹھہرے، (اور سلام پھیرنے میں توقف کیا) تو میں نے لوگوں کو سنا کہ وہ صف کے مختلف جانب سے «سبحان الله» کہہ رہے ہیں، انہوں نے سلام پھیرا، اور کہا: کیا تم لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں پانچ تکبیریں کہوں گا؟ لوگوں نے کہا: ہمیں اسی کا ڈر تھا، عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایسا کرنے والا نہیں تھا، لیکن چوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار تکبیریں کہنے کے بعد کچھ دیر ٹھہرتے تھے، اور جو اللہ توفیق دیتا وہ پڑھتے تھے، پھر سلام پھیرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1503]
حضرت ابوبکر ابراہیم بن مسلم ہجری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں ان کی ایک بیٹی کا جنازہ پڑھا۔ انہوں نے اس کے جنازے میں چار تکبیریں کہیں۔ چوتھی تکبیر کے بعد وہ کچھ عرصہ ٹھہرے۔ فرماتے ہیں: میں نے صفوں کے اطراف سے لوگوں کو «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے کہتے سنا۔ انہوں نے سلام پھیر کر کہا: کیا تمہارا خیال تھا کہ پانچ تکبیریں کہہ دوں گا؟ حاضرین نے کہا: ہمیں تو یہی خطرہ محسوس ہوا تھا۔ انہوں نے فرمایا: میں تو ایسے نہیں کرنے لگا تھا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار تکبیریں کہہ کر تھوڑی دیر ٹھہرتے تھے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا وہ کہتے (مناسب دعا پڑھتے،) پھر سلام پھیرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1503]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5152، ومصباح الزجاجة: 535) وقد أخرجہ: مسند احمد (4/356، 383) (حسن)» ‏‏‏‏ (متابعات و شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں ابراہیم بن مسلم الہجری الکوفی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إبراهيم بن مسلم الھجري لين الحديث رفع موقوفات (تقريب: 2520) لين الحديث: أي ضعيف وأخرج البيھقي (4/ 35) بإسناد قوي عن أبي يعفور وقدان عن ابن أبي أوفي به نحوه مختصرًا وھو الصحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1504
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَبَّرَ أَرْبَعًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار بار تکبیریں «الله أكبر» کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1504]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز جنازہ میں) چار تکبیریں کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1504]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5891) (صحیح)» ‏‏‏‏ (دوسری سند سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں حجاج بن أرطاة مدلس ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں