سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ غَرِيبًا
باب: پردیس میں موت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1613
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ الْهُذَيْلُ بْنُ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَوْتُ غُرْبَةٍ شَهَادَةٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پردیسی کی موت شہادت ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1613]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے وطنی کی موت شہادت ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6147، ومصباح الزجاجة: 587) (ضعیف)» (ہذیل بن الحکم منکر الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الهذيل بن الحكم: لين الحديث (تقريب: 7271)
أي: ضعيف وللحديث شواهد كلھا ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 437
إسناده ضعيف
الهذيل بن الحكم: لين الحديث (تقريب: 7271)
أي: ضعيف وللحديث شواهد كلھا ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 437
حدیث نمبر: 1614
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِالْمَدِينَةِ فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ، قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مدینہ ہی میں پیدا ہونے والے ایک شخص کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: ”کاش کہ اپنی جائے پیدائش کے علاوہ سر زمین میں انتقال کیا ہوتا“ ایک شخص نے پوچھا: کیوں اے اللہ کے رسول؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی کا انتقال اپنی جائے پیدائش کے علاوہ مقام میں ہوتا ہے، تو اس کی پیدائش کے مقام سے لے کر موت کے مقام تک جنت میں اس کو جگہ دی جاتی ہے ۱؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1614]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ مدینہ میں ایک آدمی فوت ہو گیا، اس کی ولادت بھی مدینہ میں ہوئی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھایا اور فرمایا: ”کاش! وہ اپنے مقامِ پیدائش کے سوا (کسی اور مقام پر) فوت ہوتا۔“ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: اے اللہ کے رسول! (آپ یہ تمنا) کیوں (کر رہے ہیں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی پیدائش کی جگہ کے علاوہ کسی اور مقام پر فوت ہوتا ہے تو اس کے لیے مقامِ پیدائش سے مقامِ وفات تک پیمائش کر کے (اس کے برابر جگہ) جنت میں دی جاتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجنائز 8 (1833)، (تحفة الأشراف: 8856)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/177) (حسن)» (سند میں حُيَيُّ بن عبد اللہ المعافری ضعیف ہیں، اور ان کی احادیث منکر ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے)
وضاحت: ۱؎: یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جنت میں ادنی جنتی کو اس دنیا کے برابر جگہ ملے گی جیسے دوسری حدیث میں وارد ہے پھر اس حدیث کا مطلب کیا ہو گا۔بعض نے کہا: یہاں جنت سے مراد قبر ہے، اس کی قبر میں اتنی وسعت ہو جائے گی۔ بعض نے کہا: یہ ثواب کا اندازہ ہے یعنی اتنا ثواب ملے گا جو پیدائش سے لے کر موت کے مقام تک سما جائے۔ «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن