سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب : ما جاء في القبلة للصائم
باب: روزہ دار بیوی کا بوسہ لے لے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1685
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1685]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 12 (1107)، (تحفة الأشراف: 15798)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/286) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
2586
| يقبل وهو صائم |
سنن ابن ماجه |
1685
| يقبل وهو صائم |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1685 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1685
اردو حاشہ:
فائدہ:
روزے کی حالت میں جماع کرنا حرام ہے۔
اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
اور کفارہ دینا لازم ہوجاتا ہے۔
لیکن اس سے کم تر معاملات سے روزہ نہیں ٹوٹتا تاہم جس شخص کو خطرہ محسوس ہو کہ پیار کرنے سے اس کے جذبات بے قابو ہوجایئں گے۔
اور وہ جماع کربیٹھے گا تو اس کو بوس وکنار سے بھی پرہیز کرنا چاہیے جیسے اگلے باب کی احادیث میں صراحت ہے۔
فائدہ:
روزے کی حالت میں جماع کرنا حرام ہے۔
اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
اور کفارہ دینا لازم ہوجاتا ہے۔
لیکن اس سے کم تر معاملات سے روزہ نہیں ٹوٹتا تاہم جس شخص کو خطرہ محسوس ہو کہ پیار کرنے سے اس کے جذبات بے قابو ہوجایئں گے۔
اور وہ جماع کربیٹھے گا تو اس کو بوس وکنار سے بھی پرہیز کرنا چاہیے جیسے اگلے باب کی احادیث میں صراحت ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1685]
شتير بن شكل العبسي ← حفصة بنت عمر العدوية