🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
61. باب : ما جاء فيمن مات غريبا
باب: پردیس میں موت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1614
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِالْمَدِينَةِ فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ، قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مدینہ ہی میں پیدا ہونے والے ایک شخص کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: کاش کہ اپنی جائے پیدائش کے علاوہ سر زمین میں انتقال کیا ہوتا ایک شخص نے پوچھا: کیوں اے اللہ کے رسول؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی کا انتقال اپنی جائے پیدائش کے علاوہ مقام میں ہوتا ہے، تو اس کی پیدائش کے مقام سے لے کر موت کے مقام تک جنت میں اس کو جگہ دی جاتی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1614]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ مدینہ میں ایک آدمی فوت ہو گیا، اس کی ولادت بھی مدینہ میں ہوئی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھایا اور فرمایا: کاش! وہ اپنے مقامِ پیدائش کے سوا (کسی اور مقام پر) فوت ہوتا۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: اے اللہ کے رسول! (آپ یہ تمنا) کیوں (کر رہے ہیں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی پیدائش کی جگہ کے علاوہ کسی اور مقام پر فوت ہوتا ہے تو اس کے لیے مقامِ پیدائش سے مقامِ وفات تک پیمائش کر کے (اس کے برابر جگہ) جنت میں دی جاتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الجنائز 8 (1833)، (تحفة الأشراف: 8856)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/177) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں حُيَيُّ بن عبد اللہ المعافری ضعیف ہیں، اور ان کی احادیث منکر ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے)
وضاحت: ۱؎: یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جنت میں ادنی جنتی کو اس دنیا کے برابر جگہ ملے گی جیسے دوسری حدیث میں وارد ہے پھر اس حدیث کا مطلب کیا ہو گا۔بعض نے کہا: یہاں جنت سے مراد قبر ہے، اس کی قبر میں اتنی وسعت ہو جائے گی۔ بعض نے کہا: یہ ثواب کا اندازہ ہے یعنی اتنا ثواب ملے گا جو پیدائش سے لے کر موت کے مقام تک سما جائے۔ «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن يزيد المعافري، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن يزيد المعافري ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥حيي بن عبد الله المعافري، أبو عبد الله
Newحيي بن عبد الله المعافري ← عبد الله بن يزيد المعافري
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← حيي بن عبد الله المعافري
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1833
الرجل إذا مات بغير مولده قيس له من مولده إلى منقطع أثره في الجنة
سنن ابن ماجه
1614
الرجل إذا مات في غير مولده قيس له من مولده إلى منقطع أثره في الجنة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1614 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1614
اردو حاشہ:
فائدہ:
اللہ کا یہ انعام اس مومن کے لئے ہے۔
جو وطن سے دور فوت ہوتا ہے۔
اور یہ محض اس کا احسان ہے۔
جس میں بندے کی کسی کوشش یا ارادے کو دخل نہیں۔
اس کے نیک اعمال کی وجہ سے اس کے علاوہ بھی جنت میں بہت سی جگہ مل سکتی ہے۔
لیکن یہ خصوصی انعام ہے۔
واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1614]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1833
اپنے مقام پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مدینے کا ایک آدمی جو وہیں پیدا ہونے والوں میں سے تھا مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (کے جنازے) کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: کاش! (یہ شخص) اپنے پیدائش کی جگہ کے علاوہ کہیں اور مرا ہوتا، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں تو آپ نے فرمایا: آدمی جب اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرتا ہے، تو اسے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے جائے موت تک جگہ دی جاتی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1833]
1833۔ اردو حاشیہ: یہ عام بات ہے۔ باقی رہا مدینہ منورہ میں فوت ہونا تو یہ بہت بڑی سعادت ہے جو اس بیان شدہ فضیلت سے کہیں بڑھ کر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مطلب نہیں کہ یہ شخص مدینہ منورہ سے باہر فوت ہوتا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کاش یہ مدینہ کا پیدائشی نہ ہوتا۔ کسی اور جگہ پیدا ہو کر یہاں ہجرت کرتا اور پھر مدینہ منورہ میں فوت ہوتا کیونکہ مدینے میں وفات کی فضیلت تو احادیث میں وارد ہے۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجہ، المناسک، حدیث: 3112، و مسند أحمد: 74/2) اور یہ مومن کے لیے بڑی سعادت ہے۔ یاد رہے کہ ہر سعادت کے حصول کے لیے صحیح ایمان شرط ہے ورنہ ہر چیز بے کار ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1833]

Sunan Ibn Majah Hadith 1614 in Urdu