سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَابُ: صِيَامِ الْعَشْرِ
باب: عشرہ ذی الحجہ کا روزہ۔
حدیث نمبر: 1728
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عَبِيدَةَ ، حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ وَاصِلٍ ، عَنِ النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا أَيَّامٌ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ أَيَّامِ الْعَشْرِ، وَإِنَّ صِيَامَ يَوْمٍ فِيهَا لَيَعْدِلُ صِيَامَ سَنَةٍ، وَلَيْلَةٍ فِيهَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کے کسی دن میں عبادت کرنا اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند نہیں جتنا کہ ان دس دنوں میں ہے، اور ان میں ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے، اور ان میں ایک رات شب قدر (قدر کی رات) کے برابر ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1728]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کے دنوں میں کوئی دن ایسا نہیں جس میں عبادت کرنا اللہ کو ان دس دنوں کی عبادت سے زیادہ محبوب ہو۔ ان میں ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور ان کی ایک ایک رات شب قدر کے برابر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1728]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم 52 (758)، (تحفة الأشراف: 13098) (ضعیف)» (نہاس بن قہم قوی نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (758)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441
إسناده ضعيف
ترمذي (758)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441
حدیث نمبر: 1729
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ الْعَشْرَ قَطُّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دس دنوں میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1729]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دس دنوں میں کبھی روزے رکھتے نہیں دیکھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16001)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الاعتکاف 4 (1176)، سنن ابی داود/الصوم 62 (2439)، سنن الترمذی/الصوم 51 (756)، مسند احمد (6/ 42، 124، 190) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی نو دن ہیں، یہ حدیث ان روایات میں سے ہے جن کی تاویل کی جاتی ہے کیونکہ ان نو دنوں میں روزہ رکھنا مکروہ نہیں بلکہ مستحب ہے، خاص کر عرفہ کے دن کے روزے کی بڑی فضیلت آئی ہے، ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بیماری یا سفر کی وجہ سے کبھی روزہ نہ رکھا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم