سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ: مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ وَمَنِ انْتَظَرَ دَفْنَهَا
باب: نماز جنازہ پڑھنے اور دفن تک انتظار کرنے کا ثواب۔
حدیث نمبر: 1539
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنِ انْتَظَرَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ"، قَالُوا: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟، قَالَ:" مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ پڑھی، اس کو ایک قیراط ثواب ہے، اور جو دفن سے فراغت تک انتظار کرتا رہا، اسے دو قیراط ثواب ہے“ لوگوں نے عرض کیا: دو قیراط کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو پہاڑ کے برابر“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1539]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جنازے کی نماز پڑھی اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے اور جس نے انتظار کیا حتیٰ کہ اس (کے دفن) سے فراغت ہو جائے، اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: دو قیراط کیسے ہوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو پہاڑوں کے برابر۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1539]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأیمان 35 (47)، الجنائز 58 (1325)، صحیح مسلم/الجنائز17 (945)، سنن النسائی/الجنائز79 (1996)، الإیمان 26 (5035)، (تحفة الأشراف: 13266)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز45 (3168)، سنن الترمذی/الجنائز 49 (1040)، مسند احمد (2/2، 233، 246، 280، 321، 387، 401، 430، 458، 475، 480، 493، 498، 503، 521، 531) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1540
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ"، قَالَ: فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِيرَاطِ؟، فَقَالَ:" مِثْلُ أُحُدٍ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کی نماز جنازہ پڑھی، تو اس کو ایک قیراط ثواب ہے، اور جو اس کے دفن میں بھی شریک رہا، تو اس کو دو قیراط برابر ثواب ہے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیراط کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1540]
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جنازے کی نماز پڑھی اس کے لیے ایک قیراط (ثواب) ہے اور جو اس کے دفن تک حاضر رہا اس کے لیے دو قیراط (ثواب) ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قیراط کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احد (پہاڑ) کے برابر۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1540]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 17 (946)، (تحفة الأشراف: 2115)، مسند احمد (5/276، 277، 282، 283، 284) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1541
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ الْقِيرَاطُ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ هَذَا".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ پڑھی، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے، اور جو اس کے دفن تک جنازہ میں حاضر رہا اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، قیراط اس احد پہاڑ سے بڑا ہے ۱؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1541]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جنازے کی نماز پڑھی اس کے لیے ایک قیراط (ثواب) ہے اور جو حاضر رہا حتی کہ (میت کو) دفن کیا جائے، اس کے لیے (ثواب کے) دو قیراط ہیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، (ثواب کا) قیراط اس احد سے بھی بڑا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1541]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 23، ومصباح الزجاجة: 541)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/131) (صحیح)» (دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں حجاج بن ارطاہ مدلس ہیں)
وضاحت: ۱؎: اگرچہ قیراط نہایت ہلکا وزن ہے یعنی دانق کا آدھا، اور دانق ایک درہم کا چھٹا حصہ ہے، تو قیراط درہم کا بارہواں حصہ ہوا، یعنی تقریباً دو رتی، لیکن اللہ تعالی کے نزدیک یہ قیراط بہت بڑا ہے وہ جو پہاڑ سے بھی وزن میں زائد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح