سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ أَفْطَرَ نَاسِيًا
باب: روزہ میں بھول کر کھا پی لے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1673
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خِلَاسٍ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بھول کر کھا لیا اور وہ روزہ دار ہو تو اپنا روزہ پورا کر لے (توڑے نہیں) اس لیے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا اور پلایا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1673]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے روزے کی حالت میں بھول کر کچھ کھا لیا، اسے چاہیے کہ اپنا روزہ پورا کرے، اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1673]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 26 (1933)، سنن الترمذی/الصوم 26 (722)، (تحفة الأشراف: 12303، 14479)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم 33 (1155)، سنن ابی داود/الصوم 39 (2398)، مسند احمد (2/395، 425، 491، 513)، سنن الدارمی/الصوم 23 (1767) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1674
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ:" أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ غَيْمٍ، ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ"، قُلْتُ لِهِشَامٍ: أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ، قَالَ: لَا بُدَّ مِنْ ذَلِكَ.
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دن بدلی میں روزہ افطار کر لیا، پھر سورج نکل آیا، ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام سے کہا: پھر تو لوگوں کو روزے کی قضاء کا حکم دیا گیا ہو گا؟، انہوں نے کہا: یہ تو ضروری ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1674]
حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ابر آلود دن میں ہم نے روزہ کھول دیا (یہ سمجھے کہ سورج غروب ہو چکا ہے) لیکن پھر (بادل ہٹ گئے اور) سورج نکل آیا۔“ (ابواسامہ کہتے ہیں:) میں نے ہشام بن عروہ سے کہا: ”کیا انہیں (روزے کی) قضا کا حکم دیا گیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”یہ تو ضروری تھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1674]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 46 (1959)، سنن ابی داود/الصوم 23 (2359)، (تحفة الأشراف: 15749)، مسند احمد (6/346) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی قضا تو کرنا ضروری ہے ایسی حالت میں اس پر سب کا اتفاق ہے کہ جب دھوکہ سے روزہ کھول ڈالے بعد میں معلوم ہو کہ دن باقی تھا اور سورج نہیں ڈوبا تھا تو قضا لازم آئے گی، لیکن کفارہ لازم نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري