🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب : ما جاء في القبلة للصائم
باب: روزہ دار بیوی کا بوسہ لے لے تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1685
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1685]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصوم 12 (1107)، (تحفة الأشراف: 15798)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/286) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حفصة بنت عمر العدويةصحابي
👤←👥شتير بن شكل العبسي، أبو عيسى
Newشتير بن شكل العبسي ← حفصة بنت عمر العدوية
ثقة
👤←👥مسلم بن صبيح الهمداني، أبو الضحى
Newمسلم بن صبيح الهمداني ← شتير بن شكل العبسي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← مسلم بن صبيح الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← علي بن محمد الكوفي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
2586
يقبل وهو صائم
سنن ابن ماجه
1685
يقبل وهو صائم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1685 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1685
اردو حاشہ:
فائدہ:
روزے کی حالت میں جماع کرنا حرام ہے۔
اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
اور کفارہ دینا لازم ہوجاتا ہے۔
لیکن اس سے کم تر معاملات سے روزہ نہیں ٹوٹتا تاہم جس شخص کو خطرہ محسوس ہو کہ پیار کرنے سے اس کے جذبات بے قابو ہوجایئں گے۔
اور وہ جماع کربیٹھے گا تو اس کو بوس وکنار سے بھی پرہیز کرنا چاہیے جیسے اگلے باب کی احادیث میں صراحت ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1685]