🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ
باب: روزہ دار بیوی کا بوسہ لے لے تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1683
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ فِي شَهْرِ الصَّوْمِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزوں کے مہینے میں بوسہ لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1683]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ رمضان میں (روزے کی حالت میں) بوسہ لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1683]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصوم 12 (1106)، سنن ابی داود/الصوم 33 (2383)، سنن الترمذی/الصوم 31 (727)، الصوم 21 (1763)، (تحفة الأشراف: 17423)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 24 (1928)، موطا امام مالک/الصیام 6 (18)، مسند احمد (6/30)، سنن الدارمی/المقدمة 53 (698) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ لینے کا جواز ثابت ہوتا ہے لیکن یہ ایسے شخص کے لیے ہے جو اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو اور جسے اپنے نفس پر قابو نہ ہو اس کے لیے یہ رعایت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1684
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِكُ إِرْبَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے، اور تم میں سے کون اپنی خواہش پہ ایسا اختیار رکھتا ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے؟ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1684]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیتے تھے، اور تم میں سے کسے اپنی خواہش پر اتنا قابو ہو سکتا ہے جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خواہش پر قابو حاصل تھا؟ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1684]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصوم 12 (1106)، الصوم 21 (1763)، (تحفة الأشراف: 17540)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 23 (1927)، سنن ابی داود/الصوم 33 (2383)، سنن الترمذی/الصوم32 (729)، موطا امام مالک/الصیام 6 (18)، مسند احمد (6/44)، سنن الدارمی/المقدمہ 53 (698) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1685
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1685]
حضرت ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1685]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصوم 12 (1107)، (تحفة الأشراف: 15798)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/286) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1686
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الضِّنِّيِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُمَا صَائِمَانِ؟، قَالَ: قَدْ أَفْطَرَا".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کا بوسہ لیا اس حال میں کہ دونوں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1686]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ لونڈی سیدتنا میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ اگر مرد اپنی بیوی کا بوسہ لے لے جبکہ ان دونوں کا روزہ ہو (تو کیا حکم ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں نے روزہ کھول دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1686]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18090، ومصباح الزجاجة: 610) وقد أخرجہ: مسند احمد (6/463) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (سند میں زید بن جبیر ضعیف اور ان کے شیخ ابو یزید الضنی مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو يزيد: مجهول (تقريب: 8451)
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں